موت کے مہیب سائے۔ محمد اعظم ندوی (استاذ المعھد العالی الاسلامی حیدرآباد)

Spread the love

موت کے مہیب سائے۔
محمد اعظم ندوی
(استاذ المعھد العالی الاسلامی حیدرآباد)


ہمارے ملک میں کورونا کی دوسری لہراوراس آفت جاں کے شدید اثراور قہر نے ایک کہرام برپا کردیا ہے،ہر سو موت کا منظر ہے،ان کربناک حالات نے شاید سب سے زیادہ جس چیز کی فکر بڑھادی ہے،وہ موت ہے،یعنی ہمارا وہ انجام جس سے ہم سب کو دوچار ہونا ہے،کوئی جا چکا، کوئی دیر سویر جائے گا، ہمیشہ رہنے کے لیے کوئی نہیں آیا،موت کو دوسری اور ابدی زندگی کا آغازکہیں یا دنیوی زندگی کے مرحلہ وار سفر کی آخری منزل اور اخروی زندگی کے منزل مقصود کی طرف روانگی،ایک ہی بات ہے،اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے اس کے لیے تیاری کیا کی ہے؟موت ایسی حقیقت ہے جس میں ادنی شک وشبہ نہیں،لیکن یہ ایسا یقین بھی ہے جولوگوں کے رویہ کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یقین نہیں، شک ہے، حضرت عمر بن عبد العزیز نے فرمایا: ”ما رأیت یقیناً أشبہ بالشک من یقین الناس بالموت،ثم لا یستعدّون لہ، یعن کأنہم فیہ شاکون”(تفسیرقرطبی:٦٤١٠)( میں نے لوگوں کے موت کے بارے میں یقین کی طرح کوئی ایسا یقین نہیں دیکھا جو شک جیسا ہو،پھر وہ اس کی تیاری نہیں کرتے جیسا کہ انہیں موت کے بارے میں شک ہو)۔

نام نہاد ترقی یافتہ دنیا موت سے برسرپیکار معلوم ہوتی ہے، موت سے لڑتی ہیں، مرگ انبوہ کو جنگ قرار دیتی ہے، اور اس کو شکست دینے کی بات کرتی ہے،اور کیوں نہ ہو!اس سے پہلے وہ اللہ سے لڑائی مول لے چکی ہے،کہنے والوں نے تو یہاں تک کہا کہ نعوذ باللہ خدا مرچکا ہے، اب نہ حساب کا ڈر ہے نہ عقاب کا کھٹکا!اس زمانہ میں سائنسی ترقی اور لہو ولعب کے وسائل کی کثرت نے انسان کوسچائی اور انصاف کے ساتھ سوچنے کا موقع ہی نہیں دیا ہے کہ اس زندگی کی حقیقت کیا ہے،اور اس کا نجام کیا ہے،کبھی زمانہ اس کو کچھ غور وفکر کی فرصت بھی دیتا ہے تو بے جامشغلوں اور مسائل کا طوفان اسے دوسری طرف اڑا لے جاتا ہے،اور غفلتوں کی موج بلا اسے بہاکر دوسرے کنارے لگا دیتی ہے،پھر وہ بے شعوری کی زندگی میں مگن ہوجاتا ہے،اور پھر:

وہی ہم ہیں ،قفس ہے،اور ماتم بال وپر کا ہے

موجودہ تہذیب کے نام پر بد تہذیبی کے ماننے والوں کا اپنے رب کو بھلا دینا اور موت کا انکار کردینا ہی ان کے تمرد اور سرکشی کا بنیادی سبب ہے،ایسالگتا ہے انہیں ہمیشہ جینا ہے، غرور بے جا نے انہیں اندھا کردیا ہے،وہ اپنی بصیرت کھو چکے ہیں،جاہ وجلال اور مال ومنال نے ان کے سامنے اس حقیقت کو دھندھلا کردیا ہے کہ موت ایک ابدی سچائی ہے، جس کے سامنے دنیا کے خزانے،اور”القناطیر المقنطرة”(سونے چاندی کے جمع کئے ہوئے ڈھیر )دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں، وہ اپنا کام کرجاتی ہے، انسان کی اصلاح جتنی اس عقیدہ سے ہوتی ہے کہ موت برحق ہے اور اس کے بعد حساب وکتاب ہے، کسی چیز سے نہیں ہوتی، ”کلا ن الانسان لیطغی أن رآہ استغنی، ن الی ربک الرجعی”(العلق:٦۔٨)(سچ مچ انسان اس لیے سرکشی کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو بے نیاز سمجھتا ہے،یقینا تمہارے پروردگار کی طرف ہی واپس ہونا ہے)،ربیع بن خیثم فرماتے تھے:”لو فارق ذکر الموت قلب ساعةً فسد”(احیاء علوم الدین:٤٥١٤)(اگر موت کی یاد ایک لمحہ کے لیے میرے دل سے نکل جائے تو میرا دل برباد ہوجائے)۔

کورونا بحران ایک موج بلا خیز بن کر آیا،اس نے لوگوں کے وجود کو ہلا کر رکھ دیا، انسان اپنی زندگی کے مہ وسال کا حساب لگانے لگا،کیا کھویا! کیا پایا!اورذہنوں میں گردش کرنے لگا کہ کیا کھویا! کیا پایا!کیا بچایا! کیا گنوایا!لوگ سہم کر رہ گئے کہ پتہ نہیں کب ہماری باری آجائے، اور موت آدھمکے، جس کو ایک لمحہ بھی آگے پیچھے نہیں کیا جاسکتا،ہاں مگر کورونا دور نے ہمیں یہ بھی سکھایا کہ موت کی یاد نمک کی طرح ہے، تھوڑے نمک سے کھانا خوش ذائقہ ہوتا ہے، زیادہ سے کھانا خراب ہوجاتا ہے؛ اس لیے موت کو یاد رکھنا ہے یعنی سچ اور انصاف کے راستہ پر چلتے رہنا ہے، یہ نہیں کہ خود کو گھلا اور پگھلا لیا جائے اور جیتے جی انسان مرجائے، ہمہ وقت موت کی فکر کے دباؤ میں رہنا، اور اضطراب وبے کلی کے ساتھ اس کو یاد کرنا، اس زندگی پر ہی نوحہ وماتم بپا کردینا، زندگی کو مکدر کرکے رکھ دے گا، انسان کو پا بہ زنجیر کردے گا، اس کی سرگرمیوں کو روک دے گا۔

موت کی اس طرح یاد کہ اس کے لیے تیاری کی توفیق ملے اور موت کے بعد کی زندگی کو نظر میں رکھتے ہوئے زندگی گزارنا میسر آجائے، یہ مطلوب ہے، اس سے حرکت وعمل میں برکت ہوتی ہے اور انسان اپنے مقصد تخلیق کو پورا کر پاتا ہے، جو شخص موت کو اس طرح یاد رکھتا ہے، وہ دوسروں پر ظلم نہیں کرتا، ان کے حقوق ہضم نہیں کرتا، زمین پر اس طرح اترا کر اور اکڑ کر نہیں چلتا کہ جیسے ہمیشگی اس کا مقدر ہو، کوئی چیز اس کو زیر نہیں کرسکتی ،اور مومن تو اصل زندہ رہنے کے لیے ہے، موت ایک ابدی زندگی کا سفر ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ روز ہم اپنے عزیز واقارب، احباب ورفقاء کار،علماء ودانشواران کو بڑی تعداد میں کھو رہے ہیں، کرب والم سے ہمارے دل زخمی اور آنکھیں اشکبار ہیں، علم اٹھ رہا ہے کہ اہل علم اٹھائے جارہے ہیں،جانے والوا کا کوئی ثانی نہیں،لیکن ہمارا یقین ہے کہ ”کل نفس ذائقة الموت” (آل عمران:١٨٥) (ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے)سب کو وقت مقررہ پہ جاناہے،صرف ایک ذات جلال وعزت والی باقی رہنے والی ہے،ہمیں زندگی کو تلخ وشیریں اور خوشی وغم کے ساتھ قبول کرنا ہوگا،ہمیں اللہ پر توکل کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا،اور اللہ کی زمین کو خیر سے آباد کرنا ہوگا،ہم ماتمی قوم نہیں،ہمیں حسن عمل کے لیے بھیجا گیا ہے،ہمیں آگے بڑھ کر محاذ سنبھالنا ہے،ہمیں کام کرنا ہے،ہمیں مشکلات کا حل سوچنا ہے،ہمیں گرتوں کو تھامنا ہے،کمزوروں کو سہارا دینا ہے،جانے والوں کا غم بھلا کر آنے والی زندگی کا استقبال کرنا ہے،یہ دنیا کسی کے لیے جاودانی نہیں،آنی جانی ہے،لیکن نیک اعمال کا راستہ ہی جنت کی طرف لے جانے والا سیدھا راستہ ہے۔

موت ایک یقینی شے ہے، قرآن میں خود موت کو یقین کے لفظ سے ذکر کیاگیا ہے، ”واعبد ربک حتی یأتیک الیقین”(الحجر: ٩٩)(اور اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہئے یہاں تک کہ آپ کو موت آجائے)موت خود ایک عبرت وموعظت کا سامان ہے، موت ایک درس حیات اورایک خاموش معلم ہے،جانے والا اپنے پیچھے سیکھنے کے لیے بہت کچھ چھوڑ جاتا ہے،مومن موت کے ساتھ ہی دنیا کے مصائب وآلام سے نجات پا جاتاہے،اور فاجر وکافرکی موت سے دنیاراحت محسوس کرتی ہے۔

کورونا کے دور میں جیسے زندگی بدل گئی،ویسے ہی موت بھی بدل گئی،جو بے کسی اور لاچاری دیکھنے میں آرہی ہے،وہ انسانیت کو شرمسار کرتی ہے،ہاں کہیں مجبوریاں بھی ہیں،نہ اب تجہیز وتکفین پہلی سی، نہ عیادت وتعزیت،نہ میت کا دیدار،نہ افسوس کا اظہار،زمانے کے انداز بدلے گئے،لاشوں کا احترام تک جاتا رہا،بات یہاں تک پہنچی کہ بعض مسلمانوں کو قبرستان میں جگہ نہ ملی تو شمسان کے حوالہ کیا گیا،کہیں نذر آتش تک کردیا گیا،کہیں سے یہ صدا آرہی ہے کہ:

ہوئے مرکے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا
نہ کہیں جنازہ اٹھتا،نہ کہیں مزار ہوتا

اور کہیں سے یہ کہ:

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کروگے لیکن
خاک ہوجائیں ہم تم کو خبر ہونے تک

اور یہ بھی کہ:

مری نماز جنازہ پڑھائی غیروں نے
مرے تھے جن کے لیے وہ رہے وضو کرتے

اور اب تو یہ بھی کہ:

پئے فاتحہ کوئی آئے کیوں کوئی چار پھول چڑھائے کیوں
کوئی آکے شمع جلا کیوں میں وہ بے کسی کا مزار ہوں

ایسا بھی ہوا کہ دس دنوں تک ہاسپیٹل کے مردہ خانہ میں لاش رکھی رہی اور گھر والے کسی حال میں انفیکشن کے ڈر سے لاش لینے نہیں آئے، پھر ہاسپٹل نے خود تدفین کی، باپ کی لاش سر راہ چھوڑ کر بیٹا فرار ہوگیا،یہ دل کی سختی ہے،خوف خود ایک موت ہے جو زندہ انسان پر طاری ہوجائے تو اسے مردہ کردیتی ہے، اب ایسے سخت د ل لوگ مردہ ہی کہے جائیں گے، آپ چاہیں تو انہیں مردہ دل یا مردہ ضمیر کہہ لیں۔

یہ ملک جہاں کرسی پانااور راج کرنا ہی سب کچھ ہے،عوام کے لیے کچھ بھی نہیں،سوائے جھوٹے وعدوں کے،عین موت کے سایے میں الیکشن کی بھوک مٹائی جارہی ہے،”شاہی” اشنان کئے اور کرائے جارہے ہیں،وہاں سے پورے ملک میں کورونا کا پرساد تقسیم ہورہا ہے،ہر آنے والا دن خطرہ کے نشان کو پار کرکے بہت آگے جارہا ہے،جدھر دیکھئے سانسوں کے لیے چیخ وپکار ہے،لاشوں کا انبار ہے،شہر کے شہر ویران ہورہے ہیں کہ اہل کمال اٹھ رہے ہیں اورشہر خموشاں آبادہورہے ہیں،اب تو زیادہ تر ایسے کم عمراور جواں سال دوستوں،رفیقوں اور ساتھ والوں کے انتقال کی خبریں ملنے لگی ہیں جو ”خوش درخشید ولے شعلۂ مستعجل بود” ،”حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے” اور”یہ پھول اپنی لطافت کی داد پانہ سکا” جیسے عنوان پاتے ہیں،گزشتہ ایک ہفتہ میں اس کثرت سے علماء کرام اور اہل دانش کی وفات کے سانحے پیش آئے کہ رسول اللہﷺ کی حدیث مبارک صاف سچ ہوتی نظر آئی کہ ”اللہ تعالی علم کوکھینچ کر چھین نہیں لیتا،بلکہ اہل علم کو اٹھا کرعلم کو اٹھا لیتا ہے”(بخاری:کتاب العلم،باب کیف یقبض العلم؟ حدیث نمبر:١٠٠)۔

افسوس کہ نادان دوستوں کی کمی نہیں،نگاہوں کے سامنے موت کو رقصاں دیکھ رہے ہیں،پھر بھی اس بحث میں ایک سال سے زیادہ ہوا،الجھے ہوئے ہیں کہ یہ سازش ہے ، کسی کی بھڑکائی ہوئی آتش ہے،وبا ہے ،بلا ہے،عذاب ہے یا آزمائش ہے،جو کچھ بھی ہو،یہ دیکھنا ہے کہ ہمیں کرنا کیا ہے،ہمیں وبا کے جلد خاتمہ کے لیے اللہ سے دعائیں کرنی ہیں،احتیاط کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دینا ہے،لوگوں کی مدد کرنی ہے، موت کے بے جا خوف وہراس سے نکل کر دنیا کے کام بھی کرنے ہیں اور آخرت کی تیاری بھی،لوگوں کو حوصلہ دینا ہے،بیمار ہوں تو ٹوٹکے اور وظیفوں کے ساتھ بروقت صحیح علاج کرانا ہے،لوگوں کو آکسیجن فراہم کرنے کے لیے جو کچھ کرسکیں کرنے کی کوشش کرنا ہے،قابل اعتماد ڈاکٹروں سے مشورہ کرکے ویکسین بھی لگوانا ہے،افواہوں سے گریز کرنا ہے،رمضان کی مبارک راتوں اوردن کی ساعتوں میں کو خلوص دل سے دعا ئیں کرنی ہیں کہ اللہ تعالی اس وبا کا اپنی قدرت مطلقہ سے خاتمہ فرمادے اور امن وعافیت کی زندگی واپس آجائے،وہی تنہارحمن ورحیم اس پر قادر ہے،ہم اسی کی جناب میں فریاد کناں ہیں:

کشتیاں سب کی کنارے پہ پہنچ جاتی ہیں
ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے