جب نفرت’ محبت بن گئی۔۔۔۔ : – تابش سحر

Spread the love

جب نفرت’ محبت بن گئی۔۔۔۔
: – تابش سحر


وہ گھڑسواروں کا دستہ’ اپنے قائد و آقا کے حکم پر شہر سے نکل کر نجد کی جانب چل پڑا تھا۔نجد’ سازشوں اور شریروں کا گڑھ بنا ہوا تھا، جہاں بڑے بڑے دشمن اپنے محلّات میں آرام فرما تھے۔ گھڑسواروں نے بنو حنیفہ کے ایک شخص کو دھر دبوچا جس کا نام ثمامہ بن اثال تھا، صحرائے نجد کا شہزادہ، اپنی قوم کا بہادر و غیرت مند سردار!
زندگی کے کھیل بڑے نرالے ہوتے ہیں، یہ کب فرش سے عرش پر پہنچادے اور کب ثریا سے زمیں پر دے مارے کہا نہیں جاسکتا۔ کل تک ثمامہ سردار بن کر سرزمینِ نجد کے گوشے گوشے میں دندناتا پِھرتا اور آج بےبسی کا یہ عالم کہ شہرِ مدینہ کی مسجد کے ستون سے بندھا ہوا ہے۔ گھڑسواروں کے قائد و آقا فخرِ موجوداتؐ مسجد تشریف لائے، ثمامہ کے سامنے سے گزر ہوا تو فرمایا "تیرے پاس کیا ہے ثمامہ؟” ثمامہ گھبرایا نہیں، خوف زدہ نہیں ہوا، ذہانت و فصاحت کا بھرپور استعمال کرتے ہوے کہنے لگا "میرے پاس خیر ہے! آپ مجھے قتل کرتے ہیں تو {ازروئے انصاف} ایک خونی کو قتل کریں گے اور اگر معافی کا پروانہ جاری کرتے ہیں تو ایک شکرگزار انسان پر احسان ہوگا، اس کے علاوہ اگر مال چاہیے تو عرض کریں پیش کیا جائے گا۔ پیغمبرؐ نے کوئی جواب نہیں دیا اور آگے بڑھ گئے۔ دوسرے دن پھر گزر ہوا تو حضورؐ نے سوال دوہرایا اور ثمامہ نے جواب۔ تیسرے دن یہی سوال و جواب کا اعادہ ہوا مگر اب کی مرتبہ رحیم و کریم پیغمبر نے فرمان جاری کیا "ثمامہ کو رِہا کردیا جائے” حکم کی تعمیل ہوی۔ ایک بڑے دشمن کو بغیر کسی عوض اور مفاد کے آزاد کردیا گیا یہ شانِ پیغمبری تھی، محسنِ انسانیت کے عفو و درگزر کی ایک مثال تھی مگر آزاد ثمامہ نے اخلاقِ نبوّت سے متاثر ہو کر دل ہی دل میں درِ حبیب کی غلامی کا عہد کرلیا تھا وہ نجد کی جانب دوڑنے لگانے کے بجائے کھجور کے ایک باغ میں پہنچا، وہاں غسل کیا پھر دوبارہ مسجد آیا اور توحید و رسالت کی گواہی پیش کی۔
جہالت’ انسان کے اردگرد تعصب و توہم پرستی کے جال بنتی ہے، یہ جال بہت مضبوط ہوتا ہے مگر جب اس پر ادراک کی روشن کرنیں پڑتی ہیں تو جال کی مضبوطی ہوا ہوجاتی ہے، وہ تارِ عنکبوت سے بھی زیادہ کمزور ثابت ہوتا ہے، تاریں ٹوٹتی ہی نہیں بلکہ پگھل جاتی ہیں۔ یہ جہالت ہی تھی جس نے پیغمبرؐ کے تئیں ثمامہ کو متعصب بنادیا تھا، اسے روئے اطہر سے نفرت تھی، شہرِ مدینہ سے بغض تھا اور دینِ براہیمی سے بیزاری مگر جب سب کچھ قریب سے دیکھا تو جہالت کی ساری کاوشیں دھری کی دھری رہ گئی، بصارت و بصیرت نے اپنا کام کیا اور اس کے دل نے آواز لگائی کہ سب سے محبوب چہرہ’ پیغمبر کا چہرہ ہے، سب سے پسندیدہ شہر’ شہرِ مدینہ ہے، سب سے پسندیدہ مذہب’ دینِ براہیمی {اسلام} ہے۔ یہ اخلاق و کردار کا کرشمہ تھا کہ نفرت’ محبت میں تبدیل ہوگئی اور آگہی و ادراک نے جہالت کے اندھیروں کا خاتمہ کردیا تھا۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے