علم کو مکتب اور مکتب کو ایک ریاست کی ضرورت ہے. عمر فراھی

Spread the love

علم کو مکتب اور مکتب کو ایک ریاست کی ضرورت ہے

عمر فراھی
علم کو عملی طور پر تجربے اور تحقیق میں تبدیل ہونے کیلئے ایک محفوظ پناہ گاہ کی ضرورت ہے ۔اس پناہ گاہ کو عام فہم زبان میں مکتب ,مدرسہ اور تجربہ گاہ یا فیکٹری بھی کہتے ہیں ۔مدرسے یا فیکٹری کو ایک شہر کی ضرورت ہےاور شہر کو ایک ریاست کی اور پھر اس ریاست میں عالم کے علم کو صحیح رخ دینے والے باشعور حکمراں نہ ہوں تو عالم اپنے علم کا کتنا ہی دریا کیوں نہ بہاتا رہے یہ علم اور ذہانت کا سیلاب سوائے ذہنی عیاشی واہ واہی like اور آپسی مقابلہ آرائی کے اور کچھ نہیں؟
تاریخ گواہ ہے کہ قومیں اور ریاستیں اسی وقت خوشحال رہی ہیں جب انہیں باشعور حاکم اور عالم دونوں کی رہنمائی میسر رہی ہیں یا وقت کے حکمرانوں اور عالموں کا آپس میں مضبوط رابطہ رہا ہو ۔قرآن میں بارہا انبیاء کرام کے بارے میں یہ بات آتی ہے کہ ۔۔۔۔ہم نے انہیں حکمت کی تعلیم عطا کی ۔یعنی ایک علم تو اللہ نے چرند و پرند اور ہر عام انسان کو عطا کیا جس کی بنیاد پر جہاں پرندے اپنے کھانے پینے اور رہنے کا خوبصورت نظم کرتے ہیں انسان اپنی ضروریات کے مختلف ایجادات سے دنیا کو آراستہ کرتا رہا ہے لیکن حکمت کی تعلیم جسے آپ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی قابلیت کہہ سکتے ہیں یہ علم اللہ نے اپنے انبیاء کرام یا اہل کتاب کو خاص طور سے عطا کیا تاکہ یہ گروہ اپنے نظم و ضبط کی طاقت سے دیگر عام انسانی علوم کو ضابطہ خداوندی کا پابند بنا کر اس کی صحیح رہنمائی کر سکے اور دنیا فتنے اور فساد اور فحاشی سے محفوظ رہے ۔
بدقسمتی سے جب علماء اور حکماء کے درمیان یہ رابطے ٹوٹ جاتے ہیں تو ایسی قومیں اور ریاستیں تباہی اور زوال کا شکار ہو جاتی ہیں مگر جس قوم کے علماء کے تحت الشعور میں سیاست اور ریاست کا کوئی تصور ہی نہ ہو یا یہ تصور فوت ہو چکا ہو ایسی قوموں کے مستقبل کے بارے میں دنیا کے کسی نجومی اور تاریخ دان نے کوئی پیشن گوئی بھی نہیں کی ہے ‌اور نہ ہی تاریخ میں ان کا کوئی ذکر ہی رہ جاتا ہے ۔بھارت میں 1947 کے بعد کے مسلمانوں کے علماء اور دانشور بے پناہ تعلیمی بیداری اور تعلیم یافتہ ہو جانے کے باوجود بھی اسی بحران سے گزرتے رہیں گے اور گزر رہے ہیں ۔اس کی وجہ ہم نے اوپر بیان کر دیا ہے اور وہ ہے ان کے علما اور دانشوروں کا صراط مستقیم سے بھٹک جانا ۔اب یہ الگ بات ہے کہ مختلف مسلکوں اور فکری تضادات کے بحران میں مبتلا ملت اسلامیہ ہند جو ابھی تک نماز میں ٹھیک سے ہاتھ باندھنے کا فیصلہ ہی نہیں کرپارہی ہے اور ان کے علماء جو آج بھی جمعہ کے خطبات میں وضو اور نماز کے فضائل بیان کرتے ہوئے نہیں تھکتے وہ ابھی ٹھیک سے صراط مستقیم کا اصل مفہوم بھی طئے کر پائے ہیں یا نہیں صراط مستقیم کی یہ بحث اپنے آپ میں اتنی اہم ہے کہ اللہ نے اس بحث کو ہر نماز میں لازم قرار دے دیا کہ دیکھو کون کس طرح کامیاب ہوا اور اللہ کے انعام کا مستحق ہوا اور کون مغضوب ہوا ۔قوم یہود 1948 سے پہلے تک مغضوب تھی 1948 کے بعد حاملین قرآن پر ہی غضب ڈھا رہی تو کیوں ؟
علم کو ایک مکتب اور مدرسے کی ضرورت ہے اور مدرسے کو شہر کی اور شہر کو ریاست کی اور ریاست کو مخلص اور باصلاحیت حکمران کی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے