فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند-ایک تعارف: مفتی امانت علی قاسمی

Spread the love

فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند-ایک تعارف:
مفتی امانت علی قاسمی
استاذ و مفتی دارالعلوم وقف دیوبند

دارالعلوم وقف دیوبندمیں فتاوی نویسی کا نظام قیام دارالعلوم وقف دیوبندکے ساتھ ہی جاری ہے اور یہ عرصہ قریب چالیس سال کو محیط ہوچکاہے، اس عرصہ میں کثرت کے ساتھ دارالعلوم وقف دیوبندکی طرف فتاوی کے سلسلے میں رجوع کیا جاتا رہا اور آج بھی اس کا تسلسل الحمد اللہ قائم ہے ۔ دارالعلوم وقف دیوبندکے سب سے پہلے مفتی حضرت مولانا احمد علی سعید صاحبؒ تھے جن کو فتاوی کے سلسلے میں کافی درک اور مہارت حاصل تھی،وہ اپنے علمی و فقہی ذوق کی بنا پر علماء دیوبند میں ممتاز تھے، ان کے بعد بھی باصلاحیت حضرات مفتیان کرام خدمات انجام دیتے رہے اور دستی اورڈاک کے علاوہ آن لائن فتاوی کا بھی یہاں پر نظام ہے جس کی وجہ سے فتاوی کا بہت بڑا ذخیرہ جمع ہوگیا تھا اور شروع سے ہی حضرت مولانا محمد سفیان قاسمی صاحب دامت برکاتہم مہتمم دار العلوم وقف دیوبند کی خواہش تھی کہ یہ فتاوی مرتب ہوجائیں تاکہ اس کا افادہ عام ہوسکے؛ لیکن خدائی قانون کے تحت ہر چیز کا ایک وقت متعین ہوتا ہے چنانچہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے جب تعلیمی سلسلہ سابقہ روایات کی طرح جاری نہیں رہ سکا توحضرت مولانا محمدشکیب قاسمی صاحب نائب مہتمم دارالعلوم وقف دیوبند نے حضرت مہتمم صاحب دامت برکاتہم کی ہدایت و ایما پر دیگر کتابوں کی تحقیق و ترتیب کے ساتھ ترتیب فتاوی کا نظام بھی قائم فرمایا ۔
ترتیب فتاوی کے سلسلے میں بحکم حضرت مہتمم صاحب دامت برکاتہم ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے اراکین یہ ہیں: حضرت مولانا مفتی احسان صاحب قاسمی (مفتی دارالعلوم وقف دیوبند) حضرت مولانامحمد شکیب صاحب قاسمی(نائب مہتمم دارالعلوم وقف دیوبند) حضرت مولانا مفتی محمدعارف صاحب قاسمی (مفتی دارالعلوم وقف دیوبند)مفتی محمد عمران صاحب قاسمی (نائب مفتی دارالعلوم وقف ) مفتی محمد اسعد جلال صاحب قاسمی (نائب مفتی دارالعلوم وقف دیوبند) مفتی محمد حسنین ارشد صاحب قاسمی (نائب مفتی دارالعلوم وقف دیوبند) اور راقم الحروف امانت علی قاسمی (مفتی دارالعلوم وقف دیوبند) ۔سب سے پہلے کاموں کا خاکہ مرتب کیا گیا اس کے بعد توکلا علی اللہ کام شروع کردیا گیا اور الحمدللہ ایک سال کے عرصے میں اس کی دو جلدیں منظر عام پر آچکی ہیں؛ جب کہ تیسری جلد اشاعت کے مرحلے میںہے اور مزید دوجلدوں پر کام تکمیل کے مرحلے میں ہے ۔الحمد اللہ علی ذلک۔

*ترتیب فتاوی کا منہج:*
ترتیب فتاوی میں جن چیزوں کا اہتمام کیا گیا ہے وہ درج ذیل ہیں :
(۱)فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند،دارالعلوم وقف دیوبندسے جاری فتاوی کا منتخب مجموعہ ہے ، اب تک جتنے فتاوی یہاں سے جاری ہوئے ہیں وہ تمام فتاوی بڑے رجسٹروں میں محفوظ تھے، سب سے پہلے تمام رجسٹروں کو پڑھ کر ابواب و فصول کی نشان دہی کی گئی اور اس طرح ایمانیات اورطہارت وغیرہ کے مسائل کو رجسٹروں سے نکال کر کمپوز کرالیا گیا۔
(۲)تمام فتاوی کو پڑھ کر مکررات کو حذف کیا گیا تاکہ غیر ضروری ضخامت سے اجتناب کیا جاسکے ۔
(۳) تمام فتاوی پر عنوانات لگائے گئے۔
(۴) ابواب و فصول کی ترتیب قائم کرکے منتخب فتاوی کا ایک مجموعہ تیار کرلیا گیا۔
(۵)اس کے بعد تخریج کا عمل شروع کیا گیا اور انتہائی عرق ریزی سے تخریج کے عمل کو انجام دیا گیا اور کوشش کی گئی کہ ہر مسئلے میں کم از کم تین حوالہ جات درج کیے جائیں کہیں کہیں اس سے زیادہ اور بعض جگہ اس سے کم پر بھی اکتفاء کیا گیا ہے ۔حوالہ جات میں کوشش کی گئی ہے کہ جدید تحقیقی امور کو پیش نظر رکھتے ہوئے تمام ضروری چیزوں کا اندراج کیا جائے ۔

*فتاوی کی خصوصیات*
فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند کی خصوصیات درج درج ذیل :
(۱)چوں کہ یہ منتخب فتاوی کا مجموعہ ہے اور اس میں ۱۹۸۳ء سے تاحال کے فتاوی شامل ہیں اس لیے ہر باب میں جدید مسائل کا اچھا خاصہ ذخیر ہ آگیا ہے۔
(۲) کوئی بھی فتوی بلا حوالہ درج نہیں ہے ؛بلکہ ہر فتوی کی تخریج لازمی طورپر کی گئی ہے۔
(۳) تخریج فتاوی میں جدید اسلوب کی مکمل رعایت کی گئی ہے اور حدیث کے حوالے میں باب کے ساتھ حدیث نمبر اور فقہی کتابوں میں بھی کتاب کے ساتھ باب و فصل کے اندراج کا ا ہتمام کیا گیا ہے ۔
(۴)فتاوی کے شروع میں حضرت مہتمم صاحب دامت برکاتہم کا فقہ و فتاوی سے متعلق علمی و تحقیقی مقدمہ شامل ہے جس میں مجتہدین کے امتیازات اور ان کا دائرہ کار، فقہ اسلامی عہد بہ عہد،فقہ اسلامی کے مصادر ،فقہی مصادر سے استفادہ کا طریقہ کارکے علاوہ فتاوی نویسی کی اہمیت جیسے عنوانات پر منفرد اسلوب میں مدلل گفتگو کی گئی ہے ۔

*ابو اب و فصول کا تعارف*
فتاوی کی پہلی جلد باب الایمان ، باب العقائد اور باب البدعات و الرسوم پر مشتمل ہے ،باب الایمان میں دو فصلیں ہیں فصل اول: ایمانیات سے متعلق مسائل، فصل ثانی:کفریہ وشرکیہ اعمال و اقوال۔باب العقائد میں آٹھ فصلیں ہیں جن کی تفصیل یہ ہے : فصل اول قضاء قدر ،فصل ثانی: انبیاء کرام سے متعلق عقائد ،فصل ثالث: علم غیب کا بیان ،فصل رابع : صحابہ کرام سے متعلق عقائد کا بیان ،فصل خامس: حشر و نشر کا بیان ،فصل سادس: جنات و فرشتوں سے متعلق عقائد کا بیان ،فصل سابع: توسل کا بیان اورفصل ثامن: اسلامی عقائد۔ باب البدعات و الرسوم میں نو فصلیں ہیں:فصل اول: مروجہ فاتحہ خوانی ،فصل ثانی : میلاد و مروجہ صلاۃ و سلام، فصل ثالث : نذر و نیاز سے متعلق رسوم ،فصل رابع: مزارات اورقبروں سے متعلق رسومات،فصل خامس: میت اور ایصال ثواب سے متعلق رسومات، فصل سادس: نکاح کی رسومات، فصل سابع: مخصوص ایام کی رسومات، فصل ثامن : اغلاط العوام ، فصل تاسع متفرفات بدعت ۔ دوسری جلد باب العلم ، باب السیر والمناقب ، اسلامی و غیر اسلامی فرقے ، دعوت و تبلیغ ، اذکار و ادعیہ ، تصوف وسلوک اور کتاب الطہارت کے بعض حصوں پر مشتمل ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے