طاقت کا نظریہ اور نیوٹن: عمر فراہی

Spread the love

طاقت کا نظریہ اور نیوٹن:
عمر فراہی

جنھوں نے اقتدار کی خواہش ہی نہیں کی یا جن کا اقتدار حاصل کرنے کا مقصد ہی نہیں تھا وہ بہرحال اب کسی کمیشن یا سچر کمیٹی جیسے سرکاری ایجنسیوں کے ذریعے اپنی مظلومیت اور پسماندگی کی شرح میں اضافے اور کمی کے منتظر رہ سکتے ہیں ۔ہم نے آنے والی نسلوں کی ترقی اور عروج کا علاج یہ تجویز کیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعلیم میں آگے آئیں ۔بات تو صحیح ہے لیکن اب پچاس سال کے بعد مسلمان تعلیم حاصل کر کے جن قوموں سے آگے نکل جانا چاہتے ہیں مسابقت کے اس ماحول میں کیا دوسری قومیں بھی یہی نہیں سوچ رہی ہیں اور وہ نہ صرف تعلیم میں مسلمانوں سے بہت آگے جاچکی ہیں ان کے ہاتھ میں اقتدار بھی ہے اور وہ اس اقتدار اور سرکاری ایجنسیوں کے ذریعے کسی نہ کسی طرح مسلمانوں میں خوف اور دہشت پیدا کر کے ان کا راستہ روکنے کی کوشش بھی کر رہی ہیں ۔بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ 1947 کے بعد سے یہی ہو رہا ہے ۔کبھی فسادات میں ان کے جان مال اور املاک کا تباہ کیا جانا کبھی کسی مسلم تنظیم پر مذہبی شدت پسندی کے تحت پابندی لگا کر ان کے کارکنان کو گرفتار کرنا ۔کبھی بم دھماکوں میں تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کو مجرم قرار دے کر بیس بیس سال تک جیلوں میں قید کر کے ان کے حوصلوں کو پست کرنے سے لیکر معاشی طور پر پسماندہ بنا دینا ۔ اب ایک بار پھر فرقہ پرست فاشسٹ حکومت کے ذریعے کوئی ایسا نیا کھیل تو نہیں کھیلا جارہا ہے جو ایک زمانے سے سیکولر کانگریس نے نہیں کھیلا ہو لیکن یہ حکومت تمام سیاسی پارٹیوں کے لیڈران پر حکومتی ایجنسیوں کا خوف بٹھا کر اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرتے جارہی ہے ۔کہتے ہیں کہ ہر کھیل کا اپنا انجام لازمی ہے ۔موجودہ حکومت کے اپنے کھیل کا انجام بھی ضرور ہوگا لیکن اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ یہ حکومت جاتے جاتے بھارت کا بہت کچھ بھگوا کرن کر چکی ہوگی ۔خاص طور سے قومیں اپنے جن قائدین کی رہنمائی میں اپنا وقار بحال رکھتی ہیں مسلمانوں کے اس وقار کو سیکولر کانگریس ہی نے روند ڈالا تھا اب یہ دوبارہ کیسے بحال ہو پائے گا یا نہیں کہا نہیں جاسکتا ۔لیکن ایک بات تو طئے ہے کہ قوموں کی قیادت حویلیوں کارپوریٹ طرز کی آفسوں ائیر کنڈیشنڈ گاڑیوں اور تقریروں سے کبھی نہیں ہو سکتی ۔بہت ہی سادگی کی ضرورت ہے اور قیادت کو اپنے ہر چھوٹے بڑے کارکنان سے ذاتی طور پر رابطہ بنا کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ۔بدقسمتی سے اب بھارت کی کسی مسلم تنظیم کے مذہبی اور سیاسی قائد کے اندر یہ سادگی یہ جذبہ اور عام کارکنان کو سننے اور اس کی باتوں کو اہمیت دینے کا حوصلہ نہیں ہے اور اب ان سے مسلمانوں کو کسی بڑے انقلاب اور خیر کی امید بھی نہیں رکھنی چاہئیے ۔آپ کہیں گے کہ پھر اس کا حل کیا ہے تو میں اپنے ایک مضمون میل کے پتھر میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ بھارت کے موجودہ سیاسی ماحول میں جہاں مسلمان بھی کئی خانوں میں تقسیم ہیں ان کیلئے قومی سطح پر منظم ہونا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔اس ماحول میں کسی بھی مسلم سیاسی لیڈر کو ملکی سطح پر سیاسی ہلچل پیدا کرنے سے بہتر ہے علاقائی سطح پر وہاں کی مقامی مسلم تنظیموں کی رہنمائی کریں کہ وہ منظم ہو کر سیاسی اور سماجی بیداری کے ذریعے مسلمانوں کی ہر شعبے میں رہنمائی کریں اور مسلم نوجوان خواہ وہ چھوٹی تجارت یا پرائیویٹ ملازمت ہی کیوں نہ ہو کوئی شرم محسوس کرتے ہوۓ اسے قبول کرکے اپنی جدوجہد جاری رکھیں کیوں کہ قوموں کی اصل کامیابی اپنے وقت کے استعمال اور جدوجہد کو جاری رکھنے میں ہے اور جدوجہد ہی کسی بھی فرد اور قوم کا اصل سرمایہ اور معیشت ہے ۔جسے انگلش میں
Effort
کہتے ہیں
اور اسی effort کو نیوٹن
F=m.a
سے تشریح کرتا ہے
یعنی جب آپ اپنے کسی بھی سرماۓ یا اثاثے کے ساتھ خواہ وہ پیسہ ہو یا دماغ یا جسمانی قوت اور محنت
accelerate
یعنی جدوجہد کرتے ہیں تو آپ کا طاقتور ہونا لازمی ہے اور نیوٹن نے اسی طاقت یعنی فورس کو F سے تشریح کی ہے ۔اسی بات کو میں قرآن اور رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے بھی سمجھا سکتا تھا مگر کچھ جدت پسند مسلمانوں کو ملا گیری پسند نہیں ۔وہ ہمیشہ مسلمانون کی کامیابی کیلئے یہودو نصاریٰ اور اسرائیل کی مثال دیتے ہیں ۔خیال آیا کہ آج یہودی نثراد سائینسداں نیوٹن کے تحریکی سائینسی نظریے کی ہی تشریح کر دیتے ہیں۔ شاید کہ کسی دل میں اتر جائے مری بات !
اب سوال آپ کے ذوق اور حوصلے کا بھی ہے جیسا کہ شاعر مشرق کہتے ہیں کہ
قوموں کی حیات ان کے تخیل پہ ہے موقوف
یہ ذوق سکھاتا ہے ادب مرغ چمن کو
یقیناً قرآن سے بہتر انسانوں کے اندر کامیابی کا تصور اور تخیل کہیں اور سے نہیں پیدا ہو سکتا ۔ باقی جہاں تک سائینس اور ٹکنالوجی کی بات ہے یہ تو دنیا کی ہر قوم کے لوگوں کے ذہنوں میں وہ چاہے خدا پرست ہوں یا بت پرست یا ملحد قدرت کی طرف سے بارش اور الہام کی طرح نازل ہوتے رہتی ہے سوال میدان عمل میں مسلسل اپنی ذہنی صلاحیت ,جسمانی جدوجہد اور حوصلے کے ساتھ ثابت قدم رہنے کا ہے ۔اور یہی کسی قوم کی اصل ترقی اور کامیابی کا اصول بھی ہے۔

"If I have the belief that I can do it I shall surely acquire the capacity to do it even if I may not have it in the beginning "

Mahatma Gandhi

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے