جمعیت علماء بیگوسرائے کی طرف سے مضمون نگاری وانشا پردازی کے مقابلے میں شرکت کرنے والے نوجوان علماء کی عزت افزائی! از قلم : نفیس احمد قاسمی ناگدوی

Spread the love

جمعیت علماء بیگوسرائے کی طرف سے مضمون نگاری وانشا پردازی کے مقابلے میں شرکت کرنے والے نوجوان علماء کی عزت افزائی!
از قلم : نفیس احمد قاسمی ناگدوی

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

ضلع بیگوسراے نے ایک خوش آئند قدم اٹھایا
نوجوان قلم کاروں کی خوابیدہ صلاحیتوں کو مہمیز لگانے، ان کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے انشاء پردازی اور مقالہ نگاری کا مسابقہ شروع کیا
الحمد للہ ضلع کے طلبہ و طالبات نے مختلف عناوین پر اپنی قلمی جولانی دکھائیں، اور قیمتی مقالے پیش کیے،راقم نے بھی "دین اسلام محاسن و خصائص” کے موضوع پر مقالہ نگاری کی اور اول پوزیشن سے کامیابی حاصل کی،
مساہمین کی حوصلہ افزائی اور انہیں گراں قدر انعامات سے نوازنے کے لیے بتاریخ 13 /1/ 2022
"جامعہ رشیدیہ مدنی نگر خاتوپور” میں ایک پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں ملک کے شہرہ آفاق عالم دین کثیر التصانیف، ملک کے طول و عرض میں منعقد ہونے سمیناروں میں شرکت فرما کر نت نۓ مسائل پر مقالات لکھ کر قوم و ملت کو نقوش راہ فراہم کرنے والے علمی و روحانی خانوادے کے چشم و چراغ "حضرت مولانا مفتی محمد اختر امام عادل صاحب قاسمی زید مجدہ” بانی و ناظم جامعہ ربانی منوروا شریف کی تشریف آوری ہوئی حضرت کو اس پروگرام میں مدعو کرنے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ حضرت کو ان کی تصنیفی خدمات کی بنیاد پر ایوارڈ سے نواز کر چادر پوشی اور دیگر اعزاز و اکرام کا معاملہ کیا جائے ۔
چنانچہ ضلع کے قدیم ترین عالم دین سابق ضلع صدر جمیعت علماء بیگوسراے جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے شیخ التفسیر "حضرت مولانا ادریس صاحب نیموی قاسمی نوراللہ مرقدہ” سے منسوب ایوارڈ سے نوازا گیا ضلع میں اس نوعیت کا یہ پہلا پروگرام تھا آئندہ بھی اس طرح کا سلسلہ جاری رہے گا انشاء اللہ
حضرت کا تعارف کراتے ہوئے سابق معین مدرس دارالعلوم دیوبند، ضلع صدر جمیعت علماء بیگوسراے و رکن الاتحاد العالمی لعلماء المسلمین دوحہ قطر "حضرت مولانا مفتی محمد خالد حسین نیموی قاسمی صاحب دامت برکاتہم” نے فرمایا قرآن مجید میں نبی پاک علیہ الصلاۃ والسلام کی ایک صفت "سراجا منيرا "بیان کی گئی ہے، ظاہری لفظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ چراغ سے کیوں تشبیہ دی گئی، چاند یا ستارے سے دینا چاہیے، لیکن اس لفظ کی معنویت پر غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ چاند سے چاند نہیں جلا کرتا، لیکن ایک چراغ سے کئی چراغ جلتے ہیں، چناچہ تاریخ نے مشاہدہ کیا کہ چراغ مصطفوی سے ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں فرزندان توحید نور ایمانی سے منور ہوۓ، علوم نبوت سے کسب فیض کرکے عرب و عجم کو علوم نبوت کی ضیاپاش کرنوں سے منور کیا،
بعض شخصیات ایسی ہی ہوتی ہیں، جن سے ایک دنیا فیضیاب ہوتی ہے، انہیں میں سے ایک شخصیت مفتی اختر امام عادل صاحب کی بھی ہے ، جو متنوع اوصاف و کمالات کے مالک ہیں ، جن کی علمی،تحقیقی ،ادبی ،اور فقہی خدمات سے قوم و ملت بہرور ہو رہی ہے۔
تعارفی کلمات کے بعد، حضرت مولانا مفتی محمد اختر امام عادل صاحب نے علماء و دانشوران کو قیمتی باتوں سے سے سرفراز کیا، آپ نے فرمایا کہ اپنے بڑوں کی خدمات جلیلہ پر اعزاز و اکرام ایوارڈ یا دوسری چیزوں کی شکل میں حوصلہ افزائی کا جو سلسلہ آج رائج ہے اس کا ثبوت ہمیں نبی پاک علیہ الصلاۃ والسلام کی حیات مبارکہ سے بھی ملتا ہے، کہ آپ نے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مختلف مواقع پر غیر معمولی خدمات کی بنیاد پر غیر معمولی خطابات سے نوازا ہے، مثلاً حضرت عمر کے بارے میں فرمایا "اشدهم في امر الله عمر” حضرت علی کے بارے میں فرمایا "أقضي هم على” اسی طرح "غزوہ موتہ” کے موقع پر جب وہ امراء لشکر شہید ہو گئے، جن کو نبی پاک علیہ الصلاۃ والسلام نے مقرر کیا تھا، پھر حضرت خالد بن ولیدؓ نے زمام کمانڈری اپنے ہاتھ میں لی، دشمن کو تہ تیغ کرتے ہوئے مسلمانوں کے لشکر کو بحفاظت واپس لے آئے، تو اس موقع پر ان کی غیر معمولی خدمات کی بنیاد پر آپؐ نے انہیں "سيف من سيوف الله” کے خطاب سے نوازا
نبی کی زبان اقدس سے نکلے ہوئے خطابات سے بڑھ ان کے لئے اور کیا ایوارڈ ہو سکتا ہے، لہٰذا اس عمل کا جواز یہیں سے معلوم ہوتا ہے۔
اسی طرح مفتی صاحب نے فرمایا کہ علماء کو حدیث میں کہیں بھی "ورثة النبي” نہیں کہا گیا؛ بلکہ "ورثة الانبياء” فرمایا، اس میں خاص بات یہ ہے کہ سابقہ نبیوں کی شریعتیں اگر چہ منسوخ ہو گئیں؛ لیکن کیفیت اور مزاج نبی منسوخ نہیں ہوا، اس کی ضرورت ہر زمانے میں ہوگی کبھی مزاج موسوی کی ضرورت در پیش ہوگی، تو کبھی مزاج عیسوی کی اور اس کی نشاندہی اس وقت کے عالم دین کریں گے، اسی لیے "العلماء ورثۃ الانبیاء” فرمایا
اخیر میں "مسند دیلمی” کے حوالے سے فرمایا عبد اللہ ابن مبارکؒ نے کہا عوام میں خرابیاں خواص کے ذریعے آتی ہیں اور وہ پانچ لوگ ہیں
(1)زاہدین میں اگر دنیا کی رغبت پیدا ہو جاۓ، تو لوگ کن سے ہدایت حاصل کریں گے
(2)علماء اگر ان میں حرص و طمع اور لالچ جیسی مذموم صفت ہو، تو لوگ کن کے پیچھے چلیں گے
(3) تجار اگر ان میں خیانت آ جائے، تو لوگ اپنے معاشی استحکام کے لیے کن پر اعتماد کریں گے
(4)ولاۃ یعنی حکام جنہیں رعاۃ کہا گیا اگر وہ اپنی ذمہ داری کا احساس نہ کریں تو لوگ فریاد رسی کے لئے کہاں جائیں گے
(5)مجاہدین اگر ان میں ریاکاری آ گئی تو لوگ کس پر امید کریں گے
پھر آپ نے فرمایا کہ اس زمانے میں یہ پانچوں خرابیاں خواص میں پائی جا رہی ہیں تو پھر عوام کی خرابی کا رونا کیوں رویا جاۓ
جمیعت علماء بیگوسراے کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا صابر نظامی صاحب قاسمی ادام اللہ فیوضہم نے کہا کہ ہمیں زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ آپ نے گونا گوں مشغولیات کے باوجود ہم اراکین جمیعت کی دعوت نہ صرف یہ کہ قبول کیا؛ بلکہ حاضری کی سعادت بخش کر شرف لقا کے ساتھ ساتھ اپنے علوم و معارف سے فیضیابی کا موقع فراہم کیا، ہم اس کے لیے بے حد شکر گذار ہیں، بارگاہ ایزدی میں دست بدعاء ہیں کہ باری تعالٰی آپ کی علمی، تحقیقی، فقہی، ادبی، اور روحانی فیضان کو چہاردانگ عالم میں عام اور تام فرماۓ
ضلع جمیعت کے نائب صدر، اپنی قلمی کاوش سے مختلف حساس موضوعات پر خامہ فرسائی کرنے والے بے انتہا زود نویس "حضرت مولانا مفتی عین الحق امینی قاسمی صاحب مد ظلہ العالی” نے مفتی اختر امام عادل صاحب کی گفتگو پر اپنے قیمتی تأثرات کا اظہار "متنبی” کے اس شعر سے کیا
یا لیل طل یا صبح قف
کاش مفتی صاحب اسی طرح اپنے علمی گفتگو کو جاری رکھتے اور ہم اپنی جھولی میں علمی لعل و گہر سمیٹتے رہتے،
تشنگی جم گئی پتھر کی طرح ہونٹوں پر
ڈوب کر بھی تیرے دریا سے پیاسا نکلا

پروفیسر شمیم باروی صاحب نے بھی اپنے عمدہ خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ہیرا جس پتھر سے بنتا ہے وہ بہت سخت ہوتا ہے، لیکن جب اسے اچھی طریقے سے تراش خراش کیا جاتا ہے، تو وہ بہت قیمتی ہوتا ہے، اسی طرح مدارس اسلامیہ میں علوم نبوت سے اپنے سینے کو معمور کرنے والے طلبہ بھی بڑی قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کو بھی اچھے سے تراشا جاۓ، تو یہ قوم و ملت کے لئے بڑے نفع بخش ثابت ہوں گے۔
اس موقع پر ریاستی یونٹ جمیعت علماء بہار کے نیابتی صدارت کے عہدہ پر فائز ہونے والے ضلع بیگوسراے کے قدیم فاضل ،جمیعت علماء ہند سے دیرینہ تعلق رکھنے والے "حضرت مولانا سید مکرم الحسینی صاحب قاسمی اطال اللہ عمرہ” کو بھی استقبالیہ پیش کیا گیا ،
بڑی ناسپاسی ہوگی، اگر حضرت مولانا فرحان صاحب راہی امام و خطیب ٹاؤن شپ اور حضرت مولانا خلیل الرحمن صاحب کا شکریہ نہ ادا کیا جائے، جنہوں نے کنوینر شپ کے فرائض انجام دیے، اسی طرح حضرت مولانا فیروز صاحب کا بھی، جنہوں نے تمام مہمانان عظام کا پر تپاک اور گرم جوشی سے استقبال، اور بہت بہتر انتظام و انصرام کیا،اسی طرح اراکین جمیعت ، معاونین و مخلصین خصوصاً ضلع صدر و نائب صدر اور جنرل سکریٹری صاحبان کا، جنہوں نے نوجوان قلم کاروں کو اپنی قلمی لعل و گہر بکھیرنے کے لیے اس نوعیت کے پروگرام کا آغاز فرمایا، اللہ آپ حضرات کے سایہ عاطفت کو تادیر قائم دائم رکھے،
شرکاء مجلس میں حضرت مولانا عبد المجید اسحاق قاسمی صاحب، حضرت مولانا ضیاء الرحمن قاسمی صاحب، حضرت مولانا مفتی محمد داؤد مظاہری صاحب حضرت مولانا زین العابدین صاحب، قاری قیوم صاحب پروفیسر شمیم باروی صاحب، جناب ماسٹر مبین اختر صاحب ، جناب مقبول عالم صاحب، اور بھی ضلع کے مؤقر و مقتدر حضرات علماء کرام نے شرکت کیں

اللہ ہم سبھوں کا حامی و ناصر ہو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے