کھلا خط۔۔ بنام فیصل رحمانی صاحب: آپ تاریخ میں کس طرح درج ہونا چاہتے ہیں? مکرمی جنا ب فیصل رحمانی صاحب سجادہ نشین خانقاہ رحمانی مونگیر! آصف انظار عبدالرزاق صدیقی

Spread the love

کھلا خط۔۔ بنام فیصل رحمانی صاحب:
آپ تاریخ میں کس طرح درج ہونا چاہتے ہیں?
مکرمی جنا ب فیصل رحمانی صاحب سجادہ نشین خانقاہ رحمانی مونگیر!

آصف انظار عبدالرزاق صدیقی
پاکٹولہ جالے دربھنگہ/سیتامڑھی

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
جناب عالی قدر!

تاریخ ایک وسیع قبرستان ہے۔۔جس میں قبریں ہمیشہ نمایاں لوگوں کی بنائی جاتی ہیں،اور حسب کارکردگی نمایاں رہتی ہیں ،کی جاتی ہیں، یا ضرورت کے تحت رکھی جاتی ہیں۔۔
بخت واتفاق سے آپ اس وقت بہار کی ملی تاریخ میں نمایاں ہوگئے ہیں، جس میں آپ کی کسی خوبی یا فن وصلاحیت کو رتی بھر دخل نہیں ہے۔۔آپ اپنے نامور والد کے انتقال سے اچانک لوگوں کی نگاہوں میں آئے بلکہ زیادہ درست تعبیر میں لائے گئے ہیں۔۔۔
اب یہیں سے آپ کو تاریخ میں زندہ رہنے کا معیار طے کرنا ہے۔۔آپ بہار کی ملی تاریخ میں یقینا درج ہوچکے ہیں جہاں سے آپ کا نام بے ایمان سے بے ایمان تاریخ نویس بھی مٹانہیں سکتا۔۔مگر تاریخ میں آپ کس طرح لکھے جائیں گے یہ آپ فیصلہ کریں گے۔۔
تاریخ کے قبرستان میں سراج الدولہ اور ٹیپوسلطان کی قبریں بھی ہے۔۔میر جعفر اور میر صادق کی بھی۔۔
مٹی دونوں کی برابر ہے ٹیپو اور سراج کا خاندان معلوم نہیں کہاں ہے اور میر جعفر وصادق کابھی کہیں ہوگا۔۔مگر دونوں کی قبریں تاریخ میں نمایاں ہیں۔۔۔ٹیپو کی قبر پر ہماری طرح کے متشددین بھی سر کو قدم بنا کے جاتے ہیں ۔۔۔مرے ہوئے کی خاک پر ہیبت سے سرجھکاتے ہیں۔ اور محسوس کرتے ہیں کہ چلنے پھرنے کے باوجود ہم مردہ ہیں اور مزار میں سیکڑوں سال سے سورہا شہید زندہ ہے ۔ اور اگرجعفر و صادق کی قبر چلتے پھرتے نظر آجائے تو تھوکنا فرض منصبی سمجھیں گے۔۔
۔۔
آپ ابھی تک اپنی ذات سے بڑے نہیں بنے ہیں ۔آپ کو والدصاحب کی نسبت اور سجادگی نے بڑا بنایا ہے۔۔یعنی اگر آپ سجادہ نشین نہ ہوتو اپنے بھائی کی طرح آپ بھی بس ایک عام شخص ہوتے۔۔
جب خدا نے آپ کو ایک منصب عطا کیا ہے جو ایک طبقے کے نزدیک اہم ہے اور جہاں سے آپ بڑا کام کر سکتے ہیں۔۔آپ وراثت میں ملی سجادگی کو حقیقی سجادگی میں بدل سکتے ہیں۔۔آپ کی خانقاہ کے ساتھ ایک بڑا تعلیمی ادارہ ہے جسے آپ اپنے متوسلین کے تعاون سے بہار ہی نہیں برصغیر کا نمائندہ ادارہ بنا سکتے ہیں۔۔
عموماً برصغیر میں سجادگی خداوندی ہے۔۔معتقدین اصولاً آپ کو صرف سجادہ نشین مانیں گے مگر عملاً آپ کو معصوم سمجھیں گے لہذا کبھی آپ کو آپ کی کوتاہیوں پر مطلع نہیں کریں گے۔۔
۔۔
آپ نے اپنی زندگی بھارت سے دور امریکہ میں گزاری ہے۔امریکہ میں آپ نے زیادہ حقیقت پسندانہ رویہ دیکھا ہوگا۔۔آپ اپنے علم اور تجربے سے خوب جانتے ہیں کہ جوسجادگی آپ کے ہاتھ آئی ہے ایسی پر لطف سجادگی امریکہ کے ماحول کے مطابق نہیں ہے۔۔بندگی کے یہ چونچلے مشرق کے بدعقل معاشرے کی خصوصیات میں سے ہے۔۔تو آپ کو اپنی خانقاہ کو حقیقت پسند اور جامعہ رحمانی کو معیاری دانش گاہ بنانے پر محنت صرف کرنی چاہیے
جو یقیناً ابھی تک جامعہ نہیں ہے۔۔
۔۔
امارت شرعیہ کے سلسلے میں آپ کے ساتھیوں کی کوششوں نے امارت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔
بہار اڑیسہ جھارکھنڈ کے لیے یہ ادارہ نہایت معتبر
اور بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔۔ان صوبوں کے مسلمانوں کا اس ادارے سے جذباتی تعلق ہے
آپ ابھی اپنی ذات سے اتنے بڑے نہیں ہیں کہ امارت کی ہوس کریں اور اگر بڑے ہوتے تب بھی کو ئی صاحب عقل آپ کی ہوس جاہ کا مشورہ نہ دیتا۔۔ نہ ہی امارت کوئی موروثی ادارہ ہے کہ آپ اپنے والد کے بعد امارت اپنا حق سمجھیں۔۔ویسے بھی عہدے کی طلب اہل حق کے نزدیک کبھی محمود نہیں ہے۔۔۔
آپ ابھی جوان ہیں آپ کو قسمت سے دو ادارے خانقاہ اور جامعہ ملے ہیں اگلے چند سالوں میں جامعہ کو اپنی جدید تعلیمی سمجھ سے ملت کے لیے قیادت پیدا کرنا والا دانش گاہ بنائیں۔۔اور خانقاہ کو اخلاقی سائینس کی عملی تجربہ گاہ بنائیں۔۔چونکہ ابھی تک آپ کی جو پہچان بنائی گئی ہے وہ خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشین کی ہے تو آپ اس پر دھیان دیں ۔۔

امارت کو اصول وضوابط قواعد ودستور کے مطابق اپنا کام کرنے دیں۔۔۔
جوڑ توڑ اور اثر ورسوخ کے استعمال سے آپ بے اصولی ضابطے کی خلاف ورزی اور غیر دستوری کام کرواکے ہوسکتا ہے امیر شریعت بن جائیں۔۔
مگر یاد رکھیں آپ بہار اڑیسہ جھارکھنڈ کو انتشار سے نہیں بچا سکتے۔۔۔
اور پھر تاریخ کے قبرستان میں آپ نیک نامی سے مدفون نہیں ہوسکیں گے تاریخ کے قبرستان میں آپ کی قبر گھورے پربنے گی جہاں بلبل چونچ میں گل لے کر نہ آئے گی۔۔متعفن کچرے کا ڈھیر ہوگا جہاں سے انتشار کی سڑی ہوئی بدبو اٹھ رہی ہوگی۔۔۔۔۔یہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے لوگ سارا کچا چٹھا محفوظ رکھتے ہیں۔۔
جب آپ بڑے بن گئے ہیں تو بڑے ہونے کا ثبوت دیں اور آپ کے حلقۂ ارادت سے متعلق ارباب جو ہلڑ بازی کر رہے ہیں آپ اسے رکوائیں
ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ ہلڑبازیاں آپ کے اشارے اور منشا کے مطابق ہیں مگر ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ انکی ہلڑ کا محور آپ ہیں وہ آپ کی امارت کے لیے ایسی ایسی اوچھی حرکتوں پر آمادہ ہیں جو کسی شریف آدمی سے بھی متصور نہیں چہ جائیکہ علمائے اسلام اور دین کی حفاظت کے نمائندہ شخصیات سے۔۔

اس لیے خدا کے واسطے احوال کو درست فرمائیں۔
گستاخی بے ادبی کے لیے ہزار معذرت کوئی لفظ شان کے مطابق نہ ہو اس کے لیے معافی۔۔کی درخواست کے ساتھ عرض ہے۔۔۔۔

تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے

خیر اندیش۔۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے