قومی ریاست میں اقلیت اور اکثریت کی تقسیم کیوں؟ تحریر : مسعود جاوید

Spread the love

قومی ریاست میں اقلیت اور اکثریت کی تقسیم کیوں؟
تحریر : مسعود جاوید

ہندوستانی مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان لفظ اقلیت سے ہوا ہے۔ ہندوستان جب ایک قومی ریاست ہے نہ کہ مذہبی ریاست تو پھر اقلیت اور اکثریت اور ہندو و غیر ہندو کی تمیز کیوں؟ بلا تفریق مذہب و تعداد یہ ملک سب کا ہے۔
آپ کہیں گے اقلیتوں کے لیے خصوصی مراعات کی خاطر یہ اصطلاح وضع کیا گیا ہے ۔ لیکن اسی خصوصی مراعات نے اقلیتوں کو ، دستوری طور پر نہیں تو عملی طور پر، کہیں نہ کہیں کمتر درجے کا شہری بنایا ہے۔ اس احساس اور عمل کو ختم کرنے کے لئے اقلیت اور اکثریت کی اصطلاح مٹانا ہوگا۔
خصوصی مراعات اور ریزرویشن میں بھی مسلمانوں کا المیہ یہ ہے کہ مسلمان اقلیت تو ہے مگر مسلمان ہونے کی وجہ سے انہیں کوئی خصوصی مراعات نہیں دی جاتی۔ اس لئے کہ دستور ہند کے بموجب مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیازی سلوک – مثبت یعنی اس کے لئے خصوصی مراعات یا منفی یعنی مذہب کی بنیاد پر کسی کے دستوری حق یا مراعات میں کمی نہیں کی جاسکتی۔
خصوصی مراعات کا پیکج اقلیتوں کے لیے ہوتا ہے تو اس سے مستفید سبھی اقلیتیں ہوتی ہیں۔ لیکن مسلمان اپنی کاہلی اور قیادت کی عدم توجہی کی وجہ سے سب سے کم مستفید ہوتے ہیں۔ دوسری اقلیتیں عیسائی، سکھ، جین، بودھ اور پارسی زیادہ مستفید ہوتی ہیں اس لئے کہ ان کی قیادت مراعات کے تعلق سے سرکاری اسکیموں کے بارے میں بروقت اپنے مستحق افراد کو نہ صرف باخبر کرتی ہے بلکہ ان مراعات کے حصول کے لئے درخواست آن لائن آف لائن اور دیگر کاغذی کارروائی متعلقہ حکام سے رابطہ اور محکموں میں معاون ہوتی ہے۔
اقلیتوں کے تعلیمی اداروں کا قیام کے لئے فنڈ، اقلیتوں کے طلباء کے لئے اسکالر شپ اور اقلیتوں کے طلباء کے لئے ہاسٹل وغیرہ کی سرکاری اسکیموں سے مستفید ہونے میں مسلمان بہت پیچھے ہوتے ہیں۔
ہسپتال اور نرسنگ ہوم کے لئے سرکاری اراضی الاٹمنٹ کرانے میں پیچھے ہوتے ہیں۔
اسکول کے لئے سرکاری اراضی بالخصوص وقف کی اراضی حاصل کی جا سکتی ہیں۔ لیکن افسوس دہلی میں بعض اثر و رسوخ والوں نے وقف کی اراضی پر اچھے معیاری انگلش میڈیم اسکول بنایا تو مگر اس سے غریب مسلمان کے بچے اور بچیاں اس لئے مستفید نہیں ہو پاتے کہ ان کی فیس دیگر انگلش میڈیم پرائیویٹ اسکول سے زیادہ ہوتی ہے اور ان کے ارباب حل و عقد کا رویہ بالکل تجارتی ہوتا ہے۔

پچھلے کئی سالوں سے مسلمانوں کو زک پہنچانے اور سیاسی پارٹیوں کے سربراہوں کو مسلمانوں کے مسائل پر کچھ بھی بولنے سے روکنے کے لئے ایک اصطلاح ” اقلیت خوشنودی” مسلم منہ بھرائی” کا بیانیہ اتنی شدت سے چلایا گیا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہان مسلمانوں کے جائز مطالبات پر بات کرنے سے بھی گریز کرنے لگے۔ اس کے لئے کسی حد تک وہ مسلم لیڈر بھی ذمے دار ہیں جو مسلمانوں کے لیڈر بننے کی ہوس میں تعمیر و ترقی کے عام اور روٹین کام کا سہرا بھی اپنی پارٹی اور اپنے سر باندھتے رہے ہیں۔
اگر کسی علاقے، محلے اور کالونی میں سڑک ، بجلی ، سیور، کمیونٹی ہال وغیرہ کی ضرورت ہے تو اس قسم کے رفاہی کاموں کے لئے حکومت بلا تفریق مذہب فنڈ الاٹ کرتی ہے۔ اس علاقے کے ممبر پارلیمنٹ اور ممبر اسمبلی کو لوکل ایریا ڈیولپمنٹ فنڈ دیا جاتا ہے جس سے وہ اس طرح کے کام کراتے ہیں۔ لیکن مسلم اکثریتی علاقوں میں اگر یہ کام ہوتا ہے تو اسے اس طرح پیش کیا جاتا ہے جیسے اس حکومت یا فلاں لیڈر کی مہربانی سے یہ کام ہوا۔ گندی سیاست کی ایک روش یہ بھی ہے کہ انتخابات ہونے سے کچھ قبل اس طرح کے کام کراۓ جاتے ہیں تاکہ کیش کرایا جا سکے اور ووٹروں کے ذہن میں ان کی ” مہربانیاں” تازہ رہے۔
جبکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ مسلمانوں یا کسی مذہبی فرقہ کے لئے کوئی کام نہیں کیا جاتا ہے۔ سڑک بجلی پانی سیور کمیونٹی ہال وغیرہ سے مستفید اس علاقے کے باشندے ہندو مسلمان سکھ عیسائی اونچی ذات نیچے ذات سب ہوتے ہیں اور یہ کام کسی حکومت یا لیڈر کا احسان نہیں بلکہ ہمارے ٹیکس کی رقم کو ضرورت کی جگہ استعمال کرنا ہے۔

اس لئے مسلمانوں کے لئے یہ کیا اور وہ کیا جیسے گمراہ کن بیانیے کو رد کرنا چاہیۓ اور بحیثیت قومی ریاست کے شہری کے مذہبی شناخت کے بغیر اپنے حقوق حاصل کرنا چاہیۓ۔
یہ اچھا ہوا کہ مسلمانوں کو بے وقوف بنانے والی علامتی حرکتیں رمضان المبارک میں افطار پارٹی، سر پر مسلم ٹوپی اور مزارات پر حاضری بند ہوئیں۔ ہندوستان ایک سیکولر جمہوری ملک ہے اور اس نظام میں رواداری کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ دوسرے مذاہب کے لوگ ہمارے مذہبی شعائر کو اپنائیں مساجد میں جاکر سجدہ کریں، روزے رکھیں ،ٹوپی پہنیں، اللہ اکبر کا نعرہ لگائیں یا مزارات پر چادر چڑھائیں۔ نہ ہم مسلمانوں سے یہ تقاضا ہے کہ ہم دیگر مذاہب کے شعائر کو اپنائیں، ٹیکہ لگائیں، کلائی پر دھاگے باندھیں، آرتی اتاریں، پوجا ارچنا کریں یا سورج کو نمسکار کریں۔
یہ ملک ایک #قومی ریاست nation state ہے نہ کہ theocratic state #مذہبی ریاست۔ اس اعتبار سے مذہب کی بنیاد پر بھید بھاؤ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح سیکولرازم کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ یہاں کا ہر شہری دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے عقائد کا احترام کرتے ہوئے اپنے عقیدے کی آزادانہ اتباع کرے۔
سیکولرازم کے اس مفہوم کی غلط ترجمانی یا اپنے مذہب کی بالادستی اور غلبہ کی باتیں کرنا خواہ مسلمانوں کی جانب سے ہو یا کسی اور مذہب کے پیروکاروں کی جانب سے ، قومی ریاست اور دستور ہند کے منافی ہے۔ ہمارا مذہب کوئی بھی ہو ہم ہندی قوم ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے