جدید ترقی کا فتنہ اور مسلمان! عمر فراہی

Spread the love

جدید ترقی کا فتنہ اور مسلمان!
عمر فراہی

سیٹلائٹ اور انٹرنیٹ نے انسانی معاشرے کو ایک عالمی گاؤں میں تبدیل کرکے ہزاروں کروڑوں میل دور انسانوں کے درمیان کا فاصلہ تو کم کر دیا ہے لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان رابطوں نزدیکیوں اور قربتوں سے کیا انسانوں کے دل سے دل بھی ملے ہیں ‌۔اس کا جواب یقیناً نا میں ہی ہے ۔فاصلے بڑھے ہیں محبتیں کم ہوئی ہیں۔خاندانوں میں بکھراؤ پیدا ہوا ہے ۔۔رنجشوں اور تلخیوں میں اضافہ ہوا ہے ۔خلش پیدا ہوئی ہیں ۔خراپی کی وجہ یقینا سائینس اور ٹکنالوجی پر مبنی یہ برقی میڈیا نہیں ہے بلکہ وہ شر پسند طاقتیں ہیں جن کا اس پر کنٹرول ہے اور وہ نہ صرف اس میڈیا سے انسانی ذہنوں کو طرح طرح کے ڈراموں سے vaccinate کر رہے ہیں نظام معیشت اور نظام تعلیم کے ذریعے ہر شخص کے اندر ھل من مزید اور مسابقت کا ایسا زہر پیدا کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے ترقی یافتہ یوروپ نے تو سو سال پہلے ہی social distance پر عمل کرنا شروع کر دیا تھا ترقی پزیر ممالک میں بھی پچھلی دو دہائیوں سے یہ وبا تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے ۔اتفاق سے وہ مشینی ٹکنالوجی جو انسانوں کیلئے سود مند ہے اور وہ برائیاں جو سیرو تفریح کے نام پر انسانی ذہنوں کو پراگندہ کرنے والی ہیں دونوں کا موجد مغرب ہی ہے ۔غیروں میں تو خیر دین ،مذہب اور عبادت کا کوئی واضح سنجیدہ تصور نہیں رہا اس لئے وہ مغربی کی طرف سے ایجاد ہونے والے ہر فیشن کو اپنے لئے وٹامن کی طرح استعمال کر رہے ہیں ۔بدقسمتی سے مسلمان بھی اسی عالمی گاؤں کا ایک فرد ہے ۔وہ بھی اس معاشرے کے ساتھ معاشی اور معاشرتی طور پر ہم آہنگ ہو کر ترقی کرنا تو چاہتا ہے مگر کچھ بندشیں ابھی بھی اس کی ترقی کی راہ میں اڑچن ہیں ۔مثال کے طور پر شراب کی دکان بیئر بار اور فلم انڈسٹری کی تجارت میں مسلمان اس لئے سرمایہ کاری نہیں کر پاتا کیوں کہ اسلام میں شراب اور فحاشی دونوں حرام ہے۔بینک کھول نہیں سکتا کیوں کہ سود فحاشی سے بڑا جرم ہے۔ اس کے علاوہ اس معاشرے کی اور بھی منافع بخش تجارتیں ہیں جیسے کہ بیوٹی پارلر اور فائیو اسٹار ہوٹل وغیرہ وغیرہ جو فحاشی کے بغیر ناکام ہیں ۔
پھر سوال یہ ہے کہ تعلیم یافتہ مسلمان چنے سبزی یا کتابوں کی دکان کھول کر کارپوریٹ سیکٹر کا مالک کیسے بن سکتا ہے ؟ مگر تعلیمی قافلے کے روح رواں مسلمانوں کو بہت ہی جذباتی انداز میں ایک ایسی منزل کی طرف بھگانے کی جدوجہد کر رہے جس کی تصویر ہی واضح نہیں ہے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں ہونے والی ترقی انسانیت کے اپنے حق میں ہے لیکن اس ترقی کے غلط استعمال نے خود یوروپ کو بھی ہر محاذ پر تباہی کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے ۔یقیناً یوروپ کی ترقی یافتہ قوموں نے جدید سیٹلائٹ کے ذریعے دنیا کو ایک عالمی گاؤں میں تو تبدیل کردیا ہے لیکن وہ اپنے ایک خاندان کو متحد نہ کر پانے کے سبب زندگی کے اصل رومانس سے محروم ہیں ۔ مگر انہیں ابھی بھی زمین پر مکمل طور پر ریاست مدینہ کی طرح کوئی جدید معاشرہ نظر بھی نہیں آرہا ہے کہ وہ فوج در فوج اس معاشرے کا حصہ بن سکیں ۔چند ایک کملا ثریا ایون ریڈلی یا فرانس کی صوفی پیٹرون جیسی تعلیم یافتہ خاتون اگر اپنی تحقیق کی بنیاد پر اسلام قبول کر بھی لیتی ہیں تو خوش ہونے کی کیا بات ہے اس سے کہیں زیادہ مسلم خاندان فتنہ ارتداد کی زد میں ہیں ۔قومیں اپنے اخلاق کے ساتھ ہی زندہ رہتی ہیں اور یہ موجودہ معاشرہ جو اخلاق سے محروم ہے وہ بھی اپنے انجام کو پہنچے گا مگر افسوس اللہ نے جن روحوں کو مسلمانوں کے گھروں میں پیدا کر کے انبیاء کا جانشین بنایا اور جنھیں لوگوں میں اخلاق کے درس کی ذمداری سونپی گئی وہ بھی دنیا کے اسی گندم کے درخت کے پھل کے متلاشی ہیں جو حضرت آدم اور حوا کیلئے لغزش کا سبب بنا اور جسے حاصل کرنے کے بعد اب جدید دنیا بے حیائی اور عریانیت کی طرف راغب ہے ۔اخلاقی تربیت کے معاملے میں ہمارے مسلم معاشرے کا مسئلہ بھی یہ ہے کہ شروع کے پانچ سات سالوں میں ہی جبکہ بچوں کی ذہنیت کو کسی ڈھانچے میں ڈھالنا آسان ہوتا ہے ہم انہیں کانونٹ اور مثنری اسکولوں کے مخلوط کلچر ماحول میں داخل کر کے بچوں کو اس کی مادری زبان اور مذہب اور اسلامی تہذیب سے اس طرح محروم کر دیتے ہیں کہ یہ بچے نہ صرف اسلامی ماحول سے دور ہو جاتے ہیں گھروں میں عام زبان میں بولی جانی والی آسان مادری زبان کو بھی سمجھنے سے قاصر ہیں ۔بچہ جب بغاوت کی عمر میں داخل ہوتا ہے تو ہم اسے نماز روزہ اور دیگر اسلامی شعار کی ہدایت کر کے اسے راہ راست پر لانا چاہتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ آجکل ایسے بچے اور بچیاں جب اپنے والدین کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کرتے ہیں تو ہم زمانے کی خرابی کا رونا روتے ہیں ۔یعنی پہلے تو خود اپنے بچوں کو پیسے خرچ کر کے گندگی میں ڈھکیلتے ہیں پھر اسے اس گندگی سے باہر نکالنے کیلئے انہیں ڈاکٹر اسرار احمد، طارق مسعود ,طارق جمیل یا مفتی مینک یا مولانا سجاد نعمانی اور سلمان حسین ندوی کے خطبات سنا کر دین سمجھنے کی تلقین کرتے ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جن مسلمانوں کے یہاں کچھ دینی معاشرہ اور اخلاقی معیار باقی ہے ان کے بچے ان سے کچھ استفادہ حاصل بھی کر لیتے ہیں مگر جدید معاشرے کی ایک بہت بڑی اکثریت بے راہ روی کا شکار ہے اور اس پر کسی مفتی مولانا ہفتہ واری جمعہ کے خطاب اور تبلیغ کابھی اثر نہیں ہوتا۔ اثر ہو بھی کیسے ۔برائیوں کو طاقت سے جاری رکھنے کا فرمان تو ابلیس کے دجالی نظام کی طرف سے ہورہا ہے مگر جو طاقت سے ان برائیوں کو روک سکتے تھے ان کی زبان اور سوچ دونوں میں تفرقہ پیدا ہو چکا ہے ۔چند تھوڑے سے لوگ جو اس نظام کی خرابی پر آواز اٹھاتے بھی ہیں تو انہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہونے کی گالیاں دی جاتی ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے