عہد نبوی میں خواتین کی رفاہی اور سماجی سرگرمیاں!ایک طائرانہ نظر:محمد اعظم ندوی

Spread the love
عہد نبوی میں خواتین کی رفاہی اور سماجی سرگرمیاں!
ایک طائرانہ نظر:
محمد اعظم ندوی
استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام نے عورتوں کا دائرئہ کار مردوں سے الگ رکھا ہے، ان کی اصل ذمہ داری امور خانہ داری کو بہتر طور پر انجام دینا ہے، اور یہ خود ان کا بڑا کام اور امتحان ہوتا ہے کہ وہ گھر کے اندر کی دنیا کو اپنی سلیقہ مندی اور وفا شعاری سے ظاہری اور باطنی طور پر کہاں تک سنوار سکتی ہیں ، اگر کوئی عورت اس میں ناکام ہے اور ہزار دنیا کے کام کرلیتی ہے صفر ہے اس لئے کہ اس کے کام تو مرد کرنے سے رہے، وہ مردوں کے کام نمٹانے چلی، اور ادھر گھر کے اندر کی دنیا ویران ہوگئی۔
نزاکت، ذوق، لطافت، ترتیب، انتظام وانصرام، لطف و شفقت، صبر وضبط،انتظارواعتبار، عفو ودرگذر، معاملہ فہمی، عقلمندی، صبح خیزی،استقبال والوداع،عاجزی وانکساری ، جہد وعمل،دھیان،لگن،جماؤ، ٹہراؤ، دل جوئی،تسلیم ورضا اگر یہ اور ان جیسی اخلاقی خوبیوں کو آپ ایک قائد کی صفات قرار دیتے ہیں تو روزانہ ایک مہذب عورت اپنے گھر کی چہاردیواری میں ان کا عملی مظاہرہ پیش کرتی نظر آئے گی ،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتیں بے شمار وہ کام کرکے دکھاتی ہیں جو شاید ہم مردوں کی زبانوں پر صرف نظریاتی طورپرآجاتے ہیں اور جب ضرورت پڑتی ہے توہم اس کا عملی نمونہ پیش کرنے سے قاصر رہتے ہیں، چنانچہ یہ کہنا بے جا نہیں کہ ایک عورت اپنے گھر کی ملکہ ہے،اور ہر گھریلو ترقی کا سہرا بلکہ تاج اس کے سر پر ہے،عورت معاشرہ کا نصف حصہ ہے اور دوسرے نصف کو بھی وہی تربیت دیتی ہے،اور یہ تو سب جانتے ہیں کہ ہر کامیاب مرد کی کامیابی میں کسی جفا کش اور وفا کیش عورت کا ہاتھ ہوتا ہے ،اور یہ کہ ماں کی گودبچہ کا پہلا مدرسہ ہے،عربی شاعر نے کہاہے:
الأمّ مدرسة إذا أعددتَہا أعددتَ شعبًا طیّبَ الأعراق
(ماں اپنی ذات میں ایک مدرسہ ہے ،اگر آپ اسے تیار کرتے ہیں تو ایک پاکیزہ بنیادپوری نسل تیار کرتے ہیں)
عورت نے اپنے اس دائرہ میں اپنی عزت وعصمت کے تحفظ کے ساتھ ہر دور میں کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں،ہاں مشرقی عورتیں اور بطور خاص مسلم عورتیں گھر کے باہر کے کاموں میں مردوں کے ہم پلہ نہ ہوسکیں چونکہ ان کے سامنے قرآن کی یہ ہدایت تھی: ” وقرن فی بیوتکن”(الاحزاب:٣٣) (اور اپنے گھروں میں وقار کے ساتھ رہو) اس کا مطلب انہوں نے اسلامی تربیت کے نتیجہ میں یہ سمجھا کہ عورت کا اصل مقام اس اس کا اپنا گھر ہے،اور اس کا اصل فریضہ گھر اور خاندان کی تعمیر ہے،اگرچہ اس کے لئے ضرورت کے وقت پردے کے ساتھ نکلنا درست ہے،لیکن ایسی سرگرمیاں جو اس مقصد کو فوت کرتی ہوں نامناسب ہیں اور ان سے معاشرہ کا توازن بگڑتا ہے ،یہی وجہ ہے کہ اپنوں اور بیگانوں کی طرف سے چلائی گئی آزادیٔ نسواں کی تحریکوں اور مساوات مردوزن کے نظریات Feminism) ( کے باوجود اس اسلامی مزاج اور فطری حیا نے کبھی عام مسلم خواتین کو ایسا جری نہیں بنایا کہ وہ ”پہلے عورتیں”(Ladies first) کا جاہلانہ مطالبہ کریں، اور اس کی آڑ میں وہ اپنے فرض منصبی سے غافل ہوجائیں ، بایں ہمہ جب بھی ضرورت پڑی انہوں نے گھر کی دنیا سے باہر میدان عمل میں بھی اپنے جوہر دکھائے، چنانچہ تجارت،صنعت،زراعت،تدریس وترجمانی،جہاد ودعوت،خدمت خلق،دوا علاج غرض کے مختلف کاموں میں اپنا کردار ادا کیا اور سماج کی تعمیر میں دوہرا حصہ لے کر بھی دکھایا۔
آئیے ہم دیکھیں کہ خواتین نے عہد نبوی میں گھر سے باہر کن کن میدانوں میں کام کیا،اور اس طرح سماج کی تعمیر میں اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ مزید کتنا حصہ لیا، اورعنوان سے ظاہر ہے کہ ہم یہاں صرف عہد نبوی میں عورتوں کی سماجی ورفاہی سرگرمیوں پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں گے ،اس کو ہم درج ذیل چند خانوں میں تقسیم کرسکتے ہیں:
١۔ اسلامی لشکر میں زخمیوں کی مرہم پٹی اور مریضوں کی دیکھ ریکھ: خواتین جنگوں میں جایا کرتی تھیں اورزخمی مجاہدین کی مرہم پٹی کیا کرتی تھیں، حضرت انس بن مالک کی روایت ہے ”حضور اکرم ۖام سلیم اور انصار کی دوسری عورتوں کو غزوات میں لے جاتے تھے،تو وہ پانی پلاتی تھیں، اور زخمیوں کا علاج کرتی تھیں”(مسلم: باب قول اللہ تعالی وہو الذی کف ایدیہم عنکم الآیة، حدیث نمبر:١٨١٠) ،مشہور مجاہد صفت صحابیہ حضرت نسیبہ بنت حارث ام عطیہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہۖکے ساتھ سات غزوات میں حصہ لیا، میں غازیوں کے غائبانہ میں خیمہ میں رہتی تھی،ان کے لئے کھانا پکاتی تھی،زخمیوں کا علاج کرتی تھی،اور مریضوں کی تیمارداری کرتی تھی(مسلم:باب النساء الغازیات،حدیث نمبر:١٨١٢) حضرت انس فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ اور حضرت ام سلیم کوخدمت کے لئے کمر بستہ اپنی پشت پر مشکیزے اٹھاتے ہوئے دیکھا، زخمیوں کوپانی پلاتی تھیں اور(ایک بار نہیں بار بار) پلٹ کر پانی بھر کر لاتی تھیں اور انھیں پلاتی تھیں(مسلم: حدیث نمبر:١٨١١)آپ ﷺکے ساتھ اور بھی کئی صحابیات غزوات میں تشریف لے گئیں، جن میں ازواج مطہرات بھی تھیں، جب آپ ﷺجہاد میں تشریف لے جاتے تو ازواج کے درمیان قرعہ اندازی فرماتے اوران میں جو نام قرعہ میں آتا وہ حضور کی معیت کا مستحق قرار پاتا، سن ٦ ہجری میں غزوئہ بنی المصطلق میں حضرت عائشہ آپ کے ساتھ تھیں، حضرت ام سلمہ صلح حدیبیہ میں ساتھ تھیں۔
عام صحابیات میں دیکھیں تو حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء علاج ومعالجہ کے لئے غزوات میں نکلنے والی صحابیات میں پیش پیش تھیں، غزوئہ احد میں ام عمارہ نسیبہ بنت کعب نجاریہ کے جانے کا ذکر ملتا ہے،اور یہ بھی کہ انہوں نے حضورﷺکا دفاع کرتے ہوئے بہ نفس نفیس جہاد میں حصہ لیا تھا، یہی حال ام سلیم بنت ملحان کا بھی تھا ،وہ غزوئہ حنین میںاپنے شوہر حضرت ابو طلحہ کے ساتھ نکلی تھیں، جبکہ وہ اس وقت حمل سے تھیں،شکم مادر میںعبد اللہ بن ابو طلحہ تھے،اور پہلی بار جو شکست آمیز صورتحال پیدا ہوئی تھی اس وقت وہ بھی حضور کے ساتھ ثابت قدم رہنے والوں میں تھیں،ام سلیم کی بہن ام حرام بنت ملحان کا ہی بیان ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہﷺان لوگوں کے یہاں قیلولہ فرما رہے تھے، اسی درمیان مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے، کہتی ہیں: میں نے کہا: یا رسول اللہ! کس چیز نے آپ کو ہنسا دیا؟ فرمایا: میں نے کچھ لوگوں کوسمندرکی سطح پر(کشتی پر)اس طرح سوار دیکھا جیسے تخت پر بادشاہ ہوں،کہتی ہیں: میں نے کہا:ائے اللہ کے رسول!دعا فرمادیجئے اللہ تعالی مجھے بھی ان میں شامل فرمائے، آپ نے فرمایا: تم بھی ان میں سے ہو،دوبارہ پھر ایسا ہی ہوا، دوبارہ آپ نے فرمایا: تم پہلے لوگوں میں سے ہو، حدیث کے راوی حضرت انس فرماتے ہیں: ان سے حضرت عبادہ بن صامت نے نکاح فرمایا، اور سمندری راستہ سے جہاد کے لئے نکلے، تو ان کو بھی اپنے ساتھ لے گئے، جب لوٹے تو ان کے سامنے سواری کے لئے ایک خچر پیش کیا گیا، اس نے ان کو گرا دیا، جس کے نتیجہ میں ان کی گردن ٹوٹ گئی اور جاں بحق ہوگئیں(ابوداود: باب فضل الغزو فی البحر، حدیث نمبر: ٢٤٩٠) اس سے بڑھ کر یہ کہ حضرت ام سلیم نے تو غزوہ حنین کے دن اپنے پاس خنجر چھپائے رکھا تھا، جب حضور کو معلوم ہوا اور پوچھا یہ کیاہے؟ تو کہنے لگیں: ”اتخذتہ،ن دنا من أحد من المشرکین بقرت بہ بطنہ” (میں نے یہ خنجر اس لئے رکھا ہے کہ کوئی مشرک مجھ سے قریب ہوا تو میں اس کا پیٹ چاک کردوں)رسول اللہﷺکویہ سن کرہنسی آگئی(مسلم:باب غزوة النساء مع الرجال،حدیث نمبر: ١٨٠٩) ۔
رفیدہ انصاریہ یا اسلمیہ کا نام مشہور ہے کہ جب حضرت سعد بن معاذ خندق کی جنگ میں زخمی ہوئے تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ ان کو رفیدہ کے خیمہ میں لے جاؤ جو مسجد نبوی کے صحن میں ہے،تاکہ میں قریب سے ان کی عیادت کرتا رہوں، ان کا تعارف اس طرح کیا گیا ہے کہ ”کانت امرأة تداو الجرحی” (یہ زخمیوں کا علاج کرنے والی ایک خاتون تھیں) (الادب المفرد: باب کیف اصبحت؟،حدیث نمبر: ١١٢٩،التراتیب الاداریة، ٧٥٢،دار الارقم، بیروت)
ظاہر ہے عورتیں بے ترتیب نہیں نکل جاتی تھیں، بلکہ اپنے اپنے محرم کے ساتھ،اور مرہم پٹی کی خدمات بھی اپنے محرم مردوں کو ہی فراہم کرتی تھیں، اور ضرورة دوسروں کوبھی لیکن شرعی آداب کی رعایت کے ساتھ جیسا کہ علامہ نووی نے شرح مسلم میں وضاحت کی ہے۔
٢۔کاروباری سرگرمیاں: عہد نبوی میں خواتین نے تجارت کی ہے جس کی سب سے اعلی مثال ام المؤمنین حضرت خدیجہ بنت خویلد ہیں،وہ مکہ کی بڑی سرمایہ دار خاتون تھیں، ان کا بڑا تجارتی نیٹ ورک تھا،ان کا تجارتی قافلہ بھی شام کی طرف بڑے تزک واحتشام سے جاتا تھا، بہت سے مردان کا مال لے کر تجارت کے لئے جاتے تھے، نبی آخر الزماںﷺنے بھی ان کو یہ سعادت بخشی کہ آپ ان کے تجارتی قافلہ میں ان کے غلام میسرہ کے ساتھ شام تشریف لے گئے،حضرت یعلی بن امیہ کی ہمشیرہ نفیسہ کہتی ہیں کہ بُصری کے بازارمیں آپۖنے تجارت کرکے اس کا دوگنا فائدہ کمایا جتنا اور لوگ کمایا کرتے تھے (الاصابۃ: ١٠٠٨،دار الکتب العلمیہ،١٤١٥ھ) حضرت خدیجہ مضاربت(Sleeping Partnership)کرتی تھیں،جس میں ایک فریق مال لگاتا ہے دوسرا محنت کرکے نفع کماتا ہے جوطے شدہ معاہدہ کے مطابق دونوں آپس میں تقسیم کرتے ہیں ۔
قیلہ ام بنی انمار بھی ایک تاجر خاتون تھیں جو ایک موقع سے رسول اللہﷺکے پاس اپنے عصا پر ٹیکتے ہوئے آئیں اور اپنا تعارف ہی اسی طرح کرایا: ”یا رسول اللہ ن امرأة أبیع وأشتر” (ائے اللہ کے رسول! میں ایک کاروباری عورت ہوں) پھر کاروبار سے متعلق ایک مسئلہ دریافت کیا( الطبقات الکبری لابن سعد:٣١١٨، دار صادر بیروت) ۔
زید بن حارثہ کی اہلیہ محترمہ ام مبشر انصاریہ باغ کی مالک تھیں،اور اس میں بہ نفس نفیس کام بھی کرتی تھیں، اسی درمیان ایک مرتبہ حضور ﷺکا گزر ان کے باغ پر ہوا تھا جب آپﷺنے شجرکاری کی فضیلت بیان فرمائی تھی(مسلم: باب فضل الغرس والزرع،حدیث نمبر:٢٩٠١)۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود کی اہلیہ حضرت ریطہ بنت عبد اللہ دست کاری میں ماہر تھیں،اور ان کا ذریعہ آمدنی یہی کام تھا، حتی کہ اپنے گھر والوں پر اپنی یافت سے خرچ کرتی تھیں،حضور نے اس پر ان کو اجر کی بشارت دی تھی ( الطبقات الکبری لابن سعد:٢٩٠٨، دار صادر بیروت)۔
حضرت زینب بنت جحش ”صَنَاع الید” یعنی دست کاری میں ماہرتھیں،سلائی،دباغت اور دوسرے کام مہارت کے ساتھ انجام دیا کرتی تھیں، قد کم تھا،جب حضور کے بعد آپ کی ازواج میں سب سے پہلے ان کا انتقال ہوا تو امہات المؤمنین کو تعجب ہوا کہ آپ نے پیشن گوئی کی تھی کہ میرے بعد تم میں سب سے پہلے اس کی وفات ہوگی جس کے ہاتھ سب سے لمبے ہیں،اور اسی لئے دیوار کی طرف ہاتھ اٹھا کر ہاتھوں کی لمبائی ناپتی تھیں، ان کی وفات کے بعد یہ راز کھلا کہ اس سے مراد صدقہ کرنے میں سخاوت اور دریا دلی تھا،اورحضرت زینب اس میں سب سے آگے تھیں،اور اس میں آپ کی صنعتی مہارت کو بھی دخل تھا ( الطبقات الکبری لابن سعد:١٠٨٨، دار صادر بیروت) ۔
٣۔ خدمت ،سفارت وترجمانی،افتاء وتدریس:حضرت اسماء حضرت زبیر کی اتنی خدمت کرتی تھیں کہ ان کے پاس جو گھوڑا تھا اس کی بھی دیکھ بھال کیا کرتی تھیں،حضرت اسماء بنت ابی بکرسے روایت ہے کہ زبیر بن العوام نے مجھ سے نکاح کیا(جو رسول اللہﷺکے پھوپھی زاد بھائی تھے)ان کے پاس کچھ مال نہ تھا،نہ کوئی غلام تھا اور نہ کچھ اور،صرف ایک گھوڑا تھا،میں ہی ان کے گھوڑے کو چراتی،اور گھوڑے کا سارا کام کرتی،سائیسی بھی کرتی،اوران کے اونٹ(اس سے معلوم ہوتا ہے ان کے پاس ایک اونٹ بھی تھا)کے لیے گٹھلیاں بھی کوٹتی، اور اس کو چراتی بھی اور پانی بھی پلاتی،اور ڈول بھی سی دیتی،اور آٹا بھی گوندھتی،لیکن روٹی میں اچھی طرح نہیں پکا سکتی تھی،تو پڑوس کی انصاری عورتیں میری روٹیاں پکادیا کرتیں،اور وہ بڑی مخلص عورتیں تھیں،حضرت اسماء کہتی ہیں:میں زبیر کی اس زمین سے جو رسول اللہ ﷺنے ان کو مقطع کے طور پر دی تھی،اپنے سر پرگٹھلیاں لایا کرتی تھی،اور وہ مقطع مدینہ سے دومیل پر تھا…آگے فرماتی ہیں:پھر(میرے والد)حضرت ابوبکر نے ایک باندی مجھے بھیجی جو گھوڑے کاسارا کام کرنے لگی،انھوں نے گویا مجھے آزادکردیا(مسلم:کتاب السلام،باب جواز ارداف المراة،حدیث نمبر:٣٤ـ٢١٨٢)۔
اسماء بنت یزید انصاری مجلس رسول میں خواتین کی نمائندگی کرتی ہیں اور مردوں کے مقابلہ میں عورتوں کے اجرو ثواب کی بابت فکر مندی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کرتی ہیں، اور حضورﷺاس پر یہ فرماتے ہیں:”ہل سمعتم مقالة امرأة أحسن سؤالا عن دینہا من ھذہ؟” (کیا تم نے کسی عورت کو اپنے دین کے بارے میں اس سے بہتر سوال کرتے ہوئے پایا ہے؟) صحابہ نے فرمایا: نہیں یا رسول اللہ (التراتیب الاداریۃ، عبد الحی الکتانی، ٧٨٢، دار الارقم، بیروت)۔
شفاء بنت عبد اللہ جو ایک زیرک اورمعاملہ فہم خاتون تھیں، جواولین مہاجر صحابیات میں تھیں، حضور ﷺان پر اعتماد فرماتے تھے اور ان سے بعض معاملات میں مشورہ بھی لیتے تھے،ان کو حضرت عمرنے بازارکے بعض امور کا انچارج بنایا تھا جو ظاہر ہے عورتوں سے متعلق ہوتے تھے جیسا کہ کتانی نے تحقیق کی ہے،یہ واحد خاتون ہیں جنہوں نے ایک محتسب کا فریضہ انجام دیا تھا، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام صرف زبان سے نہیں ہاتھ سے بھی کیا کرتی تھیں،ان کے ہاتھ میں ایک کوڑا ہوتا تھا، (التراتیب الاداریۃ،٢٤٠١،امتاع الاسماع،المقریزی،٣٩٥٩،دار الکتب العلمیہ،بیروت،الآحاد والمثانی، ابوبکر الشیبانی، ٤٦ دار الرایۃ،ریاض)۔
ام حکیم بنت حارث بن ہشام اپنے شوہر عکرمہ بن ابی جہل کے اسلام لانے کا سبب بنیں، جب وہ فتح مکہ کے وقت یمن فرار ہوگئے تھے، حاتم طائی کی بیٹی سفانہ بنت حاتم اپنے بھائی عدی بن حاتم کے اسلام کا سبب بنیں۔
حضرت عائشہ صدیقہ روایت حدیث،تفسیر اورفقہ وفتاوی میں نمایاں مقام رکھتی تھیں،کم وبیش٢٢١٠ احادیث ان کی روایت سے ہم تک پہونچی ہیں،خانگی امور سے متعلق حضور اکرمﷺکے معمولات اور ترجیحات کے لئے خاص طور سے ان کی ذات مرجع کی حیثیت رکھتی تھی،کبار صحابہ دینی مسائل میںان سے رجوع ہوتے تھے،اجتہاد استنباط میں ان کا نمایاںمقام تھا،عبد الرحمن بن ابو القاسم جو حضر ت عائشہ کے پوتے ہوتے تھے وہ اپنے والد اور حضرت عائشہ کے بھتیجے حضرت قاسم بن محمد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمرکے دور خلافت میں بھی فتوی میں ان کی ایک خاص شان تھی۔
ان مختصر سے نمونوں کی روشنی میں اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ صحابیات مختلف سماجی اور رفاہی کاموں میں گھر کے باہر بھی بقدر ضرورت اپنی استطاعت کے مطابق حصہ لیتی تھیں، اور اس طرح انہوں نے شوہر کی خدمت،بچوں کی پرورش اور گھریلو کاموں کے ساتھ بہت سے ان کاموں میں حصہ لیا جو بظاہر مردوں کے لئے خاص سمجھے جاتے ہیں،اور ان کی سیرت مسلم خواتین کے لئے ہمیشہ نمونہ رہے گی کہ کس طرح اپنی عزت وعصمت کی حفاظت،شرعی پردہ کے اہتمام،اجنبی مردوں کے ساتھ بے تکلفی ،بے جا میل جول اور اشتراک عمل سے بچتے ہوئے صالح سماج کی تشکیل میں حصہ لیا جاسکتاہے،اورکس طرح ایک کامیاب ماں،بیٹی،بہن اوربیوی ایک کامیاب تاجر، سماجی خدمت گذار،صنعت کار،ڈاکٹر،داعیہ،عالمہ اور ماہر تعلیم بن سکتی ہے اور دنیا کو کو مختلف حیثیتوں سے فائدہ پہونچا سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے