شوق کو عازم سفر رکھئے!عمر فراہی ‏

Spread the love
شوق کو عازم سفر رکھئے!
عمر فراہی 

احمد ندیم صاحب نے ارون دھتی رائے کے حوالے سے ایک تبصرہ پوسٹ کیا ہے کہ 
"آخر نقشے کب سے مقدس ہوگئے”
دو مہینوں سے دلی میں کسانوں کے احتجاج کے باوجود موجودہ حکومت جس طرح اپنا فیصلہ واپس لینے کیلئے تیار نہیں ہے کہا جاسکتا ہے کہ آخر ” حکومت میں شامل چند لوگوں کےفیصلے کیوں کر مقدس ہونے لگے کہ یہ واپس نہیں لئے جاسکتے جبکہ فیصلہ لینے والے پارلیمنٹ کے ممبران بہت باشعور بھی نہ ہوں!
کہتے ہیں اسی کا نام جمہوریت ہے ۔خان افسر علی قاسمی نے آج ہی کے دن فیس بک پر ایک تبصرہ پوسٹ کیا ہے کہ روتی، بلکتی، سسکتی لرزتی میرے پاس آئی اور بولی کہ میں جمہوریت ہوں۔
دلی میں کسان ریلی اور احتجاج کے تعلق سے بہن بشرا انصاری کی ایک پوسٹ پر میں نے طنزیہ تبصرہ کیاکہ 
"اس طرح حکومت مخالف پوسٹ سے تو آپ کو مولانا وحیدالدین خان صاحب کی طرح حکومت سے پدما بھوشن ایوارڈ کبھی نہیں مل سکتا”!

انہوں نے اینٹ کا جواب لوہے سے دیتے ہوئے کہا کہ
"ایوارڈ خان اور سید کو چاہئے انصاریوں کو نہیں "
خان اور سید حضرات کو سنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔۔خان حضرات کی سرسید احمد خان سے لیکر احمد رضا خان صاحب , خان عبدالغفار خان اور وحیدالدین خان کےعلاوہ اگر فلم انڈسٹری کو بھی شامل کر لیا جائے یوسف خان سے لیکر شاہ رخ سلمان اور عامر خان کا شمار اس پوری انڈسٹری کے بے تاج بادشاہوں میں ہوتا ہے ۔اتفاق سے اس وقت پاکستان کے وزیراعظم بھی خان ہی ہیں ۔ہندوستان میں اسلام کی تبلیغ میں سیدوں کا اہم کردار رہا ہے ۔اس کے علاوہ جدید مدارس کے دور میں تحریک دیوبند ہو یا تبلیغی جماعت یا جمیعت العلماء یا جماعت اسلامی ان کے بانیان کو سید ہی سمجھا جاتا ہے ۔اتفاق سے آج بھی ان تحریکوں کے سربراہان کا تعلق سید برادری سے ہی ہے ۔خیر وقت کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی مہمان نوازی میں برادران انصار کی اپنی بھی سنہری تاریخ ہے۔ ویسے بہن بشرا انصاری نے صرف مزاقا ایسا کہا ہے ورنہ کیا انصاری کیا مرزا کیا افغان بکاؤ لوگ ہر جگہ ہیں۔
ملک کے جو سیاسی حالات ہیں تجزیہ نگاروں کے اس حق کو کوئی نہیں چھین سکتاکہ وہ موجودہ حکومت اور نظام کے خلاف بے لاگ تبصرہ نہ کریں۔ احمد ندیم صاحب کی ایک پوسٹ سے یہی سچائی جھلکتی ہے کہ
 ” میں نے ٹکٹ خرید کر تمہاری جمہوریت کی نوٹنکی دیکھی ہے اب تو میرا تماشا گاہ میں بیٹھ کر چیخنے کا حق بنتا ہے (پاش )
چیخنے کو تو ارون دھتی رائے بھی چیختی ہیں ۔۔اپوروا نند بھی چیختے ہیں ۔۔رویش کمار جیسے بہت سارے انصاف پسند غیر مسلم صحافیوں اور دانشوروں کی آوازیں بھی شدت کے ساتھ اٹھتی رہتی ہیں۔۔ان کے علاوہ گوری لنکیش گلبرکی اور پنسارےجیسے غیر مسلم سماجی کارکن چیخنے کی وجہ سے مار بھی دئیے گئے لیکن سن 84 سے جب سے میں نے وحیدالدین خان صاحب کو پڑھتا شروع کیا انہوں نے آرایس ایس اور جمہوریت کے دفاع میں صرف مسلمانوں اور مسلمانوں کے علماء پر ہی لعنت ملامت کی ہے آرایس ایس اور فاشسٹ طاقتوں کے خلاف کبھی لب کشائی نہیں کی ۔خان صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں کہ ان کی اس عظیم خدمت کا معاوضہ بالآخر ان کے پیاروں کی طرف سے انہیں مل ہی گیا ۔آج کسی وہاٹس اپ گروپ سے کسی نے مضمون نگار کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہ یہ صاحب خالد مخدومی اعظم گڑھ شاہ گنج سے تعلق رکھتے ہیں مجھے ایک مکتوب بھیجا ہے یہ بھی پڑھ لیں۔
 جماعت اسلامی کا ماؤتھ پیس(ترجمان) دعوت* بھارت کی اچھائیوں کے اعتراف کے بجائے ہمیشہ سے ہی بھارت کی کمیوں اور خرابیوں پر فوکس کرتا چلا آیا ہے- آخر کیوں؟
یہی کردار معصوم مرادابادی, عمر فراہی, افتخار گیلانی,اور سمیع اللہ صاحب جیسے لکھار نبھا رہے ہیں- یہ لوگ بھارت میں کیڑے نکالنے اور مسلمانوں کے لئے اسے ناقابل رہائش اور غیر موزوں ملک قرار دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں- رہ رہ کر بھارتیہ مسلمانوں کو داستان اندلس/روہنگیا/فلسطین سناتے اور آر ایس ایس کا بھیانک چہرہ دکھاتے رہتے ہیں- ان سبھی کی تحریریں فرقہ پرستانہ,منفی اور احساس عدم تحفظ کو بڑھاوا دینے والی ہوتی ہیں- انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اچھائیوں کے اعتراف کے ساتھ ساتھ,خرابیوں کی نہ صرف نشاندہی کی جائے بلکہ ان سے نجات پانے کی راہ بھی دکھائی جائے- کہتے ہیں صرف مسئلہ اجاگر کرنے والا غیر ,اور مسئلے کے ساتھ ساتھ,اسکا حل بتانے والا اپنا ہوتا ہے۔ خالد مخدومی صاحب جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ کے محترم رکن مولانا ریاض صاحب کے صاحبزادے ہیں جو بدقسمتی سے مولانا وحیدالدین خان غامدی حسن نثار طارق فتح اور آرایس کے ترجمانوں میں سے ہیں۔ میں خود ان کی لغویات کو وہاٹس اپ گروپ پر دیکھتے رہتا ہوں لیکن ڈاکٹر نگہت افتخار کے بقول کہ

شوق کو عازم سفر رکھئے!
بے خبر ہو کے سب خبر رکھئے!

مخدومی صاحب اپنے مرشد وحیدالدین خان صاحب کے نقش قدم پر اکثر ملاؤں تحریکیوں اخوانیوں اور فلسطینیوں کیلئے تو لعن طعن کرتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن ان کا لہجہ اسلام دشمن سلمان رشدی تسلیمہ نسرین طارق فتح یا توگڑیا وغیرہ کیلئے کبھی سخت نہیں ہوتا ۔شاید ان کے نزدیک صلح حدیبیہ کا یہی مفہوم ہے کہ اہل ایمان مسلمانوں کیلئے سخت اور غیر اہل ایمان کیلئے نرم ہوتے ہیں۔ اس تبصرے میں بھی انہوں نے الفاظ کو توڑ مڑوڑ کر منافقانہ کردار نبھایا ہے ۔۔۔کیا اخبار دعوت معصوم مرادآبادی عمر فراھی افتخار گیلانی اور سمیع اللہ خان جیسے لوگ بھارت میں کیڑے نکالتے ہیں ؟یا وہ ملک کے جمہوری نظام کی خرابیوں پر انگلی اٹھاتے ہیں ؟انہیں اس کی بھی تمیز نہیں ہے ۔خیر شوق کو عازم سفر رکھئے ۔ پدم بھوشن ایوارڈ بھی اتنی آسانی سے نہیں ملتا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے