کثرت_تعداد یا رائے پر ریجھنے والے کے لیے ایک اہم چشم کشا تحریر!توقیر بدر آزاد ‏

Spread the love

کثرت_تعداد یا رائے پر ریجھنے والے کے لیے ایک اہم چشم کشا تحریر!


توقیر بدر آزاد 
جمہوری:
لوط(علیہ السلام) کو قوم کی رذالت قبول کرنی چاہیے تھی کیونکہ اکثریت ان کی تھی یہ ان کا مینڈیٹ تھا.
لبرلز:
لوط (علیہ السلام) کو قوم کو اس رذالت سے منع نہیں کرنا چاہیے تھا ان کو اس بات کی آزادی حاصل تھی خاص کر جب وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے تھے.
سیکولر:
دین کا ایسے جنسی تعلق میں کیا دخل ہے جہاں طرفین راضی ہوں.
تنویری(سائنسی مریض):
اس بے چاری قوم کی کوئی غلطی نہیں یہ وہ جینیاتی خلل کی وجہ سے کرتے تھے.
جمہوری اسلامی فلاحی ریاست:
ہم جنس پرست بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں ہم سب کو ان کا احترام کرنا چاہیے اس کام کی پریکٹس کرنے کے لیے ان کو ان کا حق ملنا چاہیے بلکہ پارلیمنٹ میں ان کی نمائندگی ہونی چاہیے.
 اسلام:
لوط علیہ السلام اس رذالت کو ہاتھ سے روکنے کی قدرت نہ ہونے کے باوجود زبان سے اس کو روکنے کی کوشش کی قوم کو نصیحت کی دل میں اس کو برا سمجھا باز نہ آنے پر اللَّهُ کے حکم سے اس علاقے سے نکل گئے پھر اللہ نے ان بدبختوں پر اپنا عذاب نازل کیا.
نتیجہ:
جمہوریت، لبرلزم، سیکولرازم، تنویریت، سول ڈیموکریٹک اسٹیٹ اپنی کلیات اور جزئیات ہر لحاظ سے اسلام سے متصادم ہیں، لوط علیہ السلام کی بیوی اگرچہ اس فحاشی میں عملا شامل نہیں تھی مگر وہ اس حوالے سے open minded تھی اس پر راضی تھی اس کا انکار نہیں کرتی تھی اس لیے اس کو بھی عذاب میں شامل کیا گیا.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے