عفت مآب صنفِ نساء اور مساجد اللّٰہ ۔مسعود محبوب خان (ممبئی)

Spread the love

عفت مآب صنفِ نساء اور مساجد اللّٰہ
۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
+919422724040

اس موضوع پر قلم کو حرکت میں لانے سے قبل چند باتیں آپ حضرات کے گوش گزار کرنا چاہوں گا۔ مجھے اس بات کا احساس ہے کہ میرا مطالعہ بہت ہی ناقص اور شاید سطحی ہے، میں بھی ایک ادنیٰ سا طالب علم ہوں۔ پھر بھی کچھ مطالعے کی بنیاد پر چاہا کہ چند باتیں آپ کے ساتھ شیئر کروں۔ وہ بھی اس لئے کہ اللّٰہ نے اس خادم ملت کے سر ایک اہم ذمّہ داری یعنی مسجد و مدرسہ کا ادنیٰ سا خادم بنایا ہے۔ اس مضمون کو تحریر کرنے کا مقصد یہ بھی تھا کہ کچھ ساتھی چاہ رہے تھے کہ مسجد پر ان کی جماعت و فکر کی اجارہ داری ہو، جسے ہم نے افہام و تفہیم کے ذریعے حل تو کردیا۔ مگر اس کے بعد مسجد کو کچھ بھائیوں نے ہدف بنا کر اس بات کی تشہیر شروع کردی کہ منتظمین مسجد فکری طور پر قادیانی ہیں، اس کے لئے جواز پیش کیا گیا کہ ان کی مسجد میں عورتوں کی نماز کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ جب انہیں اس بات کا احساس دلایا گیا کہ غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں تو اس کے بعد اہل حدیث ہونے کا لیبل چسپاں کیا گیا۔ جب کہ معلوم ہونا چاہئے کے قادیانی تو متفقہ طور پر دائرہ اسلام سے باہر ہیں۔ رہی بات اہل حدیث کی تو قریب کے تمام افراد جانتے ہیں کہ ہم نے صلوٰۃ تراویح 20 رکعت پڑھائی ہے۔

تعجب اور افسوس ہوا مجھے اپنے ان بھائیوں کی فکر و نظر پر جماعتی عصبیت کی بنیاد پر غلط الزامات کی تشہیر۔ اللّٰہ تعالیٰ ہم تمام پر رحم و کرم کا معاملہ فرمائے۔ ویسے مسجد میں عورتوں کی نماز کا معاملہ تو ہمارے کچھ اہل علم لوگوں نے حساس بناکر رکھ دیا ہے، جب کہ اگر اس موضوع پر مطالعہ کریں تو بات صاف صاف واضح ہوجاتی ہے۔ سورۃ التوبة، آیت نمبر 18 میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اللّٰہ کی مسجدوں کے آباد کار (مجاور و خادم) تو وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو اللّٰہ اور روز آخر کو مانیں اور نماز قائم کریں، زکوٰۃ دیں اور اللّٰہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں انہی سے یہ توقع ہے کہ سیدھی راہ چلیں گے”۔

"اللّٰہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں” بس اس صفت نے مجھے مجبور کیا اور توفیقِ الٰہی نے میرے اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیا۔ حالانکہ مسجد سے متعلق چند روز قبل ہی ڈرتے ڈرتے ایک مضمون تحریر کیا تھا جس کا عنوان "معصوم نمازی اور مساجد اللّٰہ” الحمد اللّٰہ! جسے علماء دین، مفتیانِ کرام اور دانشورانِ ملت نے کافی سراہا۔ دوبارہ ہمت بندھا کر ایک اہم اور حساس موضوع پر لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ امید کرتا ہوں میری اصلاح کے دروازوں کو آپ افراد کھلا رکھیں گے۔ کیونکہ رسول اللّٰہﷺ کی حدیث ہے "الْمُؤْمِنُ مِرْآةُ أَخِيهِ الْمُؤْمِنِ” (مومن اپنے مومن بھائی کا آئینہ ہے)۔ بہرحال اصل موضوع کی جانب لوٹتے ہیں۔

ہمارے موجودہ معاشرے میں ہم لوگ اپنی خواتین کو دیگر تقریبات یا کاموں کے ضمن میں آزادی اور لبرلائز کرنے میں جھجھک محسوس نہیں کرتے، مگر جہاں ان کی دینی بیداری اور مذہبی تعلیمات کی بات آتی ہے وہاں ہمیں ساری پابندیاں عائد کرنے کی فکر ستاتی ہے۔ اسی عمل کا منفی خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑھتا ہے۔ جب کہ معاشرے میں خواتین سب سے بڑا کردار نبھاتی ہیں۔ مستقبل کی نئی نسلوں کے ذہن و فکر کی آبیاری عورتوں کا ہی بہترین شیوہ رہا ہے۔ بچوں کی پہلی ترتیب گاہ یا درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے، بچہ جو حرکات و سکنات اور تعلیم و تربیت ماں کی گود سے حاصل کرے گا وہی معاشرے کو لوٹائیگا۔ اگر ہم نے اپنی خواتین کی دین سے آشنائی کا مثبت نظم و نسق کیا، تو ان شاء اللّٰہ! آنے والی نسلیں بھی دینی تعلیم سے بیدار ہوکر اللّٰہ کے دین کو اس سر زمین پر نافذ کرنے کے لئے مصروف عمل ہوگی۔ لہٰذا ہمیں موجودہ صورتحال میں اپنی خواتین کا کارگر اور کار آمد تعلیم و تربیت کا نظم قائم کرنا ہوگا، جس کے لئے میں سمجھتا ہوں ہماری مساجد بہترین رول ادا کرسکتیں ہیں۔ موجودہ دجالی و پرفتن دور میں خواتین کی دین اسلام سے آشنائی اور آبیاری وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

صـ
کہتے ہیں اس علم کو اربابِ ہنر موت
بیگانہ رہے دین سے اگر مدرسۂ زن

صنفِ نساء کی بے دینی کے نتیجے میں ہم عمیق گہرے سمندر میں ڈوب رہے ہیں۔ ملت کی بیٹیوں کی ایک اچھی تعداد دینی تعلیم نہ ہونے کے نتیجے میں دائرہ اسلام سے خارج ہونے کے دوراہے پر آکھڑی ہیں، بعض تو غیر مسلموں سے شادی کے نام پر فتنہ ارتداد کا شکار ہو کر زنا کررہی ہیں۔ باطل قوتیں انہیں اپنا آلہ کار بنا کر امت مسلمہ کی عزت نفس کو کھلے طور پر مجروح کررہی ہیں۔ خدارا کم از کم مساجد ہی کے ذریعے انہیں اسلام کی بیٹی رہنے کے مواقع فراہم کریں، کیونکہ مساجد سے باہر تو ہماری امت کا حال قابلِ بیان نہیں رہا۔ مسجدیں امید کی کرن اور روشنی کا منبع نظر آرہی ہیں۔ لہذٰا مسجدوں سے بھرپور استفادہ کریں۔ نظام اسلامی میں مساجد ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اسلامی معاشرے میں سب سے بڑا تعلیمی و تربیتی اور تدریسی مرکز مسجد ہے۔

• قرن اولیٰ___ مساجد میں خواتین کی آمد:

موجودہ دور میں مساجد میں نماز تراویح و دیگر نمازوں اور درس و تدریس کی مجلسوں میں شرعی حدود کی مکمل پاسداری کے ساتھ خواتین کی شرکت کا اہتمام اباحت و جواز کی حدود سے نکل کر ضرورت کے درجے میں داخل ہوگیا ہے۔ امام شافعی ؒ کے نزدیک ’’یباح لھن الخروج‘‘ عورتوں کے لئے (مسجد کی طرف نماز کے لئے) خروج مباح (جائز) ہے۔ (عمدۃ القاری: ج 6: ص 156)

احادیثِ صحیحہ، اصحابِ صحابہ اور سلف صالحین سے ثابت ہوتا ہے کہ عورتوں کا مسجد میں نماز پڑھنا ثابت شدہ اور جائز ہے، نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عہد نبویﷺ میں خواتین بلا مزاحمت مسجدوں میں جایا کرتی تھیں۔ بشرطیکہ وہ آدابِ شرعیہ اور پردے وغیرہ کا بہت اہتمام و التزام کریں۔

• عورتوں کا مسجد میں سونا اور صفائی کرنا:

صحیح بخاری جلد اوّل کی ایک طویل حدیث کے مطابق عورتوں کا مسجد میں سونا بھی جائز قرار دیا گیا ہے۔
اُم المؤمنین حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ عرب کے کسی قبیلے کی ایک حبشی لونڈی تھی انھوں نے اسے آزاد کر دیا تھا، مگر وہ ان کے ساتھ رہتی، وہ بیان کرتی ہے کہ (ایک مرتبہ) اسی قبیلے کے لوگوں کی لڑکی جو دلہن تھی باہر نکلی اور اس (کے جسم) پر سرخ چمڑے کی ایک حمائل (کمربند) پڑی ہوئی تھی، کہتی ہے کہ اس نے اس کو خود اتارا یا وہ اس سے گر پڑی، پھر ایک چیل اس طرف سے گزری اور وہ حمائل (نیچے) پڑی ہوئی تھی، چیل نے اسے سرخ گوشت سمجھا اور جھپٹ لے گئی، وہ کہتی ہے کہ ان لوگوں نے اس کو تلاش کیا مگر اسے نہ پایا تو اس کا الزام مجھ پر لگا دیا۔ کہتی ہے کہ وہ لوگ میری تلاشی لینے لگے یہاں تک کہ اس کی شرمگاہ کو بھی دیکھا۔ وہ کہتی ہے کہ اللّٰہ کی قسم میں (چپ صبر کیے ہوئے) ان کے پاس کھڑی تھی کہ اچانک وہ چیل گزری اور اس نے اس (حمائل) کو پھینک دیا۔ وہ کہتی ہے کہ حمائل ان کے درمیان آکر گری۔ کہتی ہے کہ میں نے کہا کہ یہی ہے وہ جس کا الزام تم نے مجھ پر لگایا تھا، تم نے بدگمانی کی حالانکہ میں اس سے بری تھی اور وہ یہ ہے۔

اُم المؤمنین حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ پھر وہ ﷴﷺ کے پاس آئی اور اسلام قبول کر لیا تو مسجد میں اس کا ایک خیمہ تھا یا (یہ کہا کہ) ایک چھوٹا سا حجرہ۔ اور وہ میرے پاس آیا کرتی تھی اور مجھ سے باتیں کیا کرتی تھی۔ میرے پاس وہ جب بھی آتی تو یہ ضرور کہتی کہ حمائل والا دن ہمارے پروردگار کی عجیب قدرتوں میں سے ہے آگاہ رہو اسی نے مجھے کفر کے شہر سے نجات دی۔ اُم المؤمنین حضرت عائشہؓ کہتی ہیں میں نے اس سے کہا کہ تمہارا کیا حال ہے کہ جب کبھی تم میرے پاس آتی ہو تو یہ ضرور کہتی ہو تو اس پر اس نے مجھ سے یہ قصہ بیان کیا۔ (صحیح بخاری اوّل، باب: 297، ح: 424)

ایک روایت میں ہے کہ مسجد کی صاف صفائی ایک خاتون کیا کرتی تھی، خاتون کا انتقال ہوا تو لوگوں نے ﷴﷺ کو اطلاع دیے بغیر اس کی تدفین کردی، آپﷺ کو جب خبر ہوئی تو آپﷺ اس کی قبر پر تشریف لے گئے (اور نماز پڑھی)۔ (بخاری شریف)

• خواتین کے لئے مسجد کے دروازے کھلے:

بخاری شریف جلد اول، باب 552، حدیث نمبر 823 میں بیان ہے کہ ﷴﷺ کے زمانے میں عورتیں (جماعت میں شریک ہوتیں) جب فرض نماز پڑھ کر سلام پھیرتیں تو اسی وقت کھڑے ہوکر چل دیتیں اور آپﷺ اور مرد حضرات جو آپﷺ کے پیچھے نماز میں ہوتے وہ ٹھیرے رہتے جب تک اللّٰہ کو منظور ہوتا، پھر جب آپﷺ کھڑے ہوتے وہ بھی کھڑے ہوتے۔

آگے مزید یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عورتوں کو مساجد میں نماز کی ادائیگی کی اجازت دی گئیں۔ صحیح بخاری جلد اوّل کے باب 553 میں ہی حدیث نمبر 827 میں اُم المومنین اُم سلمہ ؓ فرماتیں ہیں کہ ﷴﷺ جب سلام پھیرتے تو آپﷺ کے سلام پھیرتے ہی عورتیں (جانے کے لیے) کھڑی ہوجاتیں اور آپﷺ تھوڑی دیر ٹھیرے رہتے کھڑے نہ ہوتے ابن شہاب نے کہا ہم یہ سمجھتے ہیں آگے اللّٰہ جانے یہ آپ اس لیے کرتے کہ عورتیں اس سے پہلے نکل جائیں کہ مرد راہ میں ان کو پالیں۔

عمرہ ؓ بنت عبدالرحمٰن نے حضرت عائشہؓ سے روایت کیا ہے، انہوں نے فرمایا: ﷴﷺ جب نماز صبح سے فارغ ہوتے تو عورتیں اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی واپس ہوتی تھیں اور اندھیرے کی وجہ سے انہیں پہچانا نہیں جاتا تھا۔ (صحیح بخاری باب: 552، ح: 824)

نبی کریم محمدﷺ کا فرمان ہے کہ:
لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّہ (صحیح بخاری/صحیح مسلم کتاب الصلوۃ/ سنن ابی داؤد)
(اللّٰہ کی بندیوں کو اللّٰہ کی مسجدوں سے نہ روکو)۔
لاتمنعوا اماء اللّٰہ مساجد اللّٰہ، وبیوتہن خیرلہن، ولیخرجن تفلات۔
اللّٰہ کی باندیوں کو اس کی مسجدوں سے نہ روکو اور ان کے گھر ان کے لئے بہتر ہیں ، انہیں زینت اور خوشبو کے بغیر باہر جانا ہوگا۔ (مسند احمد (2/438) ح: (9645) قال شعیب صحیح وہذا اسنادہ حسن، صححہ ابن خزیمۃ ح: (1679) وابن حبان ح: (2214) قال الالبانی صحیح ابوداود ح: (565)

بخاری شریف میں ایک مقام پر حضرت سالمؓ بن عبداللّٰہ بن عمرؓ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کی بیوی مسجد میں آنے کی اجازت مانگے تو وہ اسے منع نہ کرے۔ (صحیح بخاری: جلد اوّل، کتاب الصلوۃ باب: 555، حدیث: 830)۔

اس حدیث سے واضح ہوتا کہ خواتینِ اسلام کی مساجد میں باجماعت نماز کی ادائیگی جائز عمل ہے اور مرد حضرات اپنی بیویوں کو مسجد میں نماز ادا کرنے کی اجازت مانگنے پر منع نہیں کرسکتے، بشرط یہ کہ خاتون پردہ و حجاب کے احکامات کو ملحوظ رکھیں۔ اس کے جسم سے کوئی ایسی جگہ نظر نہ آئے جسے غیر مرد کے لیے دیکھنا جائز نہ ہو۔

ان احادیث کے بعد تو کوئی شک نہیں رہا کہ ﷴﷺ کے دور مبارک میں عورتیں نماز کےلیے مسجد میں آتی تھیں۔ جب کہ اس سے متعلق رسول کریم محمدﷺ کی اجازت و فرمان بھی موجود ہے۔

• رات میں مسجد جانے کی اجازت:

یہ حکم تو مسجد میں آنے کی اجازت کے ضمن میں تھا مگر اس سے آگے بڑھ کر آپﷺ نے رات میں مسجد جانے کی اجازت کے سلسلے میں مزید فرمایا۔
إِذَا اسْتَأْذَنَكُمْ نِسَاؤُكُمْ بِاللَّيْلِ إِلَى الْمَسْجِدِ فَأْذَنُوا لَهُنَّ (صحیح بخاری: باب 552، حدیث: 822 /صحیح مسلم:442/ابوداؤد)
"عورتیں اگر تم سے رات کی نماز مسجد میں ادا کرنے کی اجازت طلب کریں تو انہیں اجازت دے دیا کرو”۔

ایک اور موقع پر ﷴﷺ نے فرمایا کہ اگر تمہاری بیویاں تم سے رات میں مسجد آنے کی اجازت مانگیں تو تم لوگ انہیں اس کی اجازت دے دیا کرو۔ (صحیح بخاری)

خواتین کے لیے اس بات کی اجازت ہے کہ وہ پنج وقتہ نمازیں، نماز جمعہ اور عیدین کی نمازیں باجماعت ادا کرنے کے لیے مسجد میں آسکتی ہے۔ مستورات و خواتین اور بیٹیوں کے لیے مساجد میں نماز ادا کرنا جائز ہے۔ مندرجہ بالا احادیث کے تناظر میں مرد حضرات اپنی بیویوں کو مسجد میں نماز ادا کرنے کی اجازت مانگنے پر منع نہیں کرسکتے، بشرط یہ کہ خواتین اسلام شرعی حدود کا پاس و لحاظ رکھیں، پردے اور حجاب کا شرعی حکم بجا لائیں۔ ان کے جسم کے ایسے اعضاء نظر نہ آئیں جو مردوں کے لئے فتنے اور خود خواتین کے لئے فساد کا باعث نہ بنے۔ لباس ایسا زیب تن نہ کریں جس جسم کی نمائش ہوتی ہو۔ ہرگز باریک و عریاں، چست لباس زیب تن کرنے سے پرہیز کریں۔ نمازوں کی ادائیگی کے وقت خوشبو، زیب و زینت سے پرہیز کریں۔

اعتکاف اور خواتین:

اعتکاف ایسی عبادت ہے جو مسجد کے ساتھ خاص ہے۔
وَلَا تُبَاشِرُوۡهُنَّ وَاَنۡـتُمۡ عٰكِفُوۡنَ فِى الۡمَسٰجِدِؕ
اور جب تم مسجدوں میں معتکف ہو، تو بیویوں سے مباشرت نہ کرو۔ (سورۃ البقرة: آیت 187)

اس آیت سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ اعتکاف کے لئے مسجد کا ہونا ضروری ہے اس لیے کہ اگر اعتکاف مسجد کے علاؤہ کسی دوسری جگہ بھی کیا جاسکتا تو قرآن میں مباشرت سے منع ہونے کے سلسلے میں مسجد کا بطورِ خاص ذکر نہ کیا جاتا۔

حضرت عبداللّٰہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں اللّٰہ کے یہاں مبغوض ترین چیز بدعت ہے اور گھروں کی مسجدوں میں اعتکاف کرنا بھی بدعت میں سے ہے۔ (السنن الکبری: 4/ 519)

جمہور فقہاء کے نزدیک عورت کا اعتکاف گھر کی مسجد میں صحیح نہیں کیونکہ گھر کی مسجد کو مسجد نہیں کہا جاتا اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں کہ ایسے گھر کو جس میں مسجد ہو فروخت کرنا جائز ہے۔ عورتوں کے اعتکاف کی جگہ میں ائمہ کی آراء مختلف ہیں، امام مالک ؒ امام احمد بن حنبل ؒ اور امام شافعی ؒ کے نزدیک عورت بھی اعتکاف کے باب میں مرد ہی کی طرح ہے، اس کا اعتکاف بھی مسجد ہی میں ہوگا، گھروں میں ان کے لیے اعتکاف کرنا جائز نہیں ہے۔ یہ بھی احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ نبی کریمﷺ کی ازواج مطہرات ؓ مسجد نبوی میں اعتکاف فرماتی تھیں۔

عہدِ نبویﷺ میں ایک واقع ملتا ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کا ارادہ کیا اور خیمہ زن ہوگئے، سیدہ عائشہؓ نے اعتکاف کی اجازت مانگی، تو آپﷺ نے اجازت دے دی، انہوں نے وہاں ایک خیمہ نصب کیا، حضرت حفصہ ؓ نے بھی اپنا خیمہ لگا دیا، اس کے بعد حضرت زینب ؓ نے بھی اپنا خیمہ لگوادیا۔ جب رسول اللّٰہﷺ نے تمام خیمے دیکھے تو ارشاد فرمایا کہ کیا تم سب نیکی کا ارادہ رکھتی ہو؟ پھر آپ نے حکم دے کر تمام خیمے اکھاڑ دئیے۔ اس رمضان اعتکاف نا فرما کر شوال کے پہلے عشرے میں اعتکاف فرمایا۔ (بخاری و مسلم)

امام نووی ؒ اس حدیث کے حوالے سے فرماتے ہیں عورت کا اعتکاف کرنا جائز ہے کیونکہ آپ نے ازواجِ مطہرات کو اعتکاف کی اجازت دی تھی اور بعد میں جو منع کیا اس کا ایک خاص سبب تھا اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے۔

عورت کو اعتکاف کرنے کے لیے اپنے شوہر سے اجازت لے کر ہی اعتکاف کرنا چاہیے۔

• مساجد میں خوشبو لگاکر جانے کی ممانعت:

آپﷺ نے فرمایا: (جب تم میں سے کسی نے عشاء کی نماز کیلئے حاضر ہونا ہو تو اس رات خوشبو نہ لگائے) اور ایک روایت میں ہے کہ: (جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو خوشبو نہ لگائے)۔ ان دونوں روایات کو مسلم نے نقل کیا ہے۔

حضرت ابوھریرہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا جو عورت کسی خوشبو کی دھونی لے تو وہ ہمارے ساتھ نماز عشاء میں شریک نہ ہو۔

حضرت زینب ؓ نے رسول اللّٰہﷺ کی احادیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ رحمت دوعالمﷺ نے فرمایا ہے کوئی خاتون جب عشاء کی نماز کے لیے مسجد آنا چاہے تو وہ اس رات کو خوشبو نہ لگائے۔

شیخ ابن عثیمین ؒ "مجموع الفتاویٰ” میں فرماتے ہیں کہ خواتین نماز تراویح میں شرکت کیلئے مسجد میں آسکتی ہیں، بشرط یہ کہ فتنے سے محفوظ رہیں، چنانچہ انہیں پر وقار، مکمل پردے کا اہتمام کرتے ہوئے بغیر خوشبو لگائے مسجد کی طرف آنا چاہیے۔

احادیث مندرجہ بالا سے صاف ظاہر ہے کہ خواتین کو مسجدوں میں نماز کے لیے جانے دینا چاہیے۔ لیکن بناؤ سنگھار کرکے، خوشبو لگاکر اور آواز دراز زیور وغیرہ پہن کر مسجد نہ جائیں۔ جس سے فتنہ کا اندیشہ ہے اور فساد کی بو آتی ہے۔

• صُفُوفِ النِّسَاءِ کے احکامات:

دین اسلام میں خواتین کو مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ حتیٰ کہ مرد و زن کی صف بندی کا طریقہ بھی بتایا گیا ہے۔ نبیﷺ نے فرمایا:
خَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا(صحیح مسلم:440)۔ (فتاویٰ اسلامیہ: ج 2 /ص23)
’’عورتوں کی بہترین صف، آخری صف اور بدترین صف، پہلی صف ہے۔‘‘

حضرت ابوھریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ محمدﷺ نے فرمایا نماز باجماعت میں اجر کے اعتبار سے مردوں کی بہترین صف پہلی ہے اور بری صف آخری ہے (یعنی پہلی صف کی بنسبت آخری صف میں اجر اور فضیلت کم ہے)۔ عورتوں کی بہترین صف آخری ہے اور بری صف پہلی ہے (یعنی وہ صف جو مردوں کی صف سے متصل ہے کیونکہ اس میں نفس کے بہکاوے یا توجہ بننے کا اندیشہ ہوسکتا ہے)۔ (صحیح مسلم، امن سنن ابی داؤد، ترمذی: ح: 224، مصنف ابن ابی شیبہ 2/ 385 ح 7623 وسندہ حسن)۔ امام ترمذی ؒ نے سیدنا ابوھریرہ ؓ کی اس حدیث کو حسن صحیح قرار دیا ہے۔

عروہ بن الزبیر ؒ نے فرمایا: یہ کہا جاتا تھا کہ عورتوں کی بہترین صف آخری صف ہے اور سب سے بُری صف پہلی صف ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ 2/385 ح 7624 وسندہ صحیح)

عورتیں، مردوں کی صفوں میں شامل نہ ہو بلکہ مردوں کی صفوں کے پیچھے صف بنائے۔محمدﷺ کے زمانے میں عورتیں اس طرح مسجد میں آتی تھیں کہ انہوں نے اپنی چادروں کے ساتھ اپنے آپ کو چھپا رکھا ہوتا تھا اور وہ مردوں کی صفوں کے پیچھے صفیں بنا کر نماز ادا کیا کرتی تھیں۔ عورتوں کا مردوں کی صفوں میں یا مردوں کا عورتوں کی صفوں میں کھڑا ہونا قطعاً جائز نہیں ہے، خواہ کسی کی صف میں خلا یا شگاف ہی کیوں نہ ہو۔ اگر مسجد میں جگہ باقی نہ بھی ہوتو بھی اس اختلاط کی گنجائش نہیں ہے۔ واضح رہے کہ اس میں محرم و نامحرم، دوشیزہ و کنواری اور ضعیف عورت کی بھی کوئی تخصیص نہیں ہے۔

• عورت تنہا ہی صف ہے:

عورت کا باجماعت نمازوں کی صفوں میں تنہا کھڑے رہنا بھی ثابت ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ "عورت تنہا ہی صف ہے”۔

امام بخاری نے صحیح بخاری شریف میں باب نمبر 468 حدیث نمبر 690 میں فرماتے ہیں کہ عورت اکیلی ایک صف کا حکم رکھتی ہے۔ حدیث کے راوی حضرت انس بن مالک ؓ ہیں، انہوں نے فرمایا کہ میں نے اور ایک یتیم لڑکے (ضمیرہ بن ابی ضمیرہ) نے جو ہمارے گھر میں موجود تھا، نبی کریمﷺ کے پیچھے نماز پڑھی اور میری والدہ اُم سلیم ؓ ہمارے پیچھے تھیں۔ ﷴﷺ نے دو رکعات پڑھائیں اور سلام پھیرا۔

امام ترمذی ؒ سیدنا انس ؓ کی اس حدیث کو حسن صحیح فرماتے ہیں اور اکثر اہل علم حضرات کے نزدیک یہی قابل قبول عمل ہے۔

• مسجدوں میں نگاہوں کی حفاظت کا حکم:

مساجد میں مردوں کے پیچھے عورتوں کی نماز باجماعت کا جواز احادیثِ صحیحہ اور آثارِ سلف صالحین سے ثابت ہے۔ یہاں تک احکام جاری کئے گئے کہ خواتین اگر مردوں کے پیچھے نماز پڑھ رہی ہوں تو مردوں کے سر اٹھانے تک وہ اپنا سر نہ اٹھائیں۔

سیدنا ابو سعید الخدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: اے عورتوں! جب مرد سجدہ کریں تو تم اپنی نظروں کی حفاظت کرو۔ (صحیح ابن خزیمہ : 1694، وسندہ صحیح، صحیح ابن حبان: 402 وصححہ الحاکم علیٰ شرط الشیخین 1 /191، 192، ووافقہ الذہبی)

سیدنا سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہﷺ کے زمانے میں عورتوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ مردوں سے پہلے (سجدے، رکوع سے) سر نہ اُٹھائیں۔ (صحیح ابن خزیمہ: 1695، صحیح ابن حبان: 2216 وسندہ صحیح)

حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللّٰہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اے عورتوں! تم میں سے جو اللّٰہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے، وہ مردوں کے (سجدے سے) سر اٹھانے سے پہلے سر نہ اٹھائے، (ان دنوں صحابہ کرام کے پاس کپڑے بہت تھوڑے تھے اور ان کے ازار چھوٹے ہوتے تھے)، آپﷺ نے یہ بات اس لیے فرمائی کہ کہیں (عورتوں کے پہلے سر اٹھانے کی وجہ سے) مردوں کے ستر پر ان کی نظر نہ پڑ جائے۔
(صحیح بخاری: ۸۱۴، صحیح مسلم: ۴۴۱)

یعنی مردوں کے تنگ اور چھوٹے تہ بندوں کی وجہ سے کہیں تمھاری نظریں اُن کی شرمگاہ پر نہ پڑ جائیں۔

بعض صحابیات مسجد میں ادائیگی نماز کی بدولت حفظ قرآن کا شرف حاصل کرتی تھیں:

حضرت اُم ہشام بنت حارثہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے سورۂ ق رسول کریمﷺ کی زبان مبارک سے (سن کر) ہی تو یاد کی تھی، آپ اسے ہر جمعہ کے دن منبر پر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے تلاوت فرمایا کرتے تھے۔
(صحیح مسلم: ۸۷۳/۵۲)

• صلوٰۃ عیدین اور خواتین:

عیدین کی نماز کے لئے عورتوں کا گھر سے باہر جانا شریعت کی طرف سے طے کردہ ہے انہیں اس کی خاص طور سے تاکید فرمائی گئی ہیں۔ حضرت اُم عطیہ ؓ فرماتی ہیں کہ ہمیں نماز عید کے لئے جانے کو حکماً کہا جاتا تھا یہاں تک کہ کنواری بچی اور حائضہ عورت کو بھی ساتھ لے جانے کا حکم تھا۔ (صحیح البخاری، کتاب العیدین)

وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر تکبیرات پڑھیں اور ان کے ساتھ دعا میں شامل ہوں اور اس دن کے فیوض وبرکات کی امید رکھیں۔ ایک روایت میں اس طر ح ہے کہ: رسول اکرم محمدﷺ کنواری دو شیزائوں، باپردہ اور حائضہ عورتوں کو نماز عیدین کے مواقع پر گھروں سے باہر لے جاتے۔ حائضہ عورتیں نماز عید کی جگہ سے الگ بیٹھ جاتیں اور نیکی اور دعاؤں میں مسلمانوں کے ساتھ شرکت کرتیں۔

• مسجد میں خواتین کے درد کا احساس:

حضرت ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: جب میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں تو چاہتا ہوں کہ نماز کو لمبا کروں، پھر کسی بچے کے رونے کی وجہ سے اسے مختصر کر دیتا ہوں مبادا اس کی ماں کو مشقت میں مبتلا کردوں۔ (صحیح بخاری جلد اوّل، باب: 552، ح: 825)

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ ﷴﷺ نے ایک رات نماز عشاء میں تاخیر کر دی یہاں تک کہ حضرت عمرؓ نے بآواز بلند آپ کو آواز دی کہ عورتیں اور بچّے سوگئے ہیں۔ (صحیح بخاری جلد اوّل، باب: 552، ح: 821)

آخر ان احادیث مبارکہ اور اصحابِ رسول کے عمل کو کیسے نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔
اس حدیث کی شرح میں مفتی احمد یار خاں نعیمی ؒ لکھتے ہیں ظاہر ہے کہ یہ حکم اس وقت کے لئے تھا جب عورتوں کو مسجد میں آنے کی اجازت تھی عہد فاروقی ؓ سے اس کی ممانعت کر دی گئی کیونکہ عورتوں میں فساد بہت آگیا ہے اب فی زمانہ عورتوں کو باپردہ مسجدوں میں آنے اور علیحدہ بیٹھنے سے نہ روکا جائے کیونکہ اب عورتیں سینماؤں بازاروں میں جانے سے تو رکتی نہیں مسجدوں میں آکر کچھ دین کے احکام سن لیں گی عہد فاروقی ؓ میں عورتوں کو مطلقا گھر سے نکلنے کی ممانعت تھی۔ (مرقاۃ شرح مشکوۃ: جلد دوم)

حضرت عبداللّٰہ بن عمرؓ نے فرمایا: ﷴﷺ نے فرمایا ہے کہ جب تمہاری عورتیں مسجد میں جانے کی اجازت مانگیں تو ان کو مساجد میں جانے سے منع نہ کرو ،حضرت عبداللّٰہ بن عمرؓ کے صاحبزادے نے کہا: خدا کی قسم ! ہم انہیں مسجد میں جانے سے ضرور منع کریں گے، راوی کہتا ہے کہ پھر حضرت عبداللّٰہ بن عمرؓ بلال پر اس قدر شدید ناراض ہوئے کہ اتنا کسی اور پر ناراض نہیں ہوئے تھے اور فرمایا: میں تمہیں رسول اللّٰہﷺ کا فرمان بیان کرتا ہوں اور تم کہتے ہو کہ میں ضرور منع کروں گا۔ (صحیح مسلم: 442)۔

حضرت مجاہدؒ بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللّٰہ بن عمرؓ نے فرمایا: ﷴﷺ نے فرمایا: اپنی عورتوں کو رات کے وقت مسجد میں جانے کی اجازت دو، ان کے بیٹے واقد نے کہا: پھر یہ عورتیں اس اجازت کو برائی کا بہانہ بنالیں گی، یہ سن کر حضرت عبداللّٰہ بن عمرؓ نے ان کے سینہ پر مارا اور فرمایا: میں محمدﷺ کی حدیث بیان کرتا ہوں اور تم انکار کرتے ہو۔ (صحیح مسلم)۔

• خواتین اور عہد فاروقی ؓ:

خلیفۂ دوم کے دور کو عہدِ فاروقی کہا جاتا ہے، جن کے دور میں فتنہ و فساد کے پیشِ نظر خواتین کے مسجد میں آنے پر پابندی لگا دی گئی تھی، اس پابندی کے باوجود خود زوجۂ عمرؓ فاروق کا معاملہ مختلف تھا جسے عبداللّٰہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ زوجۂ عمرؓ فاروق فجر اور عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کے لیے مسجد جاتی تھیں، ان سے کہا گیا: آپ گھر سے کیوں نکلتی ہیں، جب کہ آپ کو معلوم ہے کہ حضرت عمرؓ کو آپ کا نکلنا ناگوار ہے اور اُنہیں اس پر غیرت آتی ہے، وہ کہنے لگیں: پھر اُنہیں مجھے منع کرنے سے کیا چیز مانع ہے؟ حضرت ابن عمرؓ نے اس کی وجوہات یا سبب یہ بتایا کہ انہیں منع کرنے سے ﷴﷺ کا یہ ارشاد مانع ہے، "اللّٰہ کی بندیوں کو اللّٰہ کی مساجد میں جانے سے منع نہ کرو۔ (صحیح بخاری)

حضرت عمرؓ کی زوجہ عاتکہ ؓ اجازت مانگتی تھیں حضرت عمرؓ سے مسجد جانے کی تو چپ ہوجاتے حضرت عمرؓ پس کہتی عاتکہ ؓ میں تو قسم خدا کی جاؤنگی جب تک تم منع نہ کروگے تو نہیں منع کرتے تھے حضرت عمرؓ ان کو۔ (مؤطا امام مالک ؒ کتاب القبلۃ، باب 6)

جب سیدنا عمرؓ جیسے جلیل القدر صحابی بھی ناپسند کرنے کے باوجود رسول اللّٰہﷺ کے فرمان کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی زوجہ کو مسجد جانے سے نہیں روکتے تھے تو بعد کے اہل ایمان یہ جرأت کیونکر کرسکتے ہیں؟

• حدیثِ سیدہ عائشہؓ اور خواتین:

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ: لو أدرک رسولﷺ ما أحدث النساء لمنعھن المسجد کما منعت نساء بني اسرائیل۔ یعنی اگر رسولﷺ ان حرکات کو دیکھتے جو آج کل کی عورتوں نے ایجاد کرلی ہیں تو ان کو مسجد میں جانے سے روک دیتے، جس طرح کہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا۔ (بخاری شریف)

سیدہ عائشہؓ سے دوسری روایت میں آیا ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: عورتوں کو مسجدوں سے نہ روکو، اور انھیں بغیر خوشبو کے سادہ کپڑوں میں نکلنا چاہئے۔ سیدہ عائشہؓ نے فرمایا: اگر آپ آج کل کی عورتوں کا حال دیکھتے تو انھیں منع کر دیتے۔ (مسند احمد 6/69، 70 وسندہ حسن)

سیدہ عائشہؓ سے ایک اور روایت میں آیا ہے کہ اگر رسول اللّٰہﷺ وہ کام دیکھتے جو عورتوں نے نکال لئے ہیں تو انھیں منع کر دیتے، جس طرح کہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کر دیا گیا تھا۔ (صحیح بخاری: 869، صحیح مسلم: 445)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورتوں کو مسجد میں نماز پڑھنے سے منع والا حکم (جو کہ سابقہ شریعتوں میں تھا) منسوخ ہے۔ اب بنی اسرائیل کی منسوخ شریعت پر عمل نہیں بلکہ قیامت تک نبی کریم خاتم النبیینﷺ کی شریعت پر ہی عمل ہو گا۔

اس حدیث سے بعض لوگوں نے تمسک کیا ہے اس امر پر کہ عورتوں کا مسجد میں جانا مکروہ ہے مگر یہ تمسک تمام نہیں کیونکہ یہ قول حضرت عائشہؓ کا برسبیل ظن ہے اور ایسا قول کسی حکم شرعی کو مفید نہیں ہوسکتا۔ اور خود اُم المومنین حضرت عائشہؓ عورتوں کو مسجد آنے سے روک نہ سکیں۔ جب اُم المومنین عائشہؓ کا یہ معاملہ تھا تو آج باحجاب اور پردے کا پاس و لحاظ رکھ کر مسجد کی جانب آنے والی عورتوں کو روکنے کا کیا جواز ہے؟

حضرت عائشہؓ کا مقصود عورتوں کو تنبیہ کرنا تھا، ان کو روکنا مقصود نہ تھا، کیونکہ اگر حضرت عائشہؓ عورتوں کا مسجد میں جانا جائز نہ سمجھتیں تو ضرور ان کو روکتیں، حالانکہ ان سے ایک مرتبہ بھی ایسا کرنا ثابت نہیں، اس کے برعکس آپ خود محمدﷺ کی وفات کے بعد بھی مسجد میں جاتی رہیں، بلکہ مسجد میں اعتکاف میں بھی بیٹھتی رہیں۔

حافظ ابن حزم اندلسیؒ لکھتے ہیں: اس بات پر تمام لوگوں کا اتفاق ہے کہ محمدﷺ نے اپنی وفات تک عورتوں کو مسجد میں آنے سے کبھی نہیں روکا، نہ ہی خلفائے راشدین ؓ نے آپ کے بعد یہ کام کیا، اس سے ثابت ہوگیا کہ یہ عمل منسوخ نہیں ہوا، جب اس کا غیر منسوخ ہونا یقینی ہے تو یہ نیکی کا کام ہوا، اگر ایسا نہ ہوتا تو نبی اکرمﷺ اسے برقرار نہ رکھتے اور ان عورتوں کو بے فائدہ بلکہ نقصان دہ تکلیف میں مبتلا نہ چھوڑتے، ایسا کرنا تنگی و تکلیف تو ہوسکتا ہے، خیر خواہی نہیں (حالانکہ محمدﷺ سب سے بڑے خیر خواہ ہیں)۔ (اَلْمُحَلّٰی لِاِبْنِ حَزَم، جلد2، ص:176)

اس کی مثال ایسی ہے کہ وبا کے زمانے میں کوئی طبیب امرود کھانے سے منع کردے، اب اس کے یہ معنی نہیں کہ اس نے شریعت کے حلال و حرام کو تبدیل کردیا، بلکہ یہ مطلب ہے کہ ایک چیز جو جائز و حلال ہے، وہ ایک خاص موسم اور ماحول کے لحاظ سے مضرِ صحت ہے، اسی لئے اس سے منع کیا جاتا ہے۔

حضرت عبداللّٰہ بن عمرؓ نے ایک اہم مسئلہ واضح فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ رسول اللّٰہﷺ کے فرمان کے مقابلے میں اپنی سوچ اور فہم و استدلال کو اہمیت دے۔ قرآن مجید میں ہے:
"وَمَا كَانَ لِمُؤۡمِنٍ وَّلَا مُؤۡمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗۤ اَمۡرًا اَنۡ يَّكُوۡنَ لَهُمُ الۡخِيَرَةُ مِنۡ اَمۡرِهِمۡ ؕ وَمَنۡ يَّعۡصِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيۡنًا”
(کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللّٰہ اور اس کا رسولؐ کسی معاملے کا فیصلہ کر دے تو پھر اسے اپنے اس معاملے میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے۔ اور جو کوئی اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہی میں پڑ گیا)۔ (سورۃ الأحزاب: 36)

حضرت عمرؓ فاروق کے دور خلافت میں ان تمام مخلوط تقریبات میں مکمل پابندی تھی جہاں مرد و زن جمع ہوسکتے تھے۔ لیکن اگر سیرت کی کتابوں کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بھی نظر آتا ہے کہ زوجۂ عمرؓ فاروق نے اس پابندی کو نہیں مانا۔ لہذا! ہمیں اس مسئلہ پر سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا۔

بنی اسرائیل کی پابندی کے بعد ہی رسولﷺ نے عورتوں کو مسجد میں آکر نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے، رسولﷺ نے ماضی کے تلخ تجربات کی روشنی کے باوجود مسلم عورتوں کے لئے مسجد میں آنے کا فیصلہ کافی غور و خوض اور تدبر و تفکر کے بعد ہی لیا ہے۔

ان تمام نصوص میں واضح دلالت ہے کہ مسلمان عورت اپنے لباس سے متعلق اسلامی آداب ملحوظِ خاطر رکھے، اور ایسی چیزوں سے اجتناب کرے جن کی وجہ سے کمزور ایمان لوگوں کی نظروں اور دلوں کیلئے کشش پیدا ہو تو اسے مسجد میں نماز پڑھنے سے روکا نہیں جاسکتا اور اگر کوئی خاتون دوسروں کی نظروں میں پرکشش اور دلکش انداز میں سامنے آئے تو انہیں مسجد میں داخل نہ ہونے دیا جائے، بلکہ گھروں سے نکلنے کی اجازت نہ دی جائے۔

خواتینِ اسلام کو چاہئیے کہ وہ اپنے گھروں کے سب سے قریب کی مسجد میں ادائیگی نماز کے لئے حاضر ہوں (جہاں خواتین کے لئے باقاعدہ نظم ہو)، اگر مسجد دور ہوتو گھر کے لازماً کسی فرد کے ساتھ ہی آئیں تنہا نہ آئیں۔ ورنہ اس صورت میں پھر بہتر تو یہی ہوگا کہ وہ اپنی نماز گھر پر ہی ادا کریں۔ جس سے تحفظ بھی برقرار رہے گا اور فتنہ فساد کا اندیشہ نہ ہوگا۔

مساجد میں خواتین کیلئے الگ سے دروازہ ہو، اور وہیں سے خواتین آئیں جائیں، جیسے کہ اس بارے میں سنن ابوداؤد وغیرہ میں خصوصی ارشاد بھی ہے۔ عورتوں کی صفیں مردوں کے پیچھے ہوں۔ اگر مسجد ایک سے زائد منزلہ ہوں تو ایک منزل ان کے لئے مختص کرلیں۔

حیرت و صد افسوس ہے ان دین دار ساتھیوں پر جو دین اسلام کی تبلیغ و ترویج اور اشاعت کے لئے کمربستہ رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انہی لوگوں کے گھر کی خواتین اگر عصری علوم حاصل کرنے کی غرض سے عصری تعلیم گاہوں میں جاتی ہیں تو ان کا جذبہ غیرت جوش نہیں مارتا، نیز بازاروں اور مارکیٹوں اور شاپنگ مالز میں غیر محرم دوکانداروں سے شاپنگ کرتی پھریں اور دیگر مخلوط تقریبات میں شریک ہو تو، غیرت کا جنازہ نہیں نکلتا، لیکن اگر یہی عورتیں مسجدوں کا رخ کریں تو فتنہ و فساد نظر آجاتا ہے۔ پابندی عائد کرنی ہی ہے تو مکمل معاملات میں ہونی چاہیے۔ صرف مسجد کی ہی پابندی کیوں؟

فتنہ و فساد کے نتیجے میں عورتوں کو مسجد میں آنے کی ممانعت ہے تو بازار میں جانا بہ درجہ اولٰی حرام و مکروہ ہونا چاہیے، اسی طرح کسی بھی غرض کے لیے گھر سے باہر نکلنا ممنوع ہونا چاہیے، لیکن اس کا کوئی بھی قائل نہیں، آج عورتوں کو بازاروں سے تو منع نہیں کیا جاتا، جب کہ مسجد میں جانے پر پابندی ہے، حالانکہ مسجدیں امن کا مرکز ہوتی ہیں، نیز نمازی لوگ اکثر نیک ہوتے ہیں، اب بتائیں کہ بازاری لوگ خطرے کا باعث ہیں یا وہ نمازی لوگ جن سے اکثر بازاری عورتیں بھی شرما کر پردہ کر لیتی ہیں۔

ہمارے بعض فقہا کرام کا عمومی موقف یہ ہے کہ اخلاقی تنزلی کی وجہ سے عورتوں کو مسجد میں آنے کی اجازت نہ دی جائے لیکن اس کا مقصد تو یہ جب مسجد میں نماز کے لئے آنے سے ان خواتین کو روکنا شریعت کا منشا ہے تو پھر یہ پابندی ان کو عام حالات میں بھی اختیار کرنی چاہیے لیکن اب چند دین دار عورتوں کے علاوہ عام عورتیں تعلیم، روزگار، بازاروں، سماجی تقریبات اور روز مرہ معاملات میں بلا روک ٹوک شرعی حجاب کے بغیر گھومتی پھرتی ہیں۔ تو آخر صرف مسجد یا بالخصوص دینی تقریبات سے کیوں روکا جائے؟ صـ
وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اُسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں

05.08.2021
©M•••══ ༻م✿خ༺══ •••K©
○○○○○○○○○

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے