كنز الدقائق کیسے پڑھائیں؟شادمحمد شاد

Spread the love
كنز الدقائق کیسے پڑھائیں؟
شادمحمد شاد
————————–
 پچھلے کچھ دنوں سے میں کنز الدقائق کے ابواب و فصول کے خلاصے پوسٹ کی شکل میں پیش کرتا رہا, تو  کچھ دوستوں نے مسنجر اور کال کے ذریعے کنز الدقائق کی تدریس کے حوالے سے راہنمائی لینی چاہی۔ انفرادی طور پر تو کچھ نہ کچھ عرض کردیا، لیکن سوچا کہ یہاں بھی بقیہ دوستوں کے لیے کچھ معروضات پیش کی جائے۔ گرچہ میں کوئی بڑی شخصیت نہیں ہوں، لیکن اپنے اساتذہ سے جو کچھ سیکھا اور پچھلے پانچ سالوں میں جو تجربہ ہوا اس کا نچوڑ پیش کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں ہوتا۔ لہذا اس بحث کو درج ذیل نکات میں پیش کیا جاتا ہے:
پہلی بات:
پہلی اور اہم بات تو یہ ہے کہ کنز الدقائق ایک دقیق متن ہے۔ اس کے مطالعہ کے لیے جتنی کتابیں اور شروحات دیکھ سکتے ہیں، دیکھیں، لیکن پڑھاتے وقت اس کو متن ہی رہنے دیا جائے۔ اس کے مباحث و مسائل بیان کرتے وقت اس کو فقہ مقارن یا دلائل کے انبار لگاکر شروحات یا مطولات کے زمرے میں لانے سے بچیں، کیونکہ درجہ ثالثہ کے طلبہ عموما مبتدئینِ فقہ ہوتے ہیں، لہذا مزید تفصیلات کو "شرح وقایہ” اور "ہدایہ” جیسی کتابوں کے لیے رہنے دیا جائے۔
دوسری بات:
حلِ کتاب کے لیے کنز الدقائق پر مولانا احسن صدیقی نانوتوی کا حاشیہ بہت مفید ہے۔ اس کے علاوہ "تبیین الحقائق” بھی حلِ کتاب میں اہم ہے۔ جزئیات کے استقصاء کے لیے "البحر الرائق” کو دیکھنا مفید ہے۔ تبیین اور البحر کو یومیہ دیکھنا مشکل ہو تو کم از کم مشکل اور اہم ابحاث میں ضرور دیکھیں۔ اردو شروحات میں "تسہیل الحقائق” بہتر ہے، جس میں مفتی بہ قول کا تعین اور جدید و معاصر مسائل کو بھی نقل کیا گیا ہے۔
تیسری بات:
تدریس کے وقت درج ذیل امور کا اہتمام کریں:
1- باب شروع کرنے سے پہلے اس باب کا مکمل تعارف، اس میں پیش آنے والی اصطلاحات کی مکمل وضاحت کرنی چاہیے۔
2- ہر باب کے شروع میں اس باب کا مکمل خلاصہ طلبہ کے سامنے پیش کرنا نہایت مفید ہے۔ اس سے ایک تو مسائل کا استحضار رہتا ہے، دوسرا طلبہ کے لیے کتاب کی محتویات و عبارت کو حل کرنا بھی آسان ہوجاتا ہے۔ خلاصہ تیار کرنے کے لیے خود کتاب کا مکمل باب دیکھنا چاہیے, اس کے ساتھ "النتف فی الفتاوی للسغدی” بھی دیکھیں، یہ نہایت ہی اہم، جامع و مختصر ہے۔ اگر بیوع کے ابحاث جاری ہیں تو "فقہ البیوع” کو ضرور دیکھیں، بندہ خود بھی یہی کتاب دیکھتا ہے۔
3- ہر باب کے شروع میں اس باب سے متعلق قواعد و ضوابطِ فقہ طلبہ سے یاد کروائے جائے۔ اس سے تطبیقات کے فہم وا استحضارِ مسائل میں مدد ملتی ہے۔ اس کے لیے تین کتابیں اہم ہیں:
الف- سب سے اہم موسوعہ "معلمہ زاید للقواعد الفقہیہ والاصولیہ” ہے۔ یہ موسوعہ پی ڈی ایف اور سوفٹ وئیر کی شکل میں نیٹ پر دستیاب ہے. اس پر میں نے ایک پوسٹ لکھی تھی۔ اس میں فقہ کے ہر باب کے قواعد و ضوابط الگ الگ بیان کیے گئے ہیں۔
ب- دوسری کتاب ایک شامی عالم محمود حمزہ دمشقی کی "الفرائد البہیہ فی القواعد الفقہیہ” ہے۔ یہ بھی اہم ہے۔
ج- تیسری کتاب "اصولِ ہدایہ” ہے جو اعجاز احمد قاسمی نے جمع کیے ہیں۔ اگر یہ دستیاب نہ ہو تو مفتی ابولبابہ شاہ منصور صاحب نے ہدایہ پر جو کام کیا ہے، اس کے آخر میں ہر باب کے قواعد وضوابط کوجمع کیا گیا ہے، اس سے قواعد وضوابط کو لیا جاسکتا ہے۔
4- عبارت طلبہ سے ہی پڑھوائی جائے، جہاں غلطی ہو، اس کی نشاندہی کریں۔ پہلے ہر مسئلہ کی صورت آسان انداز میں بیان کی جائے پھر ضروری تفصیل کے بعد اس کو عبارت پر منطبق کیا جائے۔ اگر عملی مسئلہ ہے, جیسے قضاء و معاملات میں ہوتا ہے تو طلبہ ہی میں بعض کو مدعی، مدعی علیہ، بائع اور مشتری وغیرہ بناکر مسئلہ سمجھایا جائے۔ متعلقہ ابحاث میں جدید مسائل کو بھی بطور خلاصہ پیش کیا جائے۔
5- ہر مسئلہ میں مفتی بہ قول کا تعین ضروری ہے، اس کے لیے "قدوری کے مفتی بہ اقوال” نامی کتاب یا ہدایہ کے مفتی بہ اقوال جو "القول الراجح” کے نام سے مشہور ہے، دیکھنی چاہیے۔ "تسہیل الحقائق” میں بھی مفتی بہ اور راجح قول مل جاتا ہے۔
6- آخری کام: باب ختم ہونے کے بعد ایک دن سبق سے ناغہ کرکے اسی باب کا امتحان لینا یا تمرین حل کرانا نہایت ضروری ہے، جس میں اہم باتوں کے بارے میں سوالات کیے جائیں۔ یہ مشافہۃً بھی ممکن ہے ، لیکن تحریری زیادہ مفید ہے۔
 یہ چندمنتشر باتیں ہیں جو اس بارے ذہن میں آگئیں۔ اگر آپ کے پاس اس سلسلے میں تجربہ یا اساتذہ کی طرزِ تدریس کی بنیاد پر کوئی نئی، اہم بات ہے تو ضرور بتائیں تاکہ ہم سب مستفید ہوسکے۔

One thought on “كنز الدقائق کیسے پڑھائیں؟شادمحمد شاد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے