ادراک زوال امت ! عمر فراہی

Spread the love

ادراک زوال امت !
عمر فراہی

علماء کا وقار صالح اور انصاف پسند حکمرانوں کے دور میں ہی قائم رہا ہے اور قوموں کے حکمراں اور سردار بھی اسی وقت مضبوط رہے ہیں جب قوموں کے اندر دعوت و عزیمت کے فرائض انجام دینے والے افراد موجود رہے ۔دعوت وعزیمت کے فرائض کو ترک کر دینے کا مطلب یہ ہے کہ لوگ سلاطین کی گرفت کرنا چھوڑ دیں یا دین اور اسلام کے نام پر وہی کام کریں جو سلاطین کے حق میں ہو یا پھر ان کے ظلم و استبداد سے خوفزدہ ہوکر ان کے فیصلوں کےخلاف خاموشی اختیار کرنے میں ہی عافیت سمجھنے لگیں ۔ایسے میں عیش پرست ابو عبداللہ اور بہادر شاہ بھی مطمئن ہو جاتے ہیں کہ چلو اچھا ہے اب کوئی مؤرخ کربلا اور کوفہ کی تاریخ نہیں لکھے گا ۔قسمت سے جب دور ملوکیت میں حکمراں بہادر نیک اور انصاف پسند رہے تو مسلمانوں نے بھی ترقی کی نہیں تو اسپین سے لیکر ہندوستان بغداد اور استنبول تک وقت کےبہادر شاہوں اور ان کی پوری قوم کا جو حشر ہوا وہ ہم دیکھ ہی چکے ہیں کہ وہ کس طرح شیطان اور ان کے قبیلوں کے ذریعے روند دئیے گئے اور دین صرف رسم و رواج اور تہذیب و تمدن کے پیرہن میں تحریر و تقریر اور وعظ و نصیحت کے ساتھ رسمی دعوت و تفریح اور بیعت وعیت تصوف وصوف کے دائرے میں محدود ہو کر رہ گیا ۔

اب نیو ورلڈ آرڈر یا اقوام متحدہ کے ماتحت سرمایہ دارانہ لبرل جمہوری طرز سیاست کے عروج کے بعد جبکہ عوام ہی حکمرانوں کا انتخاب کرتی ہے نہ صرف ملت ، قومیت اور تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر کے نظریے کا مفہوم بدل چکا ہے نئی تہذیب میں عالم جاہل حکمراں اور رعایا کی کوئی تفریق نہیں رہی ۔اب سب آزاد ہیں اب کوئی حملہ آور کسی سرحد پر فوج لیکر نہیں کھڑا ہوگا ۔ اب جہالت کی ساری رسمیں روند دی گئی ہیں ۔اب محمد عمر گوتم اور مولانا جہانگیر اور ذاکر نائیک کو دین کی آزادانہ تبلیغ سے کوئی نہیں روک سکے گا ۔ اب وقت کے یزیدوں سے نجات کیلئے ہر پانچ سال میں پرامن طریقے سے انتخابات اور راۓ شماری کے ذریعے کربلا کا میدان سجایا جاتا ہے اور یزید منتخب ہو جاتے ہیں ۔اپ کسی حسین کو کسی یزید صفت حکمراں کے خلاف کوچ کرنے اور مزاحمت کی ضرورت بھی نہیں رہی ۔

کم سے کم ہندوستان میں آزادی کے بعد مسلمانوں کے طاقتور لیڈر مولانا آزاد نے جامع مسجد کی سیڑھیوں سے جوتقریر کی تھی اس کا عنوان اور تصور تو یہی تھا۔ اب یہ الگ بات ہے کہ جو آواز بروقت پندرہ سولہ سترہ یا اٹھارہ اگست کو اس وفت اٹھنی چاہئیے تھی جب مسلمانوں کے قافلے اپنی بستیوں کو خالی کرکے پاکستان کی طرف جارہے تھے مولانا نے یہ باتیں تین مہینے بعد تیئیس اکتوبر کو اس وقت کہی جب مسلمانوں کا بہت بڑا قافلہ پاکستان اور بنگلہ دیش کی طرف ہجرت کرتے ہوۓ لٹ چکا تھا ۔مولانا چونکہ الفاظ کے دھنی تھے اس لئے اس تقریر کو تاریخی قرار دیا گیا جبکہ اس بات کا احساس مولانا کو بھی ہو چکا تھا کہ کہیں سے کچھ غلط ہو گیا ہے ۔اس کا تذکرہ انہوں نے اپنی کتاب انڈیا ونس دی فریڈم میں تفصیل کے ساتھ تو کیا لیکن یہ بات بھی وہ جمہوری حکمرانوں کے سامنے کہنے کی جرات نہ کر سکے اور اس کتاب کے اہم صفحات کیلئے وصیت کردی کہ اسے ان کے انتقال کے تیس سال بعد شائع کیا جائے۔

مسلمانوں نے اس کتاب سے کیا درس لیا اور مولانا جو کہنا چاہتے تھے کیا حکمراں جماعت کانگریس پر اس کا کوئی اثر بھی پڑا ؟ اس کا جواب نفی کے سوا اور کیا ہو سکتاہے۔اس کے برعکس حکمراں جماعت کانگریس نے ایک زمانے سے فرقہ وارانہ فساد کا اس طرح زہر بویا کہ مسلمانوں کو کانگریس کی سیاست کو سمجھنے کا وقت ہی نہیں ملا ۔جب وقت ملا تو ان کے پاس متبادل کے طورپر قیادت کے بحران اور انتشار کے سوا اور کچھ نہیں بچا اور ملک کی عوام نے جمہوریت کی اس نیلم پری کو ایک فرقہ پرست سیاسی پارٹی کے سپرد کر دیا ۔

مستقبل میں اس فاشسٹ سیاسی جماعت کے خلاف کوئی متبادل سیاسی محاذ کھڑا ہو بھی گیا تو بھی آثار تو یہی نظر آرہے ہیں کہ اس محاذ سے بھی مسلمانوں کا کوئی بھلا نہیں ہونے والا اور نہ ہی وہ اب اپنی بنیادوں کی طرف لوٹنے کی جرآت بھی کر سکتا ہے ۔
اگر وہ ایسا کرتا بھی ہے تو یہ اصل روایت ہی بدعت قرار پاۓ گی ۔سچ تو یہ ہے کہ موجودہ لادینی سیاسی نظام کے ماتحت مادر وطن میں مسلمانوں کے اندر اسلام کی اصل روح اور بنیاد کا کوئی تصور بھی نہیں رہا۔کچھ تو گلوبلائزیشن نے اہل حق کے اسلامی مزاج کو نہ صرف تبدیل کر دیا ہے مسلمانوں کو اپنے تبدیل ہونے کا ادراک بھی نہیں رہا ۔کچھ کانگریس نے پچاس سالوں میں ملک کو لاقانونیت اور بدعنوانی کی طرف موڑ دیا ۔اب آدھا جو بچا ہے موجودہ سرکار جاتے جاتے اتنا بدل چکی ہوگی کہ ملک رہنے کے لائق نہیں ہوگا ۔ باقی منہج ,عقیدہ ، شریعت اور دعوت وغیرہ کی تحریک کچھ نام نہاد امیروں اور اماموں کی رہنمائی میں صرف مرثیہ پڑھنے کے جیسا ہے ۔کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں کہ کیا واقعی سیکولر لادینی جمہوری طرز سیاست کے پر فتن آزادانہ دعوت و تبلیغ کے دور میں ملت اسلامیہ ہند اپنے زوال کے ادراک کی پیمائش سے بھی محروم ہوچکی ہے !

کوئی تسلیم کرے نہ کرے سچائی یہی ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے