خواتین کے جدید مسائل اور فقہ اسلامی میں ان کا حل!محمد اعظم ندوی

Spread the love

خواتین کے جدید مسائل اور فقہ اسلامی میں ان کا حل!

محمد اعظم ندوی
        
 فقہ اسلامی سے خواتین کا رشتہ:فقہ اسلامی دنیا کا سب سے زندہ ،پائیداراورمنصفانہ قانون ہے، اس کا اعتراف ۱۹۵۲ء میں لاہائی میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں مستشرقین نے بھی کیا تھا، یہ قانون قدرت کے صاف شفاف سرچشموں اللہ کی کتاب اوراس کے رسول کی سنت سے پانی لیتا ہے، اور زندگی کے کشت زاروں میں ڈالتا ہے،اس کا موضوع ہی اللہ کے مکلف بندوں کے افعال ہیں جن میں لا محالہ عورتیں بھی شامل ہیں؛اس لیے اس قانون میں ان کے مسائل کا حل بھی موجودہے، خواتین کے تعلق سے آیات احکام،اور احادیث احکام بڑی تعداد میں ہیں،اللہ تعالی کا ارشاد ہے:’’ویستفتونک فی النساء قل اللہ یفتیکم فیہن ((النسا:۱۲۷) (اور لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں،آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تم کو ان کے بارے میں حکم دیتے ہیں)،حضور اکرمﷺ کی احادیث میں جابجا عورتوں کے مخصوص مسائل کا ذکر ملتا ہے،’’فتاوی الرسولﷺ حول المرأۃ‘‘(خواتین سے متعلق رسول اللہﷺ کے فتاوی) پر بھی کئی کتابیں چھپی ہیں ،عورت کے ساتھ فقہ اسلامی کے تعلق کی بنیاد یہی نصوص ہیں۔
 اس کے علاوہ زندگی کے وہ بیشتر مسائل جو مردوعورت کی زندگیوں میں یکساں طور پر داخل ہیں ان میں بھی خواتین سے متعلق فقہی حل لازمی طور پر موجود ہے،فقہ نے عورت کو ہر حیثیت سے اس کے مسائل کا حل دیا ہے،خواہ وہ ماں ہو،یابیٹی،بہن یابیوی،یہاںسوتیلی ماں،ماں شریک بہن ، باپ شریک بہن، رضاعی بہن،خالہ اور پھوپھی کی مختلف قسموں، دیگر خاتون رشتہ دار، سب کا ذکر ملے گا،فقہ نے جب مردوعورت کی درمیانی صنف خواجہ سراؤں کی مشکلات دور کی ہیں،تو عورت کی کیوں نہیں،ہرزمانہ میں ان کا حل پیش کیا جاتارہاہے،اس میں تسلسل بھی ہے،اور بدلتے وقت کی آگہی بھی۔
 خواتین سے متعلق موجودہ فقہی جدوجہد:موجودہ دور میں بھی عورتوں کے شرعی مسائل تیز رفتاری سے حل کیے جارہے ہیں، اور یہ کام چارسطح پرہورہاہے،مختلف دارالافتا ء اور دارالقضاء کے ذریعہ،نسائیات پر مخصوص کتابوں کے ذریعہ،ابلاغیہ کے ذریعہ،اور مختلف مجامع فقہیہ اورفقہی اداروں کے ذریعہ جو اجتماعی طورپر مسائل کے حل کا اہتمام کرتے ہیں، جامعہ ازہر کی’’ مجمع البحوث الإسلامیۃ‘‘،رابطہ عالم اسلامی کے ماتحت قائم’’ المجمع الفقہی الإسلامي‘‘، تنظیم تعاون اسلامی کی فقہ اکیڈمی’’مجمع الفقہ الإسلامي الدولي‘‘،’’اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا‘‘،ادارۃ المباحث الفقہیہ( جمعیۃ علماء ہند)،’’مجمع الفقہ الإسلامي ‘‘، خرطوم،سوڈان،’’المجلس الأوروبي للإ فتاء والبحوث‘‘(European Council For Fatwa And Research) دبلن (Dublin)آئر لینڈ، اور’’مجمع فقہاء الشریعۃ‘‘، واشنگٹن،امریکہ ان میں سرفہرست ہیں۔
 اور بے شمار حساس مسئلوں میں ان اجتماعی اجتہاد کے اداروں کی بڑی اہمیت ہے،اس کا اندازہ موضوعات کی ان فہرستوں سے لگایا جاسکتا ہے جو ان اداروں کے فقہی سیمیناروں میں زیر بحث آئے ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں:حالت نشہ کی طلاق،عدالت کے ذریعہ دی گئی طلاق،ضبط ولادت،ایڈز،پلاسٹک سرجری،عورت اور سرگرم سیاست،رحم کو کرایہ پر دینے کا مسئلہ(Surrogacy)،خواتین کی ملازمت،عورت اور امامت،عورت اور منصب قضاء،برتھ کنٹرول اور فیملی پلاننگ،جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعہ نکاح وطلاق،مصنوعی بارآوری اورٹسٹ ٹیوب بے بی،پردے سے جڑے مختلف مسائل،مطالبۂ جہیز،مسیار میرج،تبدیلیٔ جنس کا مسئلہ،عورتوں کی دیت مردوں سے نصف کیوں ؟،عورت کسی بچہ کو اگر مدت رضاعت میں اپنا خون دیتی ہے تو کیا اس سے رضاعت ثابت ہوگی؟، ہیومن ملک بینک (Human Milk Bank) کا کیا حکم ہوگا،اورنکاح میں لڑکی کے اختیارات کیا ہوں گے،ان کے علاوہ بھی بے شمارمسائل پر بھی فیصلے ہوئے ہیں۔
 ان کوششوں کی خصوصیات اور قابل غور پہلو:ان فیصلوں کی ایک خصوصیت شرعی حدود وضوابط کی رعایت کے ساتھ یسر وسہولت ہے ،دوسری خصوصیت عورتوں کی صنفی نزاکت کا پاس ولحاظ ہے،جوحدیث:’’ رفقاً بالقواریر‘‘ (ان آبگینوں کے ساتھ ذرا نرم روی سے چلو)کی یک گونہ تعمیل ہے،اسی طرح ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ ان میں کسی بھی مسئلہ کے جائز وناجائزدونوں پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے؛تاکہ جواز کی شرطوں کی رعایت کرتے ہوئے ان پر عمل کی راہیں کھلی رہیں،مثال کے طور پر اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا نے خواتین کی ملازمت سے متعلق جو تجاویزطے کی ہیں، ان کی چند دفعات کا خلاصہ اس طرح ہے:شرعی حدودوشرائط کا پوراپورالحاظ کرتے ہوئے عورت کے لیے معاشی جدوجہد جائز ہے…خواتین گھر سے باہر نکلیں تو ان باتوں کا لحاظ ضروری ہے کہ اس میں ولی یا شوہر کی اجازت شامل ہو،سوائے اس کے کہ ولی یا شوہر نفقہ نہ دیتا ہو اور اس کے لیے سوائے کسب معاش کے کوئی چارہ نہ ہو،شرعی پردہ کی مکمل رعایت ہو…اجنبی مرد کے ساتھ تنہائی کی نوبت نہ آئے۔
 اور ان کے علاوہ سینکڑوں مسائل ہیں جو انفرادی طورپر مفتیان کرام سے معلوم کئے جاتے ہیں،جن میں لب و عارض ،اورزلف و ابروکے آرائشی مسائل سے لے کرقوموں کی امامت تک کے مسائل آتے ہیں،فتاوی میں بھی عموما ًوہ خصوصیات موجود ہیں جن کا ذکر اوپر فقہی فیصلوں کے تعلق سے کیا گیا مثلاًاسباب فسخ وتفریق میں عہد بہ عہدجو اضافے ہمیں ملتے ہیں عورتوں کے حقوق کے تعلق سے فقہ اسلامی کی حساسیت اور سنجیدگی کو بتاتے ہیں؛ لیکن کہیں کہیں بعض مسئلوں میں غلو ہوگیا ہے جیسے کسی عرب مفتی نے یہ فتوی دیا ہے کہ عورت پنسل ہل والی چپل اس لیے نہیں استعمال کرسکتی کہ قرآن نے جان کو ہلاکت میں ڈالنے سے منع کیا ہے،ظاہر ہے ہر پنسل ہل میں اتنی بڑی دلیل لانے کی ضرورت نہیں،یا تساہل ہوگیا ہے مثلاً بعض علما ء اس دور میں عورتوں کو تنہا سفر کی بلا شرط عام اجازت دیتے ہیں جبکہ یہ صریح حدیث کے مغایر ہے۔
 خواتین کے مسائل میں پیچیدگیاں:ان میں بعض مسائل توقدیم ہیں لیکن تحریک آزادیٔ نسواں(Feminism)اور میڈیاکی فسوں کاری ہے کہ وہ پھربھیس بدل کر آئے ہیں، خاص طور سے جب اقوام متحدہ نے سان فرانسیسکو میں میں یہ تجویز پاس کی کہ جنس کی بنیاد پر لوگوں میں تفریق نہیں کی جاسکتی (http\www.un.orgarabicaboutuncharter)اور اس فکر نے اس وقت ایک نیا موڑ لیا جب اقوام متحدہ نے میکسیکو میں عورتوں پر پہلی کانفرنس کی،اور اس سال کو International Womens year کے طور پر منایا،اس کے بعد میں ایک سیمینار میں عورتوں کے سلسلہ میں ہر قسم کے امتیاز کے خاتمہ پر اتفاق کیاگیااور۲۰۰۲ء تک ان تمام ممالک پر اس کی عمل آوری اقوام متحدہ کی طرف سے لازم کی گئی جو اس سے اتفاق کریں،اس معاہدہ کوسیڈاCEDAW یعنی(Convention on Elimination of All forms of Discrimination Against Women) کا نام دیا گیا۔
 اور اس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے جس کا اندازہ فؤاد بن عبدالکریم کی کتاب ’’المرأۃ المسلمۃ بین موضات التغییر وموجات التغریر‘‘(مسلم خاتون تبدیلی کے فیشن اور فریب کی لہروں کے درمیان)یااس جیسی دیگر کتابوں اور ذرائع ابلاغ سے ہوتا ہے، بعض نام نہاد مسلم مفکرین بھی اس آواز سے آواز ملا رہے ہیں جو مغربی آئینہ سے ہر مسئلہ کو دیکھتے ہیں،جس کا مقصد ہی عورت کو پبلک پراپرٹی بنادینا ہے، خالص اسلامی تصورات کی روشنی میں نہیں،انھیں اعتراض اس بات پر ہے کہ مسائل کے استنباط کا کام چونکہ اکثر مرد کرتے آئے ہیں؛اس لیے فقہ پر ذکوریت یعنی مردانہ انانیت یامردوں کی رعایت کا غلبہ ہے،اور اس میںنسائیات یعنی عورتوں کے مسائل کو حل کرنے میں سرد مہری پائی جاتی ہے،ان کے مسائل حل کم کئے جاتے ہیں،مشکلات زیادہ بڑھادی جاتی ہیں،اور ان کی ناقدری بھی کی جاتی ہے،ان کا کہنا ہے کہ طلاق اور نفقہ وغیرہ سے متعلق بعض فقہی جزئیات سے ایسامعلوم ہوتا ہے کہ عورت چیخ چیخ کر یہ فریاد کر رہی ہے کہ میں بے گناہ ہوں،مجھے بخش دیجیے،اورمفتی کہہ رہا ہے کہ ہم تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتے ،ہمارے فقہی قواعد یہی بتا رہے ہیں کہ فیصلہ مرد کے حق میں ہو،اس سلسلہ میں صرف روشن خیال مصری مفکرجمال البناء (م:۲۰۱۳ء(کی ظلمت آمیزکتاب ’’المرأۃ بین تحریر القرآن وتقیید الفقہاء‘‘(عورت قرآن کی عطاکردہ آزادی اورفقہاکی حدبندیوں کے درمیان)کاسرسری مطالعہ ہی کافی ہے،جس میں حجاب کے لیے صرف شہوت انگیز حصوں کو چھپالینا کافی قرار دیا گیا ہے،اور نکاح کی طرح طلاق میں بھی طرفین کی رضامندی کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔
 اس جیسے مسئلوں میں ہم حجاب،عورت کی دیت اور میراث،اختلاط مردوزن ،چہرے کے پردہ اورعورتوں سے مصافحہ وغیرہ کے مسائل کا ذکر کرسکتے ہیں، امریکہ میں عورت کی امامت، مصر میں’’ ختان المرأۃ‘‘(زنانہ ختنہ)،ہندوستان میں عمرانہ کیس اور اس کے بعد پئے بہ پئے سینکڑوں مسائل میڈیا میں محض زیب داستاں کے لئے بڑھائے گئے،کچھ مسائل تفقہ کے بغیر صرف ظاہرنصوص کی روشنی میں حل کرنے سے بحث کا موضوع بن رہے ہیں جیسے مردوں اور عورتوں کی نماز کے یکساں طریقے،ناپاکی کی حالت میں قرآن پڑھنے، وغیرہ کے مسائل میں شدت۔
 ان حالات نے خواتین کے مسائل کو پیچیدہ بنادیا ہے، ڈاکٹر مصطفی سباعی نے ’’المرأۃ بین الفقہ والقانون‘‘ میں بجا طور پرلکھا ہے: ’’أجمل ما في المجتمع من حیث العواطف، وأعقد ما في المجتمع من حیث المشکلات‘‘(عورت جذبات کے اعتبار سے معاشرہ کا سب سے حسین ،اورمشکلات ومسائل کے اعتبار سے معاشرہ کا سب سے پیچیدہ عنصربن چکی ہے)، بایں ہمہ ان تمام مسائل کو بحسن وخوبی حل کیا جارہا ہے،کچھ پر اتفاق ہے،اور کچھ اختلاف رائے کے ساتھ حل کئے جارہے ہیں۔
 یہ بھی قابل غور ہے کہ عام فتاوی میں خواتین کے مسائل کے جو حل پیش کیے جارہے ہیں ان میں شرعی نصوص کی رعایت کے ساتھ مسائل سے دوچار ہونے والی عورت کے حالات کالحاظ ہے یا نہیں؛چونکہ ایسے فتوے بھی صادر ہورہے ہیں جن میںتغیر فتوی(فتوی میں تبدیلی) کے اصولوں کی روشنی میں حالات اور علاقوں کی تبدیلیوں کا ان پر کوئی نظر نہیں آتا،اس کے برخلاف بعض فتوے بڑے بے باک اور قید سے آزاد معلوم ہوتے ہیں،اورصاف دعوت دیتے ہیں کہ ’’بے حجابانہ مرے دل سے شناسائی کر‘‘،آجکل عورتوں کے مسائل سے تاجرکوبھی دلچسپی ہے اور فاجرکوبھی، ایک کو اپنے اشتہار میں اس کی ضرورت ہے، دوسرے کو اپنے اشتہا کی فکر، حیرت انگیزہے کہ بعض فتوے ان کی زد میں آکریا ان کی ضد میں دیئے جارہے ہیں،فتوے کے روپ میں اس جدید اباحیت کا فقہ اسلامی سے کوئی تعلق نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے