سوریہ نمسکار! مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

Spread the love

سوریہ نمسکار!
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ


ملک کی پچہترویں یوم آزادی کے موقع پر حکومت ہند کے ذریعہ تمام اسکولوں میں سوریہ نمسکار کو متعارف کرانے کامتعصبانہ فرمان ملک کے مسلمانوں اور سیکولر عوام کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے ۔ خاص کر مسلمانوں کے عقائد سے ٹکرانے کی وجہ کرمسلم طلبہ اور ان کے گارجینوں میں شدید اضطراب پایا جا رہا ہے ، مسلم قائدین اس زعفرانی فرمان کے خلاف حرف احتجاج بلند کر رہے ہیں ۔
ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے، جس کا آئین سیکولر بنیادوں پر بنایا گیا ہے ، جس کا مطلب ہے کہ کسی بھی ایک مذہب کو اس ملک میں آئینی و دستوری طور پر فوقیت نہیں دی جائے گی اور اس کے رسم و رواج اور احکامات کو ملک کے شہریوں کے لیے لازم نہیں کیا جائے گا؛ بلکہ ہر شخص کو اپنے لیے اپنا پسندیدہ مذہب و عقیدہ اختیار کرنے اور اس کے رسم و رواج پر چلنے کی آزادی ہو گی ۔
یہی وجہ ہے کہ آزادی کے بعد سے ملک میں بننے والے قوانین و ضوابط ، منصوبوں اور پالیسیوں میں آئین کے اس بنیادی اقدار کا ہمیشہ خیال رکھا گیا ۔ آزادی کے بعد سے جتنی تعلیمی پالیسیاں بنیں یا نصاب تیار کیے گئے، ان سب میںیہ بنیادی عنصرکے طور پر ملحوظ رہا ۔ مگر ملک کی ایک جماعت جس کو یہ سیکولر اقدار کبھی ہضم نہیں ہوئے اور وہ اس ملک کو ایک خاص مذہب و عقیدے کا پابند بنانے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہی ۔ ۲۰۱۴ء میں جب بی جے پی کی قیادت میں اس جماعت نے پوری اکثریت کے ساتھ زمام اقتدار اپنے ہاتھ میں لیا، تو وہ اس ایجنڈے کی تکمیل میں لگ گئی اورپورے ملک کو زعفرانی رنگ میں رنگنے کی قواعد شروع کردی ۔ تعلیمی پالیسی کا بھگوا کرن اور تعلیمی نظام کو ہندتو کے عقیدے اور آستھا کی بنیاد پر چلا نا اس کے اولین ایجنڈے میں شامل ہے ۔ اسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے اس نے پورے ملک میں نئی قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰ء لاگو کرنے کا فیصلہ کیا ، جو مکمل طور پر ہندوتو کی ترجمان ہے اور قدیم سناتنی روایات کو مد نظر رکھ کر بنائی گئی ہے ۔نئی قومی تعلیمی پالیسی میں جو سفارشات کی گئی ہیں اسکو عملی جامہ پہنائے جانے کا کام شروع ہو چکا ہے ۔ یکم جنوری ۲۰۲۲ء سے تیس ریاستوں کے تقریباً تیس ہزار اسکولوں میں سوریہ نمسکار کو متعارف کرانے اور یوم جمہوریہ ۲۶؍ جنوری ۲۰۲۲ء کے موقعہ پر طلبہ و طالبات کے ذریعہ سوریہ نمسکار پر مشتمل تقریب کے انعقاد کا فیصلہ اسی کی ایک کڑی ہے۔ حکومت کا یہ اقدام آئین کے بنیاد ی اقدار کی سراسر خلاف ورزی اور مسلمان طلبہ و طالبات کے لیے ناقابل قبول ہے۔ مسلمان اللہ کے علاوہ کسی بھی جاندار یا بے جان شئی کی عبادت و پوجا نہیں کر سکتا ۔ سوریہ نمسکار کا جو طریقہ ہے وہ گویا سورج کی عبادت کرنے ہی کے مترادف ہے ۔ جو ہمیں کسی بھی صورت میں منظور نہیں ہے، اس لئے حکومت ہند سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ اس حکم نامہ کو فوراً واپس لے اور اس کو اسکولوں میں نافذ کرنے سے باز آئے ۔ تمام مسلم طلبہ و طالبات سے ہم امید رکھتے ہیں کہ اگر ان کے اسکولوں میں سوریہ نمسکار کا پروگرام ہوتا ہے تو وہ ہرگز اس میں شریک نہیںہوںاور نہ اس طرح کی کسی بھی تقریب میں حصہ لیںگے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ملک کی عوام کو اس طرح کے فضول مسائل میں الجھانے کے بجائے حقیقی مسائل کی طرف توجہ دے ، مہنگائی اور بے روزگاری کی روک تھام ، سرحدوں کی حفاظت ، ملکی اثاثوں کے تحفظ جیسے مسائل پر اپنی توجہ صرف کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے