جذباتیت مرض نہیں زندگی کی علامت ہے! عمر فراہی

Spread the love

جذباتیت مرض نہیں زندگی کی علامت ہے!
عمر فراہی

"جذباتیت یقیناً ایک بڑا مرض ہے بلکہ ملت اسلامیہ ہند کی تاریخ میں اکثر بدنصیبیاں اسی مرض کی دین ہیں۔۔
یہ مرض دو انتہائی مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے۔۔جب غیض و غضب اور نفرت و مایوسی کے جذبات سے مغلوبیت ہوتی ہے تو ایک رویہ جنم لیتا ہے اور ڈر، خوف، اندیشوں اور مرعوبیت کے جذبات غالب آجاتے ہیں تو ایک دوسرا رویہ جنم لیتا ہے۔ دونوں جذباتیت کے مظاہر ہیں اور معتدل رویہ صبر ہے جو عقل و فہم اور حکمت دین کے ذریعہ جذبات کو قابو میں اور درست سمت اور توازن میں رکھنے کا نام ہے۔سعادت اللہ حسینی صاحب (امیر جماعت اسلامی )
ملت اسلامیہ ہند کی تاریخ میں ایسا کبھی کوئی وقت نہیں آیا کہ جذباتیت کے مرض میں مبتلا ہو کر مسلمانوں نے غیض و غضب ہوکر غیر مسلموں کی ماب لنچنگ کرنا شروع کر دی ہو ۔اس کے برعکس آزادی کے بعد سے ہی ملت اسلامیہ ہند کو ریاستی دہشت گردی سے گزرنا پڑا ۔یہ بدنصیبیاں مسلمانوں کے حصے میں حکومت کی ناانصافی کی وجہ سے آئیں نہ کہ مسلم نوجوانوں کی جذباتیت سے ۔ حالانکہ جذبات کے بغیر قومیں مردہ ہوتی ہیں مگر حسینی صاحب نے یہ بات کس تناظر میں کہی ہے پتہ نہیں۔ ہمارے معاشرے میں عام طور پر بہت غصہ ہونے والوں کو جذباتی کہا جاتا ہے لیکن کسی بھی شخص کے غصہ ہونے کی بھی وجہ ہوتی ہے ۔سعادت اللہ صاحب کو ہم اسی لئے مخلص سمجھتے ہیں کیوں کہ وہ بھی کچھ زیادہ ہی جذباتی ہیں۔ اسی جذبات میں بہہ کر وہ جذباتیت کے منفی پہلو پر تو مسلسل بات کر رہے ہیں مگر جذباتیت کا ایک مثبت اور حسین پہلو یہ بھی ہے کہ جب یہ غالب آتی ہے تو محبت خلوص غیرت ایمانداری اور عشق کا بھی سفر کرتی ہے اور اللہ نے جذباتیت کے اس خوبصورت پہلو سے صرف اہل ایمان کو ہی نہیں آراستہ کیا ہے اس کی خوبصورتی کا مظاہرہ چرند و پرند اور غیر اہل ایمان سے بھی ہوتا ہے ۔
حضرت عمر حالت کفر میں شدت جذبات سے مغلوب ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے نکلتے ہیں اور راستے میں ایک واقعے سے ان کا ارادہ بدل جاتا ہے ۔حضرت عمر اگر مشرف بہ اسلام ہوۓ تو اس لئے کہ ان کی یہ جذباتیت خلوص اور ایمانداری پر مبنی تھی ۔
جذباتیت ایک فطری صفت ہے جو ہر انسان کے اندر یکساں نہیں ہوتی ۔کچھ بچے فطری طور پر بہت ہی شرارتی اور جذباتی ہوتے ہیں ۔کچھ بچوں کو لاکھ کوشش کے باوجود بھی شرارتی اور جذباتی نہیں بنایا جاسکتا ۔مسلمانوں کے بارے میں منصوبہ بند طریقے سے یہ سوچ کہ وہ جذباتی شرارتی اور انتہا پسند ہوتا ہے قادیانیوں لبرلسٹوں اور مغرب نوازوں کے ذہن کی اختراع ہے جسے سر سید سے لیکر وحیدالدین خان غامدی حسن نثار اور طارق فتح جیسے لوگوں نے خوب ہوا دی اور اب مسلمانوں کو لعن طعن کرنے کا یہ مرض ہماری جماعت اسلامی کے کچھ رفقاء میں سرایت ہو رہا ہے جو غلط ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمان جذباتی ہے لیکن مسلمانوں کی جذباتیت مرض کبھی نہیں بنی ۔ہاں وہ انتشار یعنی Frustration کا شکار ضرور ہے لیکن ایسا کیوں ہوا مولانا مودودی نے اپنی کتاب تنقیہات میں اس کے تاریخی پہلو پر بحث کی ہے ۔ایک خیال یہ پایا جاتاہے کہ انیسویں صدی میں پوری طرح اقتدار سے بے دخل ہونے کی وجہ سے مسلمان ابھی تک یا تو خود کو محکوم تصور ہی نہیں کر پارہا ہے یا لادینی اور دینی روایتوں کی دو انتہاؤں کے درمیان انتشار کا شکار ہے اور یہ انتشار اس وقت تک قائم رہے گا جب تک کہ اسے اللہ کی رسی میں پرونے والا کوئی اللہ کا بندہ نہ پیدا ہو جاۓ ۔ تاریخ میں وہ لوگ جن کے جذبات سرد ہو گئے یا جنھوں نے اقتدار کی خواہش ہی نہیں کی وہ کبھی سر خرو نہیں ہوئے ۔دلتوں کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ہمارا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ حالات کا مقابلہ اور حالات سے بے چین ہو کر وہی آگے آتے ہیں جو جذباتی ہوتے ہیں اور یہ بہت قلیل لوگ ہوتے ہیں ۔اسی جذبات کو پیدا کرنے کیلئے اللہ نے حضرت موسی کو بنی اسرائیل کی نئی نسل تیار ہونے تک چالیس سال تک انتظار کرنے کا حکم دیا جبکہ آخری رسول کو اپنی قوم میں سے یہ افراد اول روز سے میسر تھے ۔
وہ بڑھیا بھی اسی قوم سے تھی ۔اسے کسی انقلاب ونقلاب سے کیا غرض تھی ۔مگر نہیں یہ اس کے حق اور ناحق کے تعلق سے جذبات ہی تھے کہ وہ شہر چھوڑتے ہوۓ پورے راستے بھر اسی نوجوان کے خلاف لعن طعن کرتے ہوۓ اسے نصیحت بھی کرتے جارہی تھی کہ بیٹا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چکر میں مت آنا ورنہ وہ تمہیں گمراہ کر دے گا جو اس کا سامان لیکر اسے اس کے مقام تک پہنچانے جارہا تھا ۔اپنے مقام پر پہنچنے کے بعد کہتی ہے کہ بیٹا تم بہت نیک ہو کیا نام ہے تمہارا ۔آپ نے کہا میں وہی محمد ہوں جس پر آپ نے راستے بھر لعنت بھیجا ہے ۔بڑھیا شرمندہ ہوتی ہے اور کہتی ہے تم کسی کو گمراہ نہیں کر سکتے اور ایمان لاتی ہے ۔بڑھیا جذباتی تھی لیکن اس کے جذبات میں خلوص تھا وہ صحیح راستے کی تلاش میں تھی اور اس نے صحیح راستہ پا لیا ۔اس کے برعکس سماج اور معاشرے میں کچھ لوگوں کو راستے کی تلاش ہی نہیں ہوتی ۔وہ کسی کی مخالفت ہی نہیں کرتے ۔ان کیلئے اللہ ایشور عیسی بدھا اور بھگوان سارے دھرم سمان ہوتے ہیں اور یہ سیکولر لوگ کہیں کے نہیں رہتے ۔ جبکہ حق اور ایمان مخالفت کے جذبات میں ہی چھپے ہوتے ہیں ۔اسی حق اور ناحق کے تعلق سے یہ قصہ بھی سن لیں ۔
تحریکی فکر سے تعلق رکھنے والے اپنے ایک دوست سے میں نے پوچھا کہ بھائی آپ قریب کی دیوبندی حنفی مسجد میں نماز نہ پڑھ کر اہل حدیث مسجد میں ہی کیوں پڑھتے ہیں ؟ ۔کہنے لگے فکری طور پر تحریکی ہوں لیکن منہج اہل حدیث ہی ہے ۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے دادا کا قصہ بتایا کہ وہ پانی کے جس جہاز سے حج سے واپس آرہے تھے اسی جہاز پر دو نوجوان عالم دین بھی سفر کر رہے تھے ۔دادا بھی چونکہ سلفی عالم تھے اس لئے دادا کی ان سے دوستی ہو گئی ۔داداعمر دراز تھے اس لئے نوجوان مولیوں نے راستے بھر ان کی خوب خدمت کی ۔دادا نے ان کی خدمات کی وجہ سے انہیں بہت دعائیں دیتے رہے اور نصیحت کی کہ دیکھو بیٹا ہندوستان میں قادیانیوں کی طرح کا ایک نیا فتنہ سامنے آیا ہے اور یہ لوگ نوجوانوں کو بہت متاثر کرتے ہیں تم لوگ ان کے فتنے میں مت پڑنا ۔دونوں مولیوں نے پوچھا کہ کیا نام ہے اس فتنے کا ۔انہوں نے کہا اس فتنے کا نام جماعت اسلامی ہے اور اس کے امیر کا نام مودودی ہے جو اس وقت اسی طرح پاکستان سے تحریک چلا رہا ہے جیسے کہ اسی پاکستان سے غلام احمد قادیانی کا فتنہ سامنے آیا تھا اور یہاں اس نے کسی نوجوان مولوی ابوالیث اصلاحی جو کہ فراہی مکتہ فکر سے تھا اسے مقامی صدر بنایا ہے ۔اور یہ فراہی بھی حدیث کا منکر تھا ۔نوجوان مولوی مسکراکر رہ گئے مگر راستے بھر ان کی خدمت میں کوتاہی نہیں کی ۔جہاز جب ممبئی کے ساحل کے قریب پہنچا تو یہ دونوں نوجوان دادا سے سلام دعا کر کے جدا ہونے لگے تو دادا نے پوچھا کہ بیٹا تم لوگوں نے میری اتنی خدمت کی مگر اپنے بارے میں نہیں بتایا کہ تم لوگ کون ہو اور کہاں سے تعلق رکھتے ہو ۔انہوں نے کہا کہ مولانا چونکہ آپ پہلے ہی سے جماعت اسلامی سے بدظن نظر آرہے ہیں اس لئے ہم نے اپنا تعارف خفیہ رکھا کہ کہیں آپ کو اس سفر کے دوران شرمندہ نہ ہونا پڑے اور ہم لوگ آپ کی خدمت سے محروم ہو جائیں۔دادا نے کہا پھر بھی کچھ تو بتاؤ تم لوگ بہت نیک نوجوان ہو موقع ملا تو آئیندہ پھر ملاقات ہوگی ۔ان میں سے ایک نوجوان نے کہا حضرت میں اسی جماعت اسلامی کا صدر ہوں جس کے بارے میں آپ ہمیں نصیحت کر رہے تھے اور میرا نام ابوالیث اصلاحی ہے ۔دادا بہت شرمندہ ہوۓ اور بولے میں نے تمہاری جماعت کو اتنا برا بھلا کہا اور تم لوگ جواب دینے کی بجائے مسکراتے رہے ۔مولانا نے کہا اس وقت ہم جواب دیتے تو یہ گفتگو بحث و تکرار میں تبدیل ہو جاتی اور نتیجہ کچھ نہیں نکلتا ۔ہم نے اللہ سے دعا کیا کہ وہ آپ تک جماعت کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کرنے کا کوئی راستہ نکال دے ۔دادا مولانا ابوالیث کی گفتگو سن کر بہت ہی جذباتی ہو گئے ۔ان کا غصہ کافور ہوگیا اور انہوں نے نوجوانوں کو گلے لگایا اور کہا کہ میں مولانا مودودی کو ضرور پڑھوں گا اور پھر دلی جاکر جماعت اسلامی کی رکنیت قبول کر لی ۔یہاں میں نے مرحوم ابوالیث اصلاحی صاحب کا واقعہ اس لیے بیان کیا کہ ماضی میں جماعت پر بہت کچھ تنقیدیں کی گئیں اور وہ خاموشی سے اپنا کام کرتے رہے ۔آج آپ سے کوئی کچھ سوال نہیں کر رہا ہے مگر آپ جب سے آئے ہیں آپ خود سازش اور سازشی نظریات کو عنوان بنا کر مسلمانوں کے مختلف طبقات کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔ آپ خاموشی سے جماعت کے رفقاء کے ساتھ جو دعوت اور فلاح و بہبود کا کام ہے اسے انجام دیں یا استعماری اور زعفرانی طاقتیں جس طرح معاشرے میں گند پھیلا رہی ہیں اس پر تحقیقی مضامین لکھیں تاکہ مسلم نوجوانوں میں حالات کے تحت بیداری آۓ ۔خدا حافظ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے