عصر حاضر میں مطالعۂ سیرت کی ضرورت و اہمیت: محمد آصف قاسمی، نالندہ

Spread the love

عصر حاضر میں مطالعۂ سیرت کی ضرورت و اہمیت:
محمد آصف قاسمی، نالندہ


رسول الله ﷺ کی زندگی کے حالات اور کیفیات کو سیرت کہتے ہیں۔ آپ ﷺ کی ولادت سے لے کر وفات تک کی تمام تفصیلات سیرت میں داخل ہیں۔ سیرت عربی زبان کا لفظ ہے۔ جس کا معنٰی ہے "چلنے کا طریقہ”۔ بعد میں یہ لفظ رسول الله ﷺ کے حالات زندگی کے لئے استعمال ہونے لگا۔ اور اب یہ لفظ اسی معنٰی میں مشہور و معروف ہے۔
ایک مسلمان کے لیے رسول الله ﷺ کی سیرت سے مکمل واقفیت نہایت ضروری ہے۔ یا کم از کم سیرت کی بنیادی معلومات تو ہر حال میں ضروری ہے۔ کیوں کہ مسلمانوں کا یہ دعوٰی ہے کہ صرف محمد ﷺ کی ذات ہی مکمل نمونہ ہے۔ اور یہ دعوٰی محض عقیدت و محبت کی بنیاد پر نہیں بل کہ عقل کا تقاضہ اور تاریخ کی گواہی بھی یہی ہے کہ ہر انسان کی کامیابی آپ ﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات پر عمل کرنے میں ہے۔ اور ان تعلیمات پر عمل کرنے کے لئے سیرت کا مطالعہ ضروری ہے۔
مطالعۂ سیرت کے حوالہ سے علامہ بن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ "سیرت کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے”

مطالعۂ سیرت کی کئی اہم وجوہات ہیں:
مطالعۂ سیرت کی پہلی وجہ یہ ہے کہ دنیا اور آخرت کی کامیابی کا دار و مدار آپ ﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات پر ہے۔ لہٰذا جو شخض دنیا اور آخرت کی کامیابی کا خواہش مند ہے وہ مطالعۂ سیرت کا بھی پابند ہے۔
مطالعۂ سیرت کی دوسری وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا تعلق اپنے نبی ﷺ سے محبت کا ہے۔ اور محبت بھی وہ جو اپنی اور اپنی اولاد سے بڑھ کر ہو۔ خود آپ ﷺ کا ارشاد ہے : تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کے دل میں میری محبت اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر نہ ہو۔ لہٰذا آپ ﷺ سے محبت کے لئے سیرت کا مطالعہ ضروری ہے۔
مطالعۂ سیرت کی تیسری وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید نے آپ ﷺ کی حیات طیبہ کو اسوۂ حسنہ قرار دیا ہے یعنی انسانی زندگی کے لئے بہترین نمونہ بتلایا ہے۔ لہٰذا آپ ﷺ کی پاکیزہ زندگی کو اسوہ اور نمونہ (Ideal) بنانے کے لئے سیرت کا مطالعہ ضروری ہے۔
مطالعۂ سیرت کی چوتھی وجہ یہ ہے کہ اسلامی شریعت کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے۔ اور ان دونوں کا سر چشمہ آپ ﷺ کی ذات مقدس ہے۔ کیوں کہ قرآن وہ کتاب ہے جو آپ ﷺ پر نازل ہوا اور سنت آپ ﷺ کے اقوال و افعال کا نام ہے۔ لہٰذا قرآن و سنت پر مکمل طور پر عمل کرنے کے لئے سیرت کا مطالعہ ضروری ہے۔
مطالعۂ سیرت کی پانچویں وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی کی معبودیت اور وحدانیت کے اعتراف کے بعد سب سے اہم آپ ﷺ کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا ہے۔ اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا ایمان کی تکمیل کے لئے سیرت کا مطالعہ ضروری ہے۔ الغرض ایمان پر استقلال و اسقامت اور آپ ﷺ سے والہانہ عقیدت و محبت کے لئے سیرت کا مطالعہ ضروری ہے۔

عصر حاضر میں مطالعۂ سیرت کی ضرورت کئی حیثیتوں سے اور بھی بڑھ گئی ہے:
عصر حاضر میں مطالعۂ سیرت کی ضرورت اس لئے ہے کہ موجودہ دور گلوبلائزیشن (Globalization) اور عالمگیریت کا دور ہے۔ اور پوری دنیا کسی گلوبل سسٹم (Global System) اور عالمگیر نظام کی ضرورت شدت سے محسوس کر رہی ہے۔ انسانی خود ساختہ نظام یکے بعد دیگرے فیل (Fail) اور ناکام ہو رہے ہیں۔ ایسے نازک وقت میں یہ ضرورت اگر کوئی پوری کر سکتا ہے تو وہ صرف آپ ﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات ہے۔ لہٰذا عصر حاضر میں عالمگیر نظام قائم کرنے کے لئے مطالعۂ سیرت کی ضرورت ہے۔
عصر حاضر میں مطالعۂ سیرت کی ضرورت اس لئے بھی ہے کہ ابتداء سے لے کر اب تک ہر دور میں اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے اور نیست و نابود کرنے کی مسلسل سازشیں کی جاتی رہی ہیں۔ سیاسی و سماجی ہر سطح پر بدنام کرنے اور مادی و عسکری ہر اعتبار سے کمزور کرنے کے باوجود ان کی کوششیں ناکام ہو رہی ہیں۔ اور اسلام پوری دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا مذہب بنتا جا رہا ہے۔ لہٰذا مخالفتوں اور رکاوٹوں کے باوجود اتنی تیز رفتاری سے مذہب اسلام کی اشاعت کا راز جاننے کے لئے عصر حاضر میں مطالعۂ سیرت کی ضرورت ہے۔ عصر حاضر میں مطالعۂ سیرت کی ضرورت اس لئے بھی ہے کہ عرب قوم جو جاہل اور اجڈ تھی، لوٹ مار اور شراب نوشی ان کا شیوہ تھا، آپسی خوں ریزی اور قتل و غارت گری ان کی سرشت میں داخل تھی، لیکن آپ ﷺ کی تربیت کی بدولت مختصر ترین عرصہ میں ان کی زندگی میں عظیم انقلاب پیدا ہو گیا۔بقول مولانا عبد الماجد دریابادی رحمه الله: لیکن دنیا میں یہ انقلاب روحانی پیدا کر دینا کہ کل تک جو رہزن تھے وہ آج اچھے رہرو ہی نہیں بل کہ بہترین رہبر بھی ہو جائیں، کل تک جن کی زندگی فسق و فجور کی نذر تھی آج وہ اتنے بلند و مقدس مرتبہ پر پہونچ جائیں کی خود صداقت و پاکیزگی کو ان کے انتساب سے شرف ہو جائے، کل تک جو مردہ تھے وہ آج زندہ ہی نہیں بل کہ دوسروں کو زندہ کر دینے والے بن حائیں، ایسے آفتاب کا طلوع جو ہر ذرہ کو آفتاب بنا دے، ایسے مسیح کا نزول جو مردہ کو مسیح بنا دے، اس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں بجز سرور عالم ﷺ کے صحابیوں، بجز محمد ﷺ کے غلاموں کے اور کہیں بھی مل سکتی ہے؟
لہٰذا آپ ﷺ کی اخلاقی تربیت اور صحابہ کرام کے اعلٰی کردار کو اقوام عالم کے سامنے پیش کرنےاور اس کی روشنی میں پوری دنیا میں اخلاقی و تربیتی نظام قائم کرنے کے لئے عصر حاضر میں مطالعۂ سیرت کی ضرورت ہے۔
عصر حاضر میں مطالعۂ سیرت کی ضرورت اس لئے بھی ہے کہ اسلام دشمنوں کی جانب سے آپ ﷺ کی مقدس ذات پر بے بنیاد الزامات اور اعتراضات کئے جاتے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں بعض مسلمان سیرت سے عدم واقفیت اور لا علمی کی وجہ سے بآسانی شکوک و شبہات کے شکار ہو جاتے ہیں، اور آپ ﷺ کی مقدس ذات کے متعلق غلط نظریات قائم کر لیتے ہیں۔ اور بسا اوقات ایمان کا دامن بھی چھوڑ دیتے ہیں، لہٰذا آپ ﷺ کی مقدس ذات پر اسلام دشمنوں کے بے بنیاد اعتراضات کے جوابات کے لئے عصر حاضر میں مطالعۂ سیرت کی ضرورت ہے۔ آخری گزارش یہ ہے کہ دنیا کے کسی حصہ میں اگر آپ کی پاکیزہ زندگی پر کوئی علمی اعتراض بھی ہوتا ہے تو مسلمان مشتعل ہو جاتے ہیں، اور علمی جواب دینے کے بجائے جذبات کی رو میں بہہ جاتے ہیں۔ مسلمانوں کا تعلق اپنے نبی سے علمی بھی ہے اور جذباتی بھی۔ گو جذباتی تعلق ایک حد تک مفید بھی ہے مگر یہ مکمل فائدہ مند نہیں ہے۔ جہاں بات علم اور دلائل کی ہو وہاں جذبات سے زیادہ دیر کام نہیں چلایا جا سکتا۔ لہٰذا جذبات سے قطع نظر مضبوط اور مدلل انداز میں علمی جواب دینے کی ضرورت ہے۔ مذہب اسلام کوئی جذباتی مذہب نہیں ہے؛ بل کہ یہ ہر عمل اور عقیدہ کے متعلق بھر پور دلائل رکھتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیرت کا وسیع اور گہرا مطالعہ کیا جائے۔ اور آپ ﷺ کی حیات طیبہ سے مکمل واقفیت حاصل کی جائے۔ اس کے لئے ہم اپنے گھروں میں بھی مطالعہ کی فضا بنائیں۔ اور عورتوں اور بچیوں کو بھی پڑھنے کی ترغیب دیں۔ اس دور میں فتنوں سے بچنے کا یہی طریقہ ہے کہ مستند (Authentic) اور معیاری کتابوں کا مطالعہ کیا جائے۔

محمد آصف قاسمی، نالندہ
+918603067818

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے