خواتین میں دینی رجحان کا فروغ : درپیش مسائل، روشن امکانات:عین الحق امینی قاسمی

Spread the love

خواتین میں دینی رجحان کا فروغ : درپیش مسائل، روشن امکانات:

عین الحق امینی قاسمی
نائب صدر جمعیة علماءہند بیگوسرائے
   
   خواتین نصف انسانیت ہیں ،اُن کے دم خم سے ہی سماجی عناصر تشکیل پاتے ہیں ،مسلم سوسائٹی میں شخصی ارتقاءاور فکری عروج کے لئے اگر کوئی موزوں ترین اور مؤثر ترین طبقہ ہے تو وہ بلاشبہ ہماری مسلم خواتین کا طبقہ ہے ،جس میں قوت اظہار بھی ہے اور دولت افکار بھی۔خواتین ہی وہ بنیاد ہیں ،جس پر معاشرے کا رجحان تشکیل پاتا ہے ،ان خواتین کی شمولیت کے بغیر نہ فرد کا تصور کیا جاسکتا ہے اور ناہی سماج کا۔،سماجی گوشوں کو جاننے سمجھنے کے لئے یہ جان لینا کافی ہے کہ اس سماج ومعاشرے کی خواتین کا فکری رجحان کیا ہے ؟ سماج کے افراد کا فکری رجحان ،انہی خواتین کا آئینہ ہوتا ہے۔خواتین میں مذہب پسندی ،دین داری ،مذہب کے تئیں جذبہ قربانی ، دعوت وتعلیم کا فروغ ُصالحیت اور مثبت رجحان پیدا کرنے کے لئے ان میں دینی بیداری کے مواقع فراہم کرنا،تفہیم شریعت کے حوالے سے اُن خواتین میں دعوت ومذاکرہ کی کوشش کرنا اور دینی مواد اُن خواتین تک پہچانا وقت کی اہم ضرورت ہے ،موجودہ حالات میں خواتین کے اندر دینی رجحان پیدا کئے بغیر محض خارجی کوششوں سے نئی نسل کے ایمان وعقائد کی حفاظت کرنے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل ہم نہیں کرسکتے ،ہاں اگر خارجی کوششوں کے ساتھ گھر کی مسلم خواتین پر بھی ہماری محنت برابر جاری رہتی ہے ،ان مستورات کی ذہن سازی میں بھی ہم اپنی توا نائی صرف کرتے ہیں، تو یقینا جلد کامیابی ملنے کی امیدیں بڑھ جاتی ہیں۔
   ہماری صورت حال یہ ہے کہ موسمی ضروریات کی طرح ہم افراد پر محنت کرتے ہیں یا اُن سے کام لیتے ہیں ،اکثر دیکھا گیا ہے کہ ضرورت ختم، کام ختم ۔پھر نہ افراد کی تلاش اور نہ افراد کو تسلسل کے ساتھ جوڑے رکھنے کی دردمندانہ کوشش۔ بڑی مشکل سے تحریکوں سے کام کے افراد نکلتے ہیں ،اُن کی قابلیت ،صلاحیت ودیگر مطلوبہ ملی وسماجی خوبیاں ابھر کر سامنے آتی ہیں ،ہونا تو یہ چاہئے کہ ایسے افراد پر ہماری پینی نگاہ ہو اور انہیں ضائع کئے بغیر ساتھ لے کر ،ٹاسک دے کر ،کام لیتے رہنے کی جد وجہد جاری رہتی ،مگر عموماًایسا ہونہیں پاتا ہے ،اس کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ ضرورت کے وقت پھر سے افراد سازی کرنی پڑتی ہے ،کام کے احباب کو تلاشنا پڑتا ہے، ا ُن میں نیا جوش وجنون پیدا کرنا ہوتا ہے ،تب تک پرانے ساتھی سرد پڑ چکے ہوتے ہیں ،اب اُن میں نہ پہلے والا جنون نظر آتا ہے اور نہ دینی جذبہ۔اس کی ایک زندہ مثال: 
گزشتہ دوسال قبل طلاق ثلاثہ کے سلسلے میں ملک بھر کے اندر خواتین میں دینی رجحان کا زبردست فروغ دیکھنے اور سننے کو مل رہا تھا خواتین کا اپنے مذہب اور اپنی شریعت کے تعلق سے جو سرفروشانہ جوش و ولولہ تھا ،وہ قابل دید وتقلید تھا ،اُن میں خواتین وِنگ کے ذریعے یا دیگر ذرائع سے تفہیم شریعت کی اچھی اور خوش آئند محنتیں ہورہی تھیں ،جس کا نتیجہ تھا کہ ہر آنے والی صبح اپنے پرسنل لاکے تئیں دینی وفکری رجحان سے مربوط اور مسلم پرسنل لاکے خلاف ہونے والے فیصلوں کو واپس کرنے کے حق میں لاکھوں کی تعداد میں خواتین چل کر سرکاری اداروں کو میمورنڈم سونپتے ہوئے یہ واضح کردینا اپنا فرض سمجھی تھیں کہ شریعت کا قانون ہمیں عزیز ہے ،’مسلم پرسنل لاءمیں مداخلت منظور نہیں، ‘طلاق بل واپس لو۔یا اسی طرح گزشتہ برس سی اے اے کے سلسلے میں شاہین باغ تحریک سے وابستہ خواتین نے عالمی برادری تک اپنے احساسات پہنچانے میں کامیاب رہیں۔اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ انہیں مختلف ذرائع سے یہ بتا یا گیا تھا کہ طلاق ثلاثہ پر قانون کا مطلب تمہاری شریعت پر سیدھا حملہ کرنا ہے ،جب کہ سی اے اے کے ذریعے تمہارے وجود پر حملہ ہے ،سمجھانے بجھانے کے اِسی تسلسل کو باقی رکھتے ہوئے آج بھی خواتین تک یہ پیغام پہنچانے کی ضرورت ہے کہ اب باری تمہارے عقیدئہ توحید ورسالت کی ہے ،جس کے نتیجے میں وہ، تمہاری نسلوں کو ارتداد تک لے جانا چاہتے ہیں ، کیا تم اس بات پر راضی ہوگی کہ جس کوکھ نے مسلم بچے کو جنم دیا ،وہ اب ارتداد ی سازش کا شکار ہوجائے ؟اگر نہیں ،تو پھر تمہیں دین کی جانکاری حاصل کرنا ، صحابہؓ وصحابیہؓ کی سیرت کا مطالعہ کرنا ،اپنے اندر دینداری لانا اور دوسروں تک دین کے پیغام کو پہنچاکر اپنی نسلوں کی دینی بنیاد پر تربیت کرنا ، انہیں منکرات سے پاک ماحول فراہم کرنا ،تمہاری عظیم تر ذمہ داری ہے۔
  اُس موقع پربڑی جد وجہد کے بعد بلاک سطح پر چند باحوصلہ ، قابل اور بہت سی علمی شعور رکھنے والی خواتین کی قیادت مندانہ صلاحیتوں کا علم ہوسکا تھا ،مگر ہم نے انہیں کھودیا ، بلاک سطح پر اُن کی ابھرتی ہوئی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وومینس وِنگ بنا کر دیہی اور شہری حلقوں میں خواتین کے دینی رجحان کے فروغ کا کام لیا جا سکتا تھا ،اُن حوصلہ مند لائق و فائق خواتین کی ضلع سطح پر ایک مرکزی کمیٹی بناکر اور پھر اُس کمیٹی کے تحت بلاک سطحی کمیٹیاں تشکیل دی جاتیں ،تو مسلم عورتوں میں دینی رجحان کے حوالے سے گھر گھر محنت کی شکل بن پاتی اور ایک بڑا کام جو خواتین میں کرنے کا ہے، وہ اس طرح سے قابو میں آسکتا تھا ،ورنہ ہمارے پاس گھر کی عورتوں پر دینی محنت کرنے اور دعوت دین پہنچانے کے کو ئی مضبوط و مستحکم ذرائع نہیں ہیں اور نہ ہی ہم نے اس طبقے کو تفہیم شریعت کے حوالے سے اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے یا اس کے لئے کوئی باضابطہ ہماری تیاری ہے۔
اس وقت ظاہر بیں میں واسطہ یا بالواسطہ طور پر اقامت دین کا جو بھی طریقہ ہمارے پیش نظر ہے ،اس میں براہ راست ہم نے مقابل جنس یعنی صرف مردوں کو مخاطب بنایا ہوا ہے ،اگر خواتین کا ذکر آتا بھی ہے تو ضمناً یا برکتاً،مثلا جلسے جلوس ،جمعہ وعیدین کے موقع پر ہونے والے خطاب ،مدارس، اسکولس ،میٹنگیں،اخبار ورسائل میں لکھے جانے والے مضامین،پمفلٹس،کتابچے ،سیمنار ،کانفرنسیں اور یا جو کچھ آپ سب کے ذہن میں ہے،دینی محنت کے اعتبار سے ہم نے انہیں تین نمبر پر رکھا ہے ، پہلے نمبر پرعام مسلم مرد حضرات ،دوسرے نمبر پر نئی نسل کے نام سے طلباءونوجوان اور تیسرے نمبر پر خواتین۔جب کہ کام کی اہمیت وضرورت کے اعتبار سے دینی فکر وشعور کو بیدار کرنے کے تئیں طبقہ نسواں کو پہلے کالم میں رکھنے کی ضرورت ہے۔
  جب تک ہمارے سماج کی خواتین بیدار نہیں ہوں گی ،دین کے تحفظ و بقا اور اس کے فروغ کے لئے ان میں جذبہ صادق پروان نہیں چڑھے گا ، ہماری ساری محنتیں یک ُرخی کہلائیں گی ،اُن مستورات کو اعتماد میں لے کر ،اُن کے اندر صالح سماج کی ذمہ داری کا احساس پیدا کر جب سمت سفر طے کریں گے اور پھر عازم سفر ہوں گے ،تو اُن کا بھر تعاون بھی ہمیں حاصل ہوگا اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ جب ہم تھک چکے ہوں گے ،تب یہ مورچے کو تھام کر نئی حد بندی کے ساتھ زمانے کو للکارتے ہوئے آگے بڑھنے کا کام کریں گی۔فروغ اسلام میں خواتین کا جو کردار رہا ہے وہ ہمارے لئے اسوہ اور نمونہ ہے ،ہماری باصفا اور باکردار خواتین، جنت کی دلدادہ ہیں،اُن کے لیے ازواج مطہراتؓ اور صحابیاتؓ کی سیرت ہی رول ماڈل ہے، وہ اُنہیں کی پیروی اور کامل اتباع میں کامیابی کایقین رکھتی ہیں،یہ دین و شریعت کی حفاظت کے لیے آج بھی صحابیاتؓ کا کردار ادا کرسکتی ہیں۔
   یہ مسلم خواتین اورملت کی بیٹیاں اپناسب کچھ داؤپر لگاسکتی ہیں ،مگراپنے جیتے جی دین و شریعت اور اس کے قوانین پرآنچ آنے دیناگوارہ نہیں کرسکتیں۔یہ جانتی ہیں کہ ہمارے رسول محمد صل اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ نے بچوں کو یتیم، بیویوں کو بیوہ اور مالوں کو قربان کرکے دین کو ہم تک پہنچایا ہے، دین وشریعت کی اشاعت وحفاظت کے لیے حضرت خنسائؓ وسمیہؓ جیسی باکمال خاتون نے اپنے سامنے اولاد وشوہر کی شہادت کے ساتھ اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا توگوارہ کرلیا، مگرنبی ﷺکی ذات ومشن پرکوئی حرف آئے ، اسے برداشت نہیں کیاہے۔ہماری خواتین بھی اپنے اندر دین اسلام کے تئیں صحابیاتؓ والی سوزو ساز رکھتی ہیں ،وہ کسی پل بھی اپنے دین وایمان کا سودا نہیں کرسکتیں ،وہ بھی دین کے لیے ہر طرح کی جانی مالی قربانی کے لیے تیار رہ سکتی ہیں، اپنے گھروں میں پردے کے اندر رہ کر بھی بہت کچھ کر گذر نے کا مبارک جذبہ رکھتی ہیں،مسائل آئیں گے اور آتے رہیں گے، مگر دین وشریعت کے مفاد کو سامنے رکھ کر اس کامقابلہ کرتے رہنے کی اُن میں کامل شعور بھی ہے اور باطل کے مقابلے کے لئے ان میں حرارت ایمانی کے ساتھ جرئت گفتار بھی۔
   اگر ان تمام پہلو ؤں کو ذہن میں رکھ کر تسلسل کے ساتھ کام کو کیا جائے، تو ماضی کی طرح ان خواتین اسلام کی مدد سے آئندہ بھی دینی رجحان کے فروغ کے لئے بہت سے روشن امکانات سامنے آئیں گے ،جس سے ہماری مسلم برادری میں بھی انقلابات کو مستحکم کرنے کا حوصلہ تشکیل پائے گا۔ضرورت ہے کہ ضلع سے بلاک اور بلاک سے پنچائت اور وارڈ سطح پر خواتین وِنگ کو منظم کرنے کی ،تاکہ اُن کے اندر دینی رجحان کا فروغ بھی ہو اور ملکی سطح پر بھی تعلیمی ،اصلاحی ،رفاہی ،سماجی اور مذہبی رجحان کے ساتھ قوم وملت کے کام آسکیں اور اِسی رجحان پر اپنی نسلوں کی پرورش و پرداخت کر صالح سماج کی تشکیل میں قیادت مندانہ نظرئیے کوجنم دے سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے