میرے صحابہ میں بارہ منافق ہیں! انتخاب: محمد فھد حارث

Spread the love

 

یرے صحابہ میں بارہ منافق ہیں!

انتخاب: محمد فھد حارث

اکثر لوگ انباکس میں سوال کرتے ہیں کہ اہل تشیع اور انجینیر محمد علی مرزا مع مولا نا اسحق جھالوی صاحبان کے صحیح مسلم کی روایت کہ "میرے صحابہ میں بارہ اشخاص منافق ہیں” کے تحت بعض صحابہ سے متعلق بدگمانیاں پھیلاتے پھرتے ہیں، پس اس حدیث سے متعلق وضاحت فرمادیں۔ ہم نے عرصہ پہلے جب اس حدیث کی بابت لکھنے کا ارادہ کیا تو تب مشیت الہی کے تحت حافظ محمد زبیر صاحب ہم سے بازی لے گئے تھے اور انہوں نے بروقت اس پر نہایت عمدہ کلام کیا تھا، جس کے بعد ہمارے اس حدیث پر کلام کرنے کی حاجت باقی نہ رہی تھی۔ حافظ محمد زبیر صاحب اس حدیث کے سلسلے میں کھتے ہیں کہ اس میں شک نہیں کہ صحیح مسلم کی جو روایت (7035) یہ اصحاب مع انجینیر مرزا نے بیان کی ہے، وہ صحیح مسلم میں بعینہ ایسے ہی موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «فِي أَصْحَابِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا»۔ ترجمہ: میرے صحابہ میں بارہ منافق ہیں۔ لیکن اس کے فورا بعد صحیح مسلم ہی کی ایک اور روایت (7036) کے الفاظ ہیں: «فِي أُمَّتِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا»۔ ترجمہ: میری امت میں بارہ منافق ہیں۔ صحیح مسلم کی پہلی روایت کہ جس میں «فِي أَصْحَابِي» کے الفاظ ہیں، کو اسود بن عامر نے شعبہ سے بیان کیا ہے۔ اور صحیح مسلم کی دوسری روایت کہ جس میں «فِي أُمَّتِي» کے الفاظ ہیں، کو غندر محمد بن جعفر نے شعبہ سے نقل کیا ہے۔ شعبہ کے بعد سند ایک ہی ہے۔

تو اب سوال یہ ہے کہ جب دو راویوں نے شعبہ سے روایت میں اختلاف کیا ہے تو ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ کس راوی نے شعبہ کے بیان کو زیادہ محفوظ رکھا ہے۔ تو یہ واضح رہے کہ اسود بن عامر، شعبہ کے عام شاگردوں میں سے ایک ہیں جبکہ غندر محمد بن جعفر، شعبہ کے خاص ترین شاگرد ہیں۔ امام احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ غندر نے بیس سال شعبہ سے علم حاصل کیا۔ امام عبد اللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ اگر شعبہ سے روایت میں اختلاف ہو جائے تو غندر کی روایت کو فیصلہ کن سمجھو۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ غندر، امام شعبہ کے ربیب ہیں یعنی ان کی بیوی کے بیٹے ہیں۔ دوسرا غندر کو یہ بھی ترجیح حاصل ہے کہ وہ احادیث لکھ لیتے ہیں بلکہ امام ذہبی کے بقول لکھنے میں "أصح الناس كتابا” تھے یعنی لوگوں میں سب سے زیادہ صحیح لکھنے والے۔ اور شعبہ سے انہوں نے بہت احادیث لکھی ہیں۔
تو اصلاً صحیح مسلم کی روایت (7036) میں الفاظ «فِي أُمَّتِي» کے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں بارہ منافق ہیں۔ لیکن ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ صحیح مسلم ہی کی اگلی روایت (7036) میں جب «فِي أَصْحَابِي» کی بجائے «فِي أُمَّتِي» کے الفاظ بھی ہیں تو اس اگلی روایت کو بیان بھی کرتے ہوئے انجینیئر محمد علی مرزا صاحب کے پیٹ میں درد اٹھتا ہے کیا ؟ پھر وہ کہتے ہیں کہ علماء خیانت کرتے ہیں! یہ علمی خیانت نہیں تو اور کیا ہے! یہ حدیثوں کو چھپانا نہیں تو اور کیا ہے! یا تو آپ دونوں احادیث بیان کریں ناں بلکہ اگلی تیسری بھی کہ جس سے آپ کا سارا مقدمہ دھڑام سے گر جاتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان دو روایات کے بعد صحیح مسلم کی اگلی روایت (7037) یہ ہے کہ وہ بارہ منافق، اصحاب عقبہ تھے۔

اصحاب عقبہ وہ ہیں جنہوں نے غزوہ تبوک سے واپسی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک گھاٹی میں حملہ کرنے کی کوشش کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نام حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو بتلا دیے تھے۔ ان اصحاب عقبہ کا ذکر سورہ التوبہ میں بھی ہے:

يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ مَا قَالُوا وَلَقَدْ قَالُوا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ وَهَمُّوا بِمَا لَمْ يَنَالُو۔

ترجمہ: وہ قسمیں اٹھا کر کہتے ہیں کہ انہوں نے ایسی بات نہیں کہی جبکہ وہ ایسے کفریہ کلمات کہہ چکے اور اپنے اسلام لانے کے بعد کفر کر چکے اور انہوں نے وہ ارادہ کیا جو وہ پا نہ سکے۔

باقی اگر صحیح مسلم کی اس روایت (7035) کے بھی الفاظ لے لیں کہ جس میں «فِي أَصْحَابِي» کے الفاظ ہیں تو یہاں صحابی کا لفظ لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اور قرآن اور حدیث میں اصحاب کا لفظ لغوی معنی میں کثرت سے استعمال ہوا ہے۔

اصحاب کا لفظ صاحب کی جمع ہے کہ جس کا لغوی معنی ساتھی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دینے والوں میں منافق تھے، اس میں کیا شک ہے۔ تو صحابی کا ایک لغوی معنی ہے اور دوسرا اصطلاحی معنی ہے۔ لغوی معنی میں اس سے مراد صرف ساتھی ہے جیسا کہ قرآن مجید میں اہل جہنم کو "اصحاب النار” کہا گیا ہے یعنی جہنم کے ساتھی اور بیت اللہ پر حملہ کرنے والوں کو "اصحاب الفیل” کہا گیا ہے۔ اسی طرح صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ ایک منافق نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر مال غنیمت کی تقسیم میں عدل نہ کرنے کے حوالے سے تنقید کی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ میں اس منافق کو قتل کر دوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں کہا: «مَعَاذَ اللهِ، أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنِّي أَقْتُلُ أَصْحَابِي» اے عمر، اللہ کی پناہ، لوگ یہ باتیں کریں گے کہ میں اپنے اصحاب کو قتل کر دیتا ہوں۔

تو اس روایت میں بھی "باء زیر بی” کے ساتھ «أَصْحَابِي» کے الفاظ آئے ہیں کہ جن کے بارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے یہ فرما رہے ہیں کہ یہ قرآن پڑھیں گے لیکن ان کے حلق سے نہیں اترے گا اور دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے کمان سے تیر۔ تو ان منافقین کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابی کہا ہے۔ تو یہاں روایت میں صحابی سے مراد صحابی اصطلاحاً نہیں ہے کیونکہ اصطلاح تو بعد میں بنی ہے۔ اور اصطلاح میں صحابی سے مراد وہ شخص ہے کہ جس نے حالت ایمان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور حالت ایمان میں ہی اس کی وفات ہوئی ہو۔ اور منافق کی وفات تو حالت ایمان میں نہیں ہوتی لہذا وہ اصطلاحاً صحابی نہیں ہے البتہ لغوی اعتبار سے صحابی ہے کہ بظاہر وہ آپ کے ساتھ تھا، کافروں کے ساتھ نہیں۔ تو صحابی کا اصطلاحی معنی تو بعد میں وضع ہوا ہے۔

پھر آپ کہتے ہیں کہ اہل سنت کے علماء سے ذرا ان کے نام تو پوچھنا۔ تو پہلی بات تو یہ ہے کہ ان کے نام اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے راز رکھے ہیں اور صرف حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو بیان کیے ہیں۔ لیکن اگر آپ کو ان کے نام معلوم کرنے پر اصرار ہی ہے تو امام طبرانی نے ان کے نام بھی نقل کر دیے ہیں؛

1 – معتب بن قشير
2 – وديعة بن ثابت
3 – جد بن عبد الله بن نبيل
4 – الحارث بن يزيد الطائي
5 – أوس بن قيظي
6 – الحارث بن سويد
7 – سعد بن زرارة
8 – قيس بن قهد
9 – سويد بن داعس
10 – قيس بن عمرو بن سهل
11 – زيد بن اللصيت
12 – سلامة بن الحمام

اس کے بعد اشارے کنایوں سے جلیل القدر اور معروف صحابہ پر لعن طعن کرنے کی کیا تُک بنتی ہے؟؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے