=نقش ہیں سب ناتمام خون جگر کے بغیر= محمد قمر الزماں ندوی

Spread the love

=نقش ہیں سب ناتمام خون جگر کے بغیر=
محمد قمر الزماں ندوی

دمشق (ملک شام کی دار الحکومت) کے ایک معروف اشاعتی ادارہ ،، دار ابن کثیر ،، نے دنیا کے بلند پایہ علماء کرام کے تعارف پر کتابیں شائع کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ اس کے پانچویں جز کی اشاعت 1998ء میں ہوئی ،جس میں 375 صفحات میں سید عبد الماجد غوری ندوی کی ترتیب کردہ حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رح کی سوانح شائع کی گئی ہے ۔ اس کتاب کے مقدمہ میں دمشق یونیورسٹی کے شعبئہ دینیات کے سابق سربراہ ڈاکٹر سعید الحق نے مولانا علی میاں ندوی رح کا تعارف کراتے ہوئے لکھا ہے کہ مولانا موصوف 1956ء میں دمشق یونیورسٹی کی دعوت پر ،،رجال الفکر و الدعوة،، کے عنوان پر محاضرات پیش کرنے کے لیے دمشق تشریف لائے، تو یونیورسٹی کی طرف سے ایک نہایت شاندار ہوٹل میں آپ کے قیام کا نظم کیا گیا۔ مگر آپ نے یونیورسٹی کی اس پیشکش کو قبول نہیں کیا، بلکہ سادگی اور تواضع کے ساتھ ایک مسجد کے حجرے میں قیام پسند فرمایا ،تاکہ عبادت والا ماحول میسر رہے اور پھر اس شان سے محاضرات پیش کئے، کہ پورے ملک میں دھوم مچ گئی۔ان محاضرات کی کامیابی میں مولانا کی انابت الی اللہ اور رجوع اور اخلاص و للہیت کو بڑا دخل تھا ۔(ندائے شاہی مارچ 2000ء )
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تقریر و تحریر ،وعظ و نصیحت، پند و موعظت اور ارشاد و خطابت میں نہ صرف ظاہری اثر اندازی کی باطنی طاقت، بلکہ ظاہری آب و تاب بھی اسی وقت پیدا ہوتی ہے ، جب تقریر و تحریر مقرر و محرر کے صرف ،،قال،، کی ترجمان نہ ہو بلکہ ،،حال،، کی عکاس ہو ۔
حضرت مولاناعلی میاں ندوی رح کے اس طرز عمل سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اصلاح امت کے لیے داعی و مبلغ اور مصلح و ناصح اور واعظ و مقرر کے اندر عمل کی بھر پور طاقت اور خلق خدا کی اصلاح اور خدمت کا سچا جذبہ ہو ۔
تاریخ شاہد ہے اور مصلحین امت کی سیرت و کردار اور ان کے سوانح پڑھنے سے یہ بات بخوبی عیاں اور بیاں ہوتی ہے کہ جو داعی اور مبلغ بھی عمومی دعوت لے کر اٹھا ہے ۔ اور اس کی دعوت میں مرکزیت اور ہمہ گیری آئی ہے وہ عمل اور ذوق عبادت اور جذبئہ خدمت کے اعتبار سے امتیازی مقام پر فائز تھا ۔ اسی کثرتِ عبادت نے اس کی زبان و قلم اور وعظ و نصیحت میں وہ اثر انگیزی پیدا کی کہ زندگی میں ہی نہیں بلکہ وفات کے بعد بھی ان کا فیض محسوس طور پر جاری رہا ۔
دمشق کے ایک عالم اور داعی جب صبح وعظ کہتے، تو اس کی تیاری وہ اس طور پر کرتے کہ دعا ،توبہ ،رجوع الی اللہ اور نوافل و اوراد کی کثرت کے ساتھ تہجد کے وقت میں دس پارہ ضرور تلاوت کرتے اور کبھی بھی اس عمل میں تخلف نہیں کرتے ، مجلس وعظ کی حالت اور کیفیت یہ ہوتی کہ ہر شخص کی آنکھیں اشک بار ہوتیں اور وہ عمل و ہدایت اور اثر و تاثیر کی دولت اور سوغات لے کر مجلس سے جاتے ۔ جو داعی ،خطیب اور مبلغ و مقرر ان صفات سے متصف ہوگا اور گفتار سے زیادہ کردار کا غازی ہوگا ۔ اس کی زبان سے نکلنے والے چند سادے اور بے ربط کلمات اور جملے بھی ایسا اثر رکھیں گے کہ بڑے بڑے مقررو وخطیب اور فصحاء اور بلغاء کی لمبی لمبی اور لچھے دار تقدیروں میں بھی وہ تاثیر نہیں ہوگی ۔
آج مقرروں اور واعظوں کی کمی نہیں ہے اور نہ ہی علم و معلومات کی کمی ہے ، بلکہ کمی ہے کردار کی ، عمل کی،روح کی ،اخلاص کی، خلوص کی ،للہیت کی ، خون جگر کی،قوت عمل کی ، جب تک یہ چیزیں پیدا نہ ہوں گی اثر اور تاثیر کبھی پیدا نہیں ہوگی ۔ اقبال مرحوم نے سچ کہا ہے ۔۔
نقش ہیں سب ناتمام تمام خون جگر کے بغیر
نغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے بغیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے