باطل دوئی پسند ہے حق لاشریک ہے! سمیع اللّٰہ خان

Spread the love

 

باطل دوئی پسند ہے حق لاشریک ہے!

سمیع اللّٰہ خان

ksamikhann@gmail.com

مرکزی جمعیۃ اہلحدیث کے امیر نے بیان جاری کرکے کہا ہیکہ: ” مسلمانوں کے ذریعے غیرمسلموں کا انتم سنسکار کیا جانا بڑی خوش آئند بات ہے "
اصغرعلی مہدی سلفی صاحب اس سے پہلے جمعیۃ اہلحدیث کی جانب سے این آر سی، اور کشمیر سے دفعه 370 چھین لیے جانے کے ظالمانہ سرکاری فیصلوں کی تائید کرچکے ہیں، موصوف امیت شاہ اور اجیت ڈوبھال سے ملنے کےبعد حکومت نواز بیانیے جاری کرکے ملت پر بدنما داغ لگاتے رہےہیں، حسب عادت ایک بار پھر موصوف نے اپنی تاریخ کا مظاہرہ کیا ہے _
اس دفعه زیادہ افسوس یوں ہیکہ وہ اہل اسلام کو شرکیہ اعمال کی طرف راغب کررہےہیں، وہ ہندؤوں کی لاشوں کو جلانے کے لیے مسلمانوں کو تیار کررہےہیں جبکہ انتم سنسکار کسی کا بھی ہو وہ مذہبی تعلیمات کےمطابق ہوتاہے اور مذہبی عمل ہوتاہے، بڑے افسوسناک مناظر ہیں کہ کئی جگہوں پر مسلمانوں نے غیرمسلموں کی لاشوں کے انتم سنسکار کا عمل اپنی پوری اسلامی شناخت کے مظاہرے کےساتھ کیمرے میں ریکارڈ کروایا، اور ابھی بھی کررہےہیں، جبکہ یہ سراسر غلط روش ہے جوکہ مسلمانوں کو غلط منزل پر لے جائےگی، لیکن اس سے زیادہ شرمناک ہےکہ کسی ایک مکتب فکر کا مرکزی امیر ایسے شرکیہ افعال کی حمایت کرتاہے اور اس کی ترغیب بھی دلاتا ہے، حال یہ کہ، یہ وہ حضرات ہیں جو توحید کے لیے حساسیت کا مظاہرہ کرتےہیں، ان کا مرکزي امیر شرک کی طرف دھکیلنے کی علانیہ دعوت دے رہاہے، اب کوئی یہ نہ کہے کہ اس بیان کو ایشو نہیں بنائیں یا اسے سب کی طرف منسوب نا کریں، کیونکہ یہ بیان کسی عام آدمی یا معمولی کارکن کا نہیں بلکہ ایک جماعت کے مرکزی امیر کا ہے اور نہایت شرمناک ہے_

وبائی دور میں وہ مسلمان عظیم ہیں جو میدان میں اتر کر خدمت خلق کا فریضہ انجام دے رہےہیں انسانیت کی جانوں کا تحفظ کررہےہیں، قحط جیسے ماحول میں آکسیجن، دوائیوں اور مریضوں کے لیے کھانے پینے کا نظم کررہےہیں، آج جو بھی شخص زمینی سطح پر یہ کام کررہا ہے وہ مجھ جیسے انسان سے زیادہ کامیاب، لائق اور قابل احترام و ستائش ہے، کسی بھی سطح پر ان کاموں میں لگے ہوئے افراد حقیقی عملی اور کامیاب مسلمان ہیں
ان کام کرنے والے حضرات کو ہمیشہ اپنا محاسبہ بھی کرتے رہنا چاہیے کہ وہ اپنے وقت اور مال کو قربان کرکے اور جانوں کو جوکھم میں ڈال کر جو یہ عظیم جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں اس کا مقصد اور اس سے دل کی مراد کیا ہے؟ اگر رضاء الہی، اللہ کی خوشنودی اور شریعت اسلامی کی تعمیل ہے تو یہ کام کرنے والوں کے لیے دنیا میں جو کچھ وہ قربان کررہےہیں اس کے نعم۔البدل کا تو سبب بنے گا ہی آخرت میں نجات کا ذریعہ بھی ہوگا، اور جب یہ وبائی صورتحال ختم ہوجائےگی تو الله کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کی گئی اس عظیم جدوجہد کا نتیجہ دعوتی حصولیابی کی صورت میں سامنے آئےگا،نفرتوں کے دور میں ایک زبردست، مثبت اور محبت کا ماحول دیکھنے کو ملےگا، الله اس جدوجہد کے بدلے میں قلوب کو نرم کرےگا _

لیکن اگر خدانخواستہ اس جدوجہد میں، اصغرعلی سلفی صاحب جیسوں کی پیروی کی گئی تو مقصد بدل جائے گا، رضاء الہی کی جگہ رضاء ہنود کا بھی شائبہ آئےگا، گزرے کئی سالوں میں یہ دیکھنے میں آیا ہیکہ کئی بحرانی مواقع پر مسلمانوں نے اس ملک میں عظیم ترین انسانی خدمات انجام دیں، لیکن جب بحران چھٹ جاتاہے تو اہل وطن مسلمانوں کو اور ان کی قربانیوں کو فراموش کردیتے ہیں، مطلوبہ نتائج بھی حاصل نہیں ہوتے، میری نظر میں اس کی وجہ یہ ہیکہ، چند حضرات خدمت خلق کے ان کاموں کو سیکولرزم کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے اور کفار کی نظر میں خود کو اچھا اور انسانیت نواز ثابت کرنے کی غرض سے کرتےہیں، جوکہ پورے کاز میں بےبرکتی کا سبب ہوتا ہے، موجودہ وقت میں غیرمسلموں کی لاشوں کو جلانے کا کام اپنے ذمے لینا بھی ایسی ہی بےبرکتی کا موجب ہے، اور اللّٰہ کی ناراضی کا ذریعہ ۔
میں ہمیشہ کہتاہوں کہ پیامِ انسانیت اور دعوت کا کام اس ملک میں سب سے بنیادی ضرورت ہے، لیکن جو حضرات بھی اس شعبے میں کام کرتےہیں انہیں، مزدوروں یا معذرت خواہوں کی طرح نہیں بلکہ ایک بااختیار معاون اور باعزت داعی کی طرح کام کرنا چاہیے، تبھی رزلٹ ملے گا_
کاش کہ اس جانب توجہ دی جائے _
بڑے افسوس کی بات ہیکہ ہماری ملت میں اصغرعلی سلفی جیسے لوگ رہنمائی کی مسند پر فائز ہیں جو حکومتوں کی خوشنودی کے لیے کبھی تو ملی موقف کو فروخت کردیتے ہیں اور کبھی سیکولر بننے کی ہوڑ میں توحیدی حمیت پر شرکیہ رسوائی کو ترجیح دیتےہیں_
ایک اپیل کرتاہوں کہ، براہ کرم میری معروضات کو مسلکی عینک سے نہ دیکھیں، کیونکہ میں مسلکی فرقہ واریت اور مسلکی تعصبات سے نفرت کرتاہوں یہ دردِ دل ہے امتی جذبے کےساتھ _
ائے کاش کہ ان رہنماﺅں اور کام کرنے والوں کے دلوں میں یہ غیرت اور راہِ عزت اتر جائے اور رچ بس جائے کہ:
” باطل دوئی پسند ہے، حق لاشریک ہے "
” شرکت میانہء حق و باطل نہ کر قبول "

One thought on “باطل دوئی پسند ہے حق لاشریک ہے! سمیع اللّٰہ خان

  1. اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَةُاللّٰهِ وَ بَرَکَاتُهْ۔ the opinion world واٹساپ گروپ میں add ہونا چاہتا ہوں۔ KN Shamiullah khann کی مضامین بہت بہتر طریقہ سے بات رکھتے ہے۔ the opinion world newsletter subscribe کیا ہوا ہوں۔ لیکن اب mail inbox نہیں آتا ہے۔ وہاٹساپ گروپ لنک مجھے بھیج سکتے تو reply کرے۔ میں فیسبوک پر نہیں ہوں۔ صرف وہٹساپ اور email کے ذریعے ہے کچھ پڑھ پاتا ہے ہوں۔ میرا ایمیل mohammadtanveerhasan@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے