قرآن پر ہی اعتراض کیوں؟ یاسر ندیم الواجدی

Spread the love

 

قرآن پر ہی اعتراض کیوں؟
یاسر ندیم الواجدی

چند ماہ پہلے ملعون زمانہ جتیندر نارائن سنگھ تیاگی (سابقہ وسیم رضوی) نے قرآن کریم کی 26 آیتوں پر یہ کہہ کر اعتراض کیا تھا کہ ان سے دہشت گردی کو فروغ ملتا ہے۔ اپنے اس جاہلانہ اور مضحکہ خیز دعوے کو پختہ کرنے کے لیے وہ سپریم کورٹ تک جا پہنچا تھا، جہاں سے اس کو مایوسی کے علاوہ کچھ ہاتھ نہ آیا۔ ہمیں یہ اندازہ تھا کہ اس نفرت انگیز کام میں وہ تنہا نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے ہندوتوا وادی طاقتیں ہیں۔ ہم نے انہی دنوں ایک ویڈیو بنائی تھی جس میں یہ ثابت کیا تھا اگر قرآن کی 26 آیتوں پر اعتراض ہے، تو ہندو ازم کی کتابوں میں بھی کم ازکم 26 اشلوک تو ایسے ملتے ہی ہیں کہ جن پر یہی اعتراض کیا جا سکتا ہے، اس ویڈیو میں ہم نے ان 26 آیتوں میں سے ہر آیت کے مقابلے میں اس سے ملتا جلتا اشلوک دکھایا تھا۔ اس وقت کچھ احباب کو یہ اعتراض ہوا تھا کہ اس معاملے میں ہندو ازم کو بیچ میں لانے کی کیا ضرورت تھی، لیکن وقت نے ثابت کردیا کہ جتیندر سنگھ تیاگی کا خمیر فتنہ وفساد کے اسی مادے سے تیار ہوا ہے جو ہندوتوا کی بنیاد ہے۔

ہماری اس ادنیٰ سی کوشش کو نوجوان فاضل مولانا محمد جنید نے ہندی میں قلم بند کیا اور اس کے بعد ایک شاندار تحقیقی مقدمہ لکھا، جس نے اس کتاب کی نافعیت کو بڑھا دیا۔ مولانا جنید صاحب ہندو ازم پر تحقیقی مطالعے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جانے جاتے ہیں، مجھے امید ہے کہ آگے چل کر وہ دعوت دین کے میدان میں کارہائے عظیم انجام دیں گے۔

ہندو لٹریچر سے مواد تلاش کرنے میں، مجھے تہافت الملاحدہ پروگرام کے ایک ہونہار طالب علم جناب طارق عزیز کا تعاون بھی مسلسل ملتا رہا۔ وہ بھی اس میدان کے ابھرتے ہوے ستارے ہیں۔ اللہ تعالی ان دونوں حضرات کو جزائے خیر دے کہ ان کی محنتوں اور توجہات کے نتیجے میں راقم کی یہ کتاب پی ڈی ایف کی شکل میں پیش کی جارہی ہے۔ اس کتاب کا مقصد اس کے نام سے ہی واضح ہے کہ وہ برادران وطن جو فتنہ پروروں کے فتنے کا شکار ہوگئے ہیں اور قرآن کو قرآن کے دشمنوں سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ جنگ کے احکامات ہر مذہب کا جزو لاینفک ہیں۔ اگر اسلام دشمنوں کے طے کردہ معیار کے مطابق انہیں قرآن پر اعتراض ہے، تو پھر انہیں ہندوازم کی مقدس کتابوں پر بھی اعتراض ہونا چاہیے۔

کتاب کو آرکائیو پر اپلوڈ کر دیا گیا ہے، لنک ذیل میں موجود ہے۔ امید ہے کہ آپ اس کتاب کو پڑھ کر مشوروں سے نوازیں گے اور اس کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے میں تعاون بھی کریں گے۔

واضح رہے کہ اس کتاب کو شائع کرنے کی عام اجازت ہے۔
Mohd Junaid

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے