Spread the love
*سجاد نعمانی صاحب کی خدمت میں چند معروضات*
*تحریر-حافظ عبدالسلام ندوی*

گزشتہ کل سے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے کل ہند ترجمان جناب سجاد نعمانی صاحب کا اسدالدین اویسی کے نام لکھا گیا ایک خط شوشل میڈیا پر گردش کررہا ہے، جس میں انہوں نے مسٹر اویسی کو یوپی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا مشورہ دیا ہے،اور اس پر یہ دلیل پیش کی گئی ہے کہ چونکہ یہ فسطائی طاقتوں کے عروج کا وقت ہے لہذا ایسے کسی بھی اقدام سے اپنے آپ کو دور رکھا جائے جو او بی سی اور برہمن ذاتوں کے درمیان اتحاد کی سبیل پیدا کرے،اس سلسلہ میں اپنے ناقص علم اور کوتاہ بینی کے باوجود چند معروضات پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں، امید قوی ہے کہ اس تحریر کو تعصب کا چشمہ آنکھوں سے ہٹاکر پڑھا جائے گا،اس سلسلہ میں سب پہلے تو ترجمان محترم کی خدمت میں مودبانہ عرض یہ ہے کہ اس خط کو خفیہ ہی رکھا جاتا تو بہتر ہوتا کیونکہ غیر مسلموں میں اتحاد پیدا کرنے کے لئے یہ ایک خط ہی کافی ہے،تھوڑی دیر کے لئے غور کریں کہ اگر یہ خط گودی میڈیا کے ہاتھ لگ گئی تو انتخابات تک کس قدر وہ ہلڑ بازی کریں گے اسکا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے،اور اسطرح غیر مسلموں کو متحد کرنے کا ایک بہانہ بھی انہیں مل جائیگا،چونکہ مجالس امانت ہوتی ہیں لہذا راز کی بات کو راز ہی رہنے دیا جاتا تو بہتر ہوتا،صحابی رسول حضرت ابو لبابہ انصاری رضی اللہ عنہ کا واقعہ اس سلسلہ میں ہمارے لئے سبق آموز ہے،اس موقع پر صابر جلال آبادی کا ایک شعر بھی مجھے یاد آرہا ہے
راز کی باتیں لکھی اور خط کھلا رہنے دیا
جانے کیوں رسوائیوں کا سلسلہ رہنے دیا
دوسری بات یہ کہ فسطائی طاقتوں کے لئے غیر مسلموں کو متحد کرنے کا سب سے بڑا بہانہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ہے، جسکے ایک عظیم منصب پر آپ بھی فائز ہیں،میرے اس دعوے کی دلیل یہ ہے کہ اس وقت ملک میں یونیفارم سول کوڈ کی جو بحث جاری ہے اسکا سبب بورڈ ہی ہے،جیساکہ ۱۰ جنوری کے The Hindu کے ایک آرٹیکل سے اسکا خلاصہ ہوتا ہے، تو کیا آپ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے عہدیداروں سے یہ درخواست کریں گے کہ چونکہ یہ فسطائی طاقتوں کے عروج کا وقت ہے لہذا کسی طرح کے پرسنل لاء کی بات کرنا غیر مناسب ہے،
تیسری بات یہ کہ طالبان نے جب فتح کا علم لہرایا تھا تب آپ نے اپنا ایک موقف پیش کیا تھا، آپ کے ہوبہو الفاظ درج ذیل ہیں،
"ایک بار پھر یہ تاریخ رقم ہو گئی ہےکہ ایک غیر مسلح قوم نے طاقت ور قوم کو شکست دے دی۔ وہ کابل کے محل میں داخل ہوئے۔ پوری دنیا نے اس کے داخلےکو دیکھا۔ ان میں کوئی غرور یا تکبر نہیں تھا۔ کوئی بڑے الفاظ نہیں تھے۔ مبارک ہو۔ یہ ہندوستانی مسلمان (سجاد نعمانی) دور بیٹھا آپ کو سلام کرتا ہے۔ میں آپ کی ہمت کو سلام پیش کرتا ہوں۔‘‘ اس موقف کے بعد مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بھی آپ کے بیان سے علیحدگی اختیار کرلی تھی،اور ایڈوکیٹ ونیت جندل نے آپ کے خلاف دہلی پولیس کمشنر کو تحریری شکایت بھی دی تھی، کیا آپ کا وہ بیان غیر مسلموں کو متحد کرنے کا موقع فراہم نہیں کرتا ہے،
آپ نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ کاش ہم نے چالیس پچاس سال قبل اپنی قیادت کو مضبوط کیا ہوتا، یہ بات مجھ احقر کی نظر میں نہایت غیر دانشمندانہ لگی ہے،کیا جو غلطی ہم نے چالیس پچاس سال قبل کی ہے وہ پھر دہرائیں؟ اور کیا یہ کہاوتیں” جب جاگو تب ہی سویرا” اور "ابھی نہیں تو کبھی نہیں ” کوئی معنی نہیں رکھتیں؟
چلئے ایک لمحہ کے لئے ہم مان لیتے ہیں کہ ہمیں سیکولر پارٹیوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے پر اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ کل ہوکر ان کے ممبران فسطائی طاقتوں سے سانٹھ گانٹھ نہیں کریں گے؟کیونکہ ماضی قریب میں کرناٹک اور ایم پی کی پولیٹیکل کرائسس ہم دیکھ چکے ہیں،
اسی طرح بی جے پی کے جو ایم ایل ایز ان سیکولر پارٹیوں میں شمولیت اختیار کررہے ہیں وہ غیر جانبدار ہوں گے، اسکا کون ٹھیکہ لیگا؟
سوال یہ بھی ہے کیا اویسی غیر جمہوری طور پر ہندوستان میں چناؤ لڑ رہا ہے؟پھر یہ سیکولر پارٹیاں ان سے اتحاد کیلئے تیار کیوں نہیں؟ کیا مسلمانوں کی ایک آواز کے ابھرنے کا خوف ہے، ہندوستانی مسلمانوں کے زوال کی داستان جب لکھی جائیگی تو بابری مسجد کو خشت اول قرار دیا جائیگا، اس خشت اول کو بھی تو ان سیکولر پارٹیوں نے ہی رکھا تھا جن پر اعتماد کرکے ہم نے آج تک اپنی قیادت مضبوط نہیں کی،چلئے اس الیکشن میں آپ کی فرمانبرداری کرتے ہوئے ہم مسلمانوں نے سیکولر پارٹیوں کو اپنا مکمل ووٹ دے دیا پر سپا پھر بھی مکمل اکثریت سے نہ جیت سکی تو مسلمان کہاں جائیں گے؟ اویسی کو تو پہلے ہی دھتکار چکے،
اس بات پر یقین رکھنا ہی ہوگا کہ کافروں کا سہارا سوائے ذلت ورسوائی کے اور کچھ نہیں دیگا، بے شک ہمیں مظالم سہنے پڑ رہے ہیں،زبان کھولنے پر این ایس آئے ہم پر لگائے جارہے ہیں،ہماری یونیورسٹیوں کے دروازے توڑے جارہے ہیں، لائبریریاں ویران کی جارہی ہیں، پر ابھی یہ ترقی کی منزلیں طے کرنے کے دن ہیں اگر ان دنوں میں ہم نے ظلم سہ کر،حالات کا سامنا کرکے، چند قربانیاں دے کر اپنی جماعت مضبوط کرلی اور اپنی صف میں اتحاد پیدا کرلیا تو یہ ساری پارٹیاں ہمارے سامنے گھٹنے ٹیکیں گی،اور پھر مستقبل ہمارا ہوگا، کاش کہ ہم اس حقیقت سے آگاہ ہوجائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے