قصہ ایک مغرور امیر اور خاکسار غریب کا: چند تربیتی اور ادبی پہلو۔ محمد اعظم ندوی

Spread the love
قصہ ایک مغرور امیر اور خاکسار غریب کا: چند تربیتی اور ادبی پہلو
محمد اعظم ندوی
 استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدر آباد

سورۂ کہف میں چار قصے بیان کئے گئے ہیں:
1- غار والوں کا قصہ
2 – دو باغ والے کا قصہ
3- موسی اور خضر علیہما السلام کا قصہ
4- ذوالقرنین کا قصہ
 ان میں دوسرا قصہ دو ایسے اشخاص کا ہے ، جن میں سے ایک کو اللہ تعالیٰ نے مالدار اور صاحب ثروت بنایا تھا ، جبکہ دوسرے کی قسمت میں غربت رکھ دی تھی ؛ لیکن پہلا اپنی خوشحالی کے باوجود ناشکرا ، احسان فراموش اور مغرور تھا اور دوسرا اپنی مفلوک الحالی کے باوجود اللہ کا شکر گذار ، احسان شناس اور عجز و فروتنی کا پیکر تھا ، قرآن مجید نے ان دونوں کا یہ واقعہ سورۂ کہف کی بارہ آیتوں (یعنی آیت نمبر : ۳۳ تا ۴۴ ) میں بیان کیا ہے ، دوسرے قرآنی قصوں کی طرح یہ بھی محض قصہ برائے قصہ نہیں ہے ؛ بلکہ درس و موعظت کا مجموعہ ہے ، شکر گذار اور ناشکرے دونوں قسم کے لوگوں کے نیک و بد انجام کا ذکر اس میں آگیا ہے ، اس واقعہ کے بارے میں مفسرین کی ایک رائے یہ ہے کہ اس میں بنی مخزوم کے دوبھائیوں کا تذکرہ ہے ، جن میں ایک کافر تھا جس کا نام ’’اسود بن عبد الأشد ‘‘ یا ’’ عبد الأسد ‘‘ تھااور دوسرا مسلمان تھا جس کا نام ’’ ابو سلمہ عبد اللہ بن عبد الأشد ‘‘ تھا ، ’’الإصابہ‘‘ میں یہ ذکر آیا ہے کہ حضور اکرم ا سے پہلے یہ ام سلمہ کے شوہر تھے ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی رائے ہے کہ یہ بنی اسرائیل کے دو بھائیوں کا تذکرہ ہے ، جن کے والد نے وفات کے بعد مال چھوڑا تھا ، ان میں سے ایک نے زمین خریدی اور دو باغ بنائے اور دوسرے نے اپنا مال صدقہ کردیا ؛ لیکن قرآن مجید نے اس طرف کوئی اشارہ نہیں کیا ؛ کیوںکہ قرآن مجید میں قصے جن عظیم مقصد کے لئے بیان کئے جاتے ہیں ان کے لئے قصوںکی ہر چھوٹی بڑی تفصیل کوئی اہمیت نہیں رکھتی ، اس بے بضاعت نے اس مختصر مضمون میں اسی مذکورہ قصہ کے بعض ادبی و تربیتی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے ۔
 تربیتی پہلو : 
 اس قصہ میں تربیت کرنے والوں کو یہ تربیت دی گئی ہے کہ کوئی مفید بات کسی کے ذہن نشیں کرنی ہو اور اس کو عمل پر آمادہ کرنا ہوتو اس مقصد کے لئے نتیجہ خیز قصوں اور مثالوں سے مدد لینی چاہئے ، چوںکہ سورۂ کہف میں اس قصہ کے ذکر سے پہلے مکہ کے ان سربر آوردہ لوگوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، جو مجلس رسول میں صرف اس لئے آنا گوارہ نہیں کرتے تھے کہ اس مجلس کے اٹھنے بیٹھنے والے لوگ ان کے ہم رتبہ نہیں ، کمزور اور کم حیثیت لوگ ہیں ، چشم ظاہر بیں کو دھوکہ ہوا تھا ، خوش نصیبی اور عروج و زوال کے پیمانے خود اپنی پسند سے قائم کئے گئے تھے ، جاہ و ثروت کو سعادت اور فقرو مسکنت کو محرومی تصور کیا گیاتھا ۔
محسن انسانیت کی رحمۃ للعالمینی کا حال یہ تھا کہ وہ حق کا پیام جس طرح ایک مفلس کی جھونپڑی تک پہونچانا چاہتے ـتھے ، وہیں خوابوں کے شیش محل میں رہنے والوں کو بھی اس سے سرفراز کرنا چاہتے ـتھے ؛ اس لئے کوئی ناز برداری نہیں صرف ان کی تھوڑی سی خاطر داری کی گئی تھی کہ کیا عجب ہے کہ یہ بھی ہدایت کی راہ پالیں ؛ لیکن خالق کائنات کو ان کے عزّو ناز میں اضافہ گوارہ نہ تھا ، چوںکہ ان کی عناد و سرکشی حد سے گذر چکی تھی ، اور اسی لئے ان کے دلوں پر محرومی کی مہر لگادی گئی تھی ؛ چنانچہ اس معمولی توجہ پر بھی اپنے محبوب سے روٹھ جانے کا اظہار کیا گیا اور تنبیہ کی گئی کہ آپ کی تمام تر توجہ انہیں رب کے نام لیواؤں پر رہنی چاہئے ، اور جن کے سر میں غرور کا سودا سمایا ہے ان کو یہ واقعہ سنادیں کہ بیجا فخر و مباہات کا کیا انجام ہوتا ہے ؟
 حضرت انسان کویہ احساس دلایا گیا کہ جب بھی کوئی نعمت ملے یا کسی چیز میں تفوق نصیب ہو تو اسے اپنے کمال کی جانب منسوب کرنے کے بجائے منعم حقیقی کا شکر بجالایا جائے اور جس نے سر اونچا کیا ہے ، اسی کی چوکھٹ پر سرنیاز خم کردیا جائے اور کبھی ’’ أنا أکثر منک مالاً وأعز نفرًا ‘‘کہ( میں تجھ سے زیادہ مالدار ہوں اور تجھ سے زیادہ طاقت ور نفری رکھتاہوں )، یا اس جیسے تکبر آمیز جملے زبان پر نہ آئیں ورنہ بالآخر کف افسوس ملتے ہوئے یہ کہنے کی نوبت آسکتی ہے ’’ یالیتنی لم أشرک بربی أحدًا ‘‘ (کاش میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہوتا) یا کاش میں نے ایسا نہ کیا ہوتا ، چوںکہ انسان کا تو حال یہ ہے کہ ؎
جس سر کو غرور آج ہے یاں تاج وری کا 
کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کار گہِ شیشہ گری کا
 حق و صداقت پر قائم رہنے والوں کو یہ بتادیا گیا ہے کہ غلطی پر کوئی بھی ہو اس کی اصلاح کی کوشش کی جائے ، کسی کی دولت یا منصب کا رعب زبان و قلم کو حق بات کہنے سے روک نہ سکے ، اس قصہ میں مغرور مالدار جب اپنی حیثیت کے اظہار پر پورا زور صرف کرچکا تھا اور اپنے لہلہاتے چمن کو دیکھ کر یہ تک کہہ دیا تھا کہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ دولت کبھی فنا ہوگی اور مجھے توقع نہیں کہ قیامت کی گھڑی کبھی آئے گی ، تاہم اگر کبھی مجھے اپنے رب کی طرف پلٹایا بھی گیا تو ضرور اس سے بھی زیادہ شاندار جگہ پاؤںگا ، چوںکہ یہاں خوشحال ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ میں ہی اپنے رب کا محبوب اور چہیتاہوں ، اسے یہ نہیں معلوم تھا کہ کسی دربار کا قانون یہ بھی ہوتا ہے کہ ؎
وہ جو سب سے ناکار ے ہیں ہم کو سب سے پیارے ہیں 
محفل محفل ڈھونڈ رہے ہیں ٹوٹے ہوئے پیمانے ہم
 ’’شکستہ دل عزیز تر‘‘ کا یہ قانون نہ جانے کتنے دلوں کی تسکین کا سامان ہے۔
دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اس کے اس فخر و غرور اور تکبر بلکہ انکار آخرت کی جرأت سے اس کا ساتھی اس کی ہدایت سے مایوس ہوکریا اس کی تمکنت سے متأثرہوکر نصیحت سے باز نہ آیا ؛ بلکہ صاف لفظوں میں اس کو اس کی حقیقت اور اوقات یاد دلائی اور برملا کہا کہ ’’ ۔۔۔کیا تو کفر کرتا ہے اس ذات سے جس نے تجھے مٹی سے اور پھر نطفہ سے پیدا کیا اور پھر تجھے پورا آدمی بناکر کھڑا کیا‘‘ ، گویا اس کو باور کرایا کہ تمہاری اصل مٹی سے ہے ، تمہاری ابتداء ناپاک قطرہ سے ہے اور اب جو تم جوان رعنا نظر آتے ہو یہ اسی قدرت کے کرشمے ہیں ، جس کی بغاوت پر تم آمادہ ہو ۔
افسوس کہ آج فیاضی کے ساتھ علماء اور دینی قائدین کی تنقید پر زور بیان اور زور قلم صرف کیا جاتا ہے اور اسے حق گوئی کانام دیاجاتا ہے ، اور بات سیم وزر کے ٹھیکہ داروں کی ہوتو جیب و دامن پر نظر کی جاتی ہے اور عقل مصلحت کوش اس طرح تسلی دیتی ہے کہ ؎
غالب وظیفہ خوار ہو دوشاہ کو دعا
وہ دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں
 اس قصہ سے معلوم ہوتا ہے کہ داعی کے اندر خودداری ، اعتماد اور عزت نفس جیسے اوصاف کا ہونا ضروری ہے اور خدا کی جانب سے ملی ہوئی نعمت کا اظہار بھی مطلوب ہے ، جیساکہ اس غریب بھائی نے کہا تھا :
{إِنْ تَرَنِ أَنَا أَقَلَّ مِنْکَ مَالاً وَّوَلَدًا oفَعَسٰی رَبِّیْ أَنْ یُّؤْتِیَنِ خَیْْرًا مِّنْ جَنَّتِکَ وَیُرْسِلَ عَلَیْْہَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَائِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًا oأَوْ یُصْبِحَ مَاؤُہَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ لَہٗ طَلَباًo } (الکہف : ۳۹ – ۴۱)
’’اگر تو مجھے مال اور اولاد میں اپنے سے کمتر پارہا ہے تو بعید نہیں کہ میرا رب مجھے تیری جنت سے بہتر عطا کردے ، اور تیری جنت پر آسمان سے کوئی آفت بھیج دے ، جس سے وہ صاف میدان بن کر رہ جائے یا اس کا پانی زمین میں اترجائے اور پھر تو اسے کسی طرح نہ نکال سکے ‘‘
اگر ہم ان دونوں بھائیوں کی گفتگو کا تجزیہ کریں تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دو باغوں والا بھائی یہ سمجھتا تھا کہ اس کی دولت ہمیشہ باقی رہنے والی ہے ، جبکہ غریب بھائی کا ایقان تھا کہ پوری دنیا بھی اگر حاصل ہوجائے توا یک لمحہ میں واپس لی جاسکتی ہے ، مالدار بھائی کا خیال یہ تھا کہ اس کی قیمت مال و اولاد سے ہے اور غریب بھائی کو یقین یہ تھا کہ اس کی قیمت و حیثیت اس کے ایمان و یقین میں پنہاں ہے ، مالدار یہ سمجھتا تھا کہ آخرت میں اس کی وہی حیثیت ہوگی جو دنیا میں ہے اور تنگدست بھائی اپنی نگاہ یقین سے دیکھ رہا تھا کہ آخرت میں ملنے والا انعام دنیا میں ملنے والے انعام سے زیادہ افضل اور زندۂ جاوید ہے ، مالدار کو یقین تھا کہ اس کی قوت سے بڑھ کر روئے زمین پر کوئی قوت نہیں ، اور اس کو ملنے والی نعمت کو کبھی زوال نہیں ، جبکہ اس مرد مؤمن کو یقین تھا کہ جب آسمان سے فیصلے ہوجاتے ہیں تو لہلہاتی کھیتیاں اجاڑ دی جاتی ہیں ، کھلتے ہوئے پھول پژمردہ ہوجاتے ہیں ، میووں سے لدے ہوئے باغات ٹٹیوں پر الٹ دئیے جاتے ہیں اور وہ سب کچھ ممکن الوجود ہوتا ہے ، جو اس آیت کی تصدیق کرادے کہ ’’ کل من علیہا فان ، ویبقی وجہ ربک ذو الجلال والإکرام ‘‘آج بھی دنیا میں دونوں نمونے موجود ہیں اور قرآن کی یہ آیات انہیں دعوت دے رہی ہے کہ دل کی نگاہ سے ان کی تلاوت کی جائے اور ثواب و عقاب کے اس قانون کو کبھی فراموش نہ کیا جائے ۔
 ادبی پہلو : 
قصہ ادب کی ایک اہم صنف ہے ، جس کا مقصد جہاں ذہن و دماغ میں نشاط پیدا کرنا ہوتا ہے ، وہیں حکمت آمیز باتوں سے عقل و دماغ کو صیقل کرنا بھی ہوتا ہے ، اس فن کو ہر زمانہ میں بڑی اہمیت حاصل رہی ہے ، چوںکہ ہنسنے والوں کو اس میں ، ایک طرح کا تفریحی سکون ملتا ہے اور لطف کا احساس ہوتا ہے ، حکایت کو قصہ کا بنیادی عنصر کہتے ہیں ، اور یہ انسان کے مزاج کا خاصہ ہے ، ہر شخص اپنی آپ بیتی ، روداد زندگی اور بیتے ہوئے لمحوں کی یادوں میں دوسروں کو شریک کرنا چاہتا ہے ، اور اس طرح کہیں نہ کہیں وہ ان کی حکایت کرتا ہے ، ادب کی یہ صنف انسانی مزاج سے سب سے زیادہ ہم آہنگ ہے ، چوںکہ اس کے اجزائے ترکیبیں روز مرہ کی زندگی کے سرد وگرم اور تلخ و شیریں سے تیار کئے جاتے ہیں ۔
قصہ کی خوبی یہ ہے کہ اس میں حسن انتخاب ہو ، زندگی اور معاشرہ کے تسلسل سے کسی ایک حصہ کو الگ کرکے نمایاں کیا گیا ہو ، ممکنہ حد تک اس کے آثار و نتائج اور فوائد پر نظر ہو اور نہایت سلیقہ اور ترتیب سے اس کو بیان کیا گیا ہو ، قرآن مجید کے اس قصہ میں یہ تینوں عناصر بدرجۂ اتم موجو دہیں ۔
قصہ کا ایک عنصر یہ ہے کہ اس میں ربط و ہم آہنگی ہو اور اس کو حقیقت سے قریب کرنے کی کوشش کی گئی ہو اور اس کا متن ایسا تیار کیا گیا ہو کہ اس میں تسلسل اور سلاست ہو ، قصہ میں ایک اہم کردار ایسی شخصیت یاشخصیات کا ہوتا ہے جن کے قصہ کا پلاٹ تیار کیا جاتا ہے ، قصہ کا تصدیق کے قابل ہونا بھی ضروری ہے ، محض اتفاقیات پر مبنی ہونا کافی نہیں ، جسے عربی میں ’’ حبکۃ قصصیۃ‘‘ کہتے ہیں۔ 
اسی طرح ’’ حوار ‘‘ یعنی مکالمہ نگاری کو بھی قصہ میں نہایت واضح اور بے غبار شکل میں پیش کرنا ہوتا ہے،قرآن مجید کے اس قصہ کا متن نہایت مربوط اور مرتب ہے ، دوبھائیوں کے درمیان جو گفتگو ہوئی ہے وہ اپنے اختصار کے باوجود نہایت واضح اور جامع ہے ۔
 بعض داخلی شہادتیں : 
ابن عاشور نے ’’ التحریر و التنویر ‘‘ میں لکھا ہے : ’’ واضرب لہم ‘‘ میں ’’ہم ‘‘کی ضمیر کو مبہم رکھا گیا ہے ، اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس کو ’’اضرب‘‘ فعل سے بھی متعلق کیا جاسکتا ہے ، اس طرح اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کے لئے مثال بیان کردیجئے اور اس طرح اس سے کفار مکہ مراد ہوںگے ، جیسے قرآن میں دوسری جگہ آیا ہے : { ضرب لکم مثلا من أنفسکم } (الروم : ۲۸)دوسرے یہ کہ اس کا تعلق مثلا سے ہو ، ایسے ہی جیسے حال کا تعلق ذو الحال سے ہوتا ہے ، اور پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان دو فریقوں (مؤمن اور کافر) کی مثال وہ دو باغ والے ہیں جن کا ذکر آگے آرہا ہے ، قرآن مجید میں اس کی بہت سی نظیریں ملتی ہیں ، جیسے { فلا تضربوا للہ الأمثال } (النحل :۷۴) قرآن مجید میں دوباغوں کی منظر کشی اس انداز سے کی گئی ہے کہ باغ کا پورا حسن سامنے آگیا ہے ، باغ کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ پھلدار درختوں سے گھرا ہوا ہو ، اور اس کے درمیان نہر جاری ہو ، درخت پھلوں سے لدے ہوئے ہوں اور اگر درمیا ن میں لہلہاتی کھیتیاں بھی ہوں تو حسن اور بھی دوبالا ہوجاتا ہے ، قرآن مجید نے ایک ایسے خوبصورت باغ کی تصویر کشی صرف دوآیتوں میں کی ہے:
{وَاضْرِبْ لَہُمْ مَّثَلاً رَّجُلَیْْنِ جَعَلْنَا لِأَحَدِہِمَا جَنَّتَیْْنِ مِنْ أَعْنَابٍ وَحَفَفْنَاہُمَا بِنَخْلٍ وَجَعَلْنَا بَیْْنَہُمَا زَرْعاً o کِلْتَا الْجَنَّتَیْْنِ آتَتْ أُکُلَہَا وَلَمْ تَظْلِمْ مِنْہُ شَیْْئاً وَّفَجَّرْنَا خِلَالَہُمَا نَہَرًاo} الکہف : ۳۲ – ۳۳)
’’اے محمد ! ان کے سامنے ایک مثال پیش کردو ، دو شخص تھے ان میں سے ایک کو ہم نے انگور کے باغ دئے اور ان کے گرد کھجور کے درختوں کی باڑ لگائی اور ان کے درمیان کاشت کی زمین رکھی ، دونوں باغ خوب پھلے پھولے اور بارآور ہونے میں انہوں نے ذارسی کسر بھی نہ چھوڑی ، ان باغوں کے اندر ہم نے ایک نہر جاری کردی ‘‘
 باغ اس شخص کے دو تھے ؛ لیکن جہاں باغ میں اس کے داخلہ کا تذکرہ ہے ، وہاں ’’ دخل جنتیہ‘‘ کے بجائے صرف ’’ دخل جنتہ‘‘ کہا گیا ہے ، علامہ زمخشریؒ نے لکھا ہے کہ یہاں مقصود ان دوباغوں یا ان میں سے کسی ایک تذکرہ نہیں ؛ بلکہ اس کا استہزاء ہے کہ وہ اپنی بنائی ہوئی جنت میں اسی دنیا میں داخل ہوگیا ، اس کا بھائی احمقوں کی اس جنت سے تو محروم رہا ؛ لیکن ہمیشہ باقی رہنے والی جنت اس کے مقدر کردی گئی ۔
قصہ کی ایک ادبی اور فنی خوبی یہ ہوتی ہے کہ اس کے نتائج بھی اخیر میں ذکر کردئے گئے ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اس مغرور بھائی کے انجام کا ذکر اس طرح کیا: 
{وَلَمْ تَکُن لَّہُ فِئَۃٌ یَنصُرُونَہٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَمَا کَانَ مُنْتَصِرًا}
’’نہ ہوا اللہ کو چھوڑ کر اس کے پاس کوئی بھی کہ اس کی مدد کرتا اور نہ کرسکا وہ آ پ ہی اس آفت کا مقابلہ ‘‘
 اور خدا نے اپنی قدرت کا اعلان اس طرح فرمایا کہ
{ہُنَالِکَ الْوَلَایَۃُ لِلّٰہِ الْحَقِّ ہُوَ خَیْْرٌ ثَوَابًا وَخَیْْرٌ عُقْبًا }
 ’’اس وقت معلوم ہوا کہ کارسازی کا اختیار خدائے برحق ہی کے لئے ہے ، انعام وہی بہتر ہے جو وہ بخشے اور انجام وہی بخیر ہے جو وہ دکھائے ‘‘۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے