مجلس شوریٰ امارت شرعیہ کی آن لائن میٹنگ، کئی اہم فیصلوں کے ساتھ اختتام پذیر

Spread the love

متحد رہ کر امارت شرعیہ کے کارواں کو آگے بڑھاتے رہنا ہم سب کی اہم ذمہ داری: نائب امیر شریعت

مجلس شوریٰ امارت شرعیہ کی آن لائن میٹنگ، کئی اہم فیصلوں کے ساتھ اختتام پذیر

پٹنہ، مجلس شوریٰ امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ کی ایک اہم میٹنگ آج مورخہ 20جون بروز اتوار ساڑھے دس بجے دن آن لائن زوم ایپ پر نائب امیر شریعت حضرت مولانامحمد شمشاد صاحب رحمانی قاسمی مدظلہ العالی استاذحدیث دارلعلوم وقف دیوبند کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ جس میں ارکان شوریٰ کی بڑی تعداد(90 معزز ارکان)نے شرکت کی ۔ اپنے صدارتی خطاب میں سب سے پہلے حضرت نائب امیر شریعت نے میٹنگ میں شریک ہونے والے تمام ارکان کا شکریہ ادا کیا ،آپ نے فرمایا کہ حضرت امیر شریعت کے انتقال کے بعد تمام اراکین کے اندر جو فکر مندی محسوس کی جا رہی ہے ، وہ قابل قدر اور لائق تحسین ہے ، میں محسوس کر رہا ہوں کہ حضرت امیر شریعت حضرت مولا نا سید محمد ولی رحمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے چلے جانے کے بعد جو ایک ناقابل تلافی خلا پیدا ہوا ہے ، وہ خلا ظاہری طور پر اسباب کے درجے میں پر ہو تا نظر نہیں آتا ، لیکن آپ حضرات کی توجہ اور پوری جماعت اور کمیٹی کی اگر یہ لگن رہی تو بہت سے عزائم اور منصوبے جو حضرت امیر شریعت ؒ کے انتقال کی وجہ سے ادھورے رہ گئے ہیں ، ان شائ اللہ پورے ہوں گے ۔ اور جو خواب بانی امارت شرعیہ حضرت مولانا ابو المحاسن محمد سجاد رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کے بعد کے امراء شریعت اور اکابر امارت شرعیہ نے دیکھا ہے وہ خواب شرمندہ ٔ تعبیر ہو گا۔ آپ نے فرمایا کہ امارت شرعیہ ایک الہامی اور دستوری ادارہ ہے ، وہ عند اللہ اور عند الناس مقبول ہے ، اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اس امارت شرعیہ نے اپنے سو سال بہت ہی کامیابی کے ساتھ پورے کر لیے ہیں۔اللہ نے اس ادارہ کو ہر دور میں ایسے امراء شریعت اور نائبین عطا فرمائے، ایسے نظماء، قضاۃ، مفتیان اور اراکین نصیب فرمائے ، جن کی محنتوں ، جانفشانیوں نے اس کو ایک ایسا شجر طوبیٰ بنا دیا جس کی جڑیں زمین میں ہیں اور شاخیں ہر سو پھیلی ہوئی ہیں اور جس شجر سایہ دار کے سایے سے پوری ملت نفع حاصل کر رہی ہے ۔ ان شاء اللہ ہمیں امید ہے کہ آئندہ بھی اللہ تعالیٰ اس ادارہ کو ایسا امیر شریعت عطا فرمائیں گے، جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوں گے اور جو امارت شرعیہ کے لیے مفید ہو گا۔

قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب جنہوں نے اس اجلاس کی نظامت کے فرائض بھی انجام دیے ، اپنی ابتدائی گفتگو میں حضرت امیر شریعت کو خراج عقیدت پیش کیا اور آپ کے دور میں امارت شرعیہ کے مختلف شعبہ جات میں جو کام انجام دیے گئے ان کا تفصیلی تذکرہ کیا۔آپ نے کہا کہ حضرت امیر شریعت کی ذات جامع کمالات تھی ، آپ ایک دور اندیش ، بابصیرت، صاحب عزیمت، شریعت و طریقت کے جامع ، جرأت مند و بیباک قائد تھے، آپ نے اپنی پوری زندگی مختلف میدانوں میں ملت کی کامیاب قیادت کی ، مسلم پرسنل لا بورڈ، امار ت شرعیہ، جامعہ رحمانی، خانقاہ رحمانی اور رحمانی فاؤنڈیشن کے پلیٹ فارم سے آپ کے ذریعہ کیے گئے کام بے مثال اور رہتی دنیا تک پوری امت کے لیے نمونہ ہیں ۔آپ کا انتقال نہ صرف ان اداروں کے لیے بلکہ پوری ملت کے لیے بڑا نقصان ہے ، جس کی تلافی مستقبل قریب میں دشوار نظر آتی ہے ۔اللہ تعالیٰ حضرت امیر شریعت کے درجات کو بلند فرمائے اور ان کو اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے۔

اجلاس میں آٹھویں امیر شریعت کے انتخاب کے لیے ارباب حل و عقد کے اجلاس کے علاوہ کئی اہم مسئلوں پر گفتگو ہوئی اور بالاتفاق درج ذیل تجاویز منظور کی گئیں ۔

(1) امارت شرعیہ کی مجلس شوریٰ حضر ت امیر شریعت سابع مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب کی وفات کو ملک و ملت خصوصاً امارت شرعیہ ، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، جامعہ رحمانی، خانقاہ رحمانی مونگیرا ور رحمانی فاؤنڈیشن کا ناقابل تلافی نقصان سمجھتی ہے،اللہ رب العزت حضرت امیر شریعتؒ مرحوم کی مغفر ت فرمائے ، ان کے درجات کو بلند فرمائے اور ملک و ملت کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔حضرت ؒ کے علاوہ جتنے علمائ کرام ، دانشوران قوم و ملت دنیا سے رخصت ہوئے، اللہ تعالیٰ ان سب کی مغفرت فرمائے اور پس ماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔(2) امارت شرعیہ کی مجلس شوریٰ کااس بات پر اتفاق ہے کہ کورونا وبا کی وجہ سے حالات نئے امیر شریعت کے انتخاب کے لیے موافق نہیں ہیں ، اس لیے حالات کے موافق ہونے کا انتظار کیا جائے ۔ حالات درست ہونے کے بعد حضرت نائب امیر شریعت انتخابی عمل کا آغاز فرمائیں گے۔(3)مجلس شوریٰ متفقہ طور پر حضرت نائب امیر شریعت کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ اپنی سر براہی میں ایک سب کمیٹی تشکیل دیں ، جس میں امارت شرعیہ کے حلقۂ کار کی نمائندگی ملحوظ رکھی جائے۔ اور یہ کمیٹی آئندہ انتخاب کے سلسلہ میں تمام معاملات کی انجام دہی پر غور و خوض کرتے ہوئے حضرت نائب امیر شریعت کے سامنے اپنی رائے پیش کرے۔(4)مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس سوشل میڈیا ، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا پر امارت شرعیہ اور اکابر امارت شرعیہ کے خلاف جو تحریریں آرہی ہیں اس کی مذمت کا کرتا ہے اور تمام لوگوں سے درخواست کر تا ہے کہ اس سلسلہ کو ہر حال میں فوری طور پر بند کریں ۔ورنہ دفتر قانونی کارروائی کا پابند ہو گا۔

شوریٰ کا یہ اجلاس مولانا محمد اسعد اللہ قاسمی مینیجر نقیب امار ت شرعیہ کی تلاوت کلام سے شروع ہوا اورحضرت نائب امیر شریعت کی دعا پر مجلس کا اختتام ہوا، مرحومین کے لیے تجویز تعزیت نائب ناظم امارت شرعیہ مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب نے پیش کی اور تجاویز کی خواندگی بھی انہوں نے کی۔ جناب مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کارگزار جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، جناب احمد اشفاق کریم صاحب ایم ڈی کٹیہار میڈیکل کالج، جناب مولانا ابو طالب رحمانی کلکتہ، جناب ارشاد اللہ صاحب چیر مین بہار ریاستی سنی وقف بورڈ ، ڈاکٹر شکیل احمد قاسمی اورینٹل کالج پٹنہ، مولانا ابو الکلام شمسی صاحب سابق پرنسپل مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ، مفتی نذر توحید مظاہری قاضی شریعت چترا، مولانا مشہود احمد قادری پرنسپل مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ، مولانا خورشید احمد مدنی امیر جماعت اہل حدیث بہار نے حضرت امیر شریعت رحمۃ اللہ کے لیے تعزیتی کلمات کہے، نیز ارباب حل و عقد کے اجلاس کے تعلق سے قیمتی مشورے بھی دیے۔ان کے علاوہ ڈاکٹر ابو الکلام سہرسہ،مولانا منظور صاحب اٹکی،مولاناامجد بلیغ رحمانی پرنسپل مدرسہ محمودیہ جوگبنی ارریہ، ایڈووکیٹ جاوید اقبال، الحاج عارف رحمانی نائب ناظم جامعہ رحمانی مونگیر،الحاج فرید رحمانی مظفر پور،ایڈووکیٹ فیاض حالی گیا،وسیم اللہ رحمانی جمشید پور، مولانا اعجاز احمد دربھنگہ سابق چیر مین بہار اسٹیٹ مدرسہ بورڈ، انجینئر ابو رضوان پٹنہ، ڈاکٹر ساجد رحمانی سیتا مڑھی، الحاج سلام الحق صاحب نالندہ، الحاج اکرام الحق ارریہ، جناب عطائ الرحمن صدیقی،مولانا مشیر الدین قاسمی،ماسٹر انوار صاحب بیگو سرائے،مولانا مفتی توحید صاحب پرنسپل مدرسہ رحمانیہ سوپول،جناب سمیع الحق صاحب نائب انچارج بیت المال،پروفیسر مولانایسین قاسمی رانچی، جناب شاہنواز احمد خان ہزاری باغ،مولانا ظفر عالم صاحب راور کیلا،مولانا محمود الحسن رحمانی پورنیہ،مولانا سعود عالم قاسمی قاضی شریعت جمشید پور، مولانا مفتی محمد سہراب ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ، مولانا ظفر عبد الروؤف رحمانی جنرل سکریٹری رحمانی فاؤنڈیشن، جناب احسان الحق صاحب سوپول، مولانا مفتی سعید الرحمن قاسمی مفتی امارت شرعیہ، مولانا سہیل احمد ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ، مولانا مفتی محمد انظار عالم قاسمی قاضی شریعت امارت شرعیہ، مولانا مفتی وصی احمد قاسمی نائب قاضی شریعت امارت شرعیہ اورمولانامحمد مصطفی صاحب چھپرانے ایجنڈا کے مطابق مشورے دیے اور قیمتی تجاویز پیش کیں۔اجلاس کو کامیاب بنانے اور تکنیکی ذمہ داری سنبھالنے میں حافظ محمد احتشام رحمانی، مولانا محمد ارشد رحمانی،مولانا منہاج عالم ندوی ، مولانا عبد الماجد رحمانی قاسمی اور مولانا عمران قاسمی پیش پیش رہے۔

One thought on “مجلس شوریٰ امارت شرعیہ کی آن لائن میٹنگ، کئی اہم فیصلوں کے ساتھ اختتام پذیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے