موسم کا قہر! مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

Spread the love

موسم کا قہر!
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ


دسمبر اور جنوری کے مہینے سخت ٹھنڈ کے لیے مشہور ہیں، کپکپانے والی سردی ، یخ بستہ ہوائیں، انسان کوٹھٹھرا کر رکھ دیتی ہیں، زندگی رک سی جاتی ہے، کہاسے کی وجہ سے گاڑیوں پر بریک لگ جاتی ہے اورہوائی سروسیں متاثر ہوتی ہیں، ہندوستانی ریل تاخیر سے چلنے میں دنیا میں اپنی ایک شناخت رکھتی ہے، کہاسے کی وجہ سے تاخیر کے ساتھ چلنے والی ٹرینوں کو کثرت سے رد کیا جاتا ہے، سروس معطل ہونے کی وجہ سے پریشانیوں میں اضافہ ہو تا ہے او رنقل وحمل میں دشواریاں پیش آتی ہیں۔
یہ موسم مزدوروں، مفلسوں اور غریبوں کے لیے بڑا سخت ہوتا ہے، ان کے پاس پہننے اوڑھنے کے لیے مناسب کپڑے نہیں ہوتے، ٹھنڈک کو بر داشت کرنا ان کے لیے جان جوکھم میں ڈالنے کے مترادف ہوتا ہے، کثرت سے اموات ہوتی ہیں اور خاندان اجڑ جاتا ہے ۔
ایسے موقعوںسے اسلامی تعلیمات یہ ہیںکہ جن کو اللہ نے مال ودولت سے نوازا ہے اور جن کے پاس ٹھنڈ کا مقابلہ کرنے کے لیے وافر سامان موجود ہے، وہ ان غریبوں ، بے کسوں کی بھی خبر گیری کریں، ان کی ضرورتوں کا خیال رکھیں اور ان کے راحت وآرام کے لیے فکر مند ہوں، پڑوس میں کوئی ٹھنڈ سے پریشان نہ ہو ،یہ تو پڑوسیوں کے حقوق کے تحت آتا ہے، لیکن اس دائرہ کو وسائل کے اعتبار سے وسیع سے وسیع ترکرنا چاہیے، اور زیادہ لوگوں تک پہونچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
امارت شرعیہ بہار اڑیسہ وجھارکھنڈ کی فکر مندی اس سلسلے میں مثالی رہی ہے، ہر سال ہزاروں کی تعداد میں تینوں صوبوں کے غرباء میں کمبل کی تقسیم کی جاتی ہے، اس کام کے لیے امارت شرعیہ کے پھیلے ہوئے نیٹ ورک کا استعمال کیا جاتا ہے، نقباء امارت شرعیہ ، ذیلی دفاتر اور قضاۃ حضرات کے توسط سے گاؤں گاؤں تک کمبل پہونچایا جاتا ہے، پھر بھی ہمارا احساس ہے کہ وسائل کی قلت کی وجہ سے جس بڑے پیمانے پر لوگوں تک ہمیں پہونچنا چاہیے، ہم نہیں پہونچ پاتے ہیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر گاؤں میں کچھ لوگ کھڑے ہوں اور مقامی آبادی کا سروے کرکے وہاں کے مالداروں کو اس کام پر ابھاریں ان سے وسائل حاصل کریں اور غرباء تک پہونچائیں۔ تُؤْخَذُ مِنْ اَغْنِیَائِھِمْ وَتُرَدُّ عَلَی فُقَرَائِھِمْ ان کے مالداروں سے لو اور وہاں کے محتاجوںتک پہونچاؤ۔
امارت شرعیہ نے اپنی سطح سے یہ کام شروع کر دیا ہے ، اور غرباء تک کمبل پہونچا یا جا رہا ہے، لیکن ضرورت ہے کہ اہل خیر حضرات اس کام کے لیے متوجہ ہوں اور بیت المال امارت شرعیہ میں خاص اس کام کے لیے رقم فراہم کرائیں تاکہ امارت شرعیہ راحت رسانی کا کام بڑے پیمانے پر کر سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے