نام‌ میں کیا رکھا ہے ؟ بہت کچھ! تحریر: مسعود جاوید

Spread the love

 

نام‌ میں کیا رکھا ہے ؟ بہت کچھ
تحریر: مسعود جاوید

بہار میں راشٹریہ جنتا دل، اور اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی یادوؤں کی پارٹی ہے اسی طرح بہوجن سماج پارٹی کا قیام دلتوں کے لئے عمل میں آیا لیکن کیا نام سے آپ یہ تمیز کر سکتے ہیں کہ یہ پارٹیاں کن برادریوں کی تعمیر و ترقی کے لئے وجود میں آئیں؟ ظاہر ہے نہیں۔
مگر مجلس اتحاد المسلمین گرچہ تمام مسلمانوں کی پارٹی نہیں ہے پھر بھی نام سے ہی اعلان ہو رہا ہے کہ یہ مسلمانوں کی پارٹی ہے !
اویسی صاحب جب اس پارٹی کی توسیع تلنگانہ سے باہر کرنا چاہتے ہیں بلکہ کر چکے ہیں اور تمنا ہے کہ یہ توسیع متعدد ریاستوں تک پہنچے اور اس کی حیثیت کل ہند سیاسی پارٹی کی ہو تو۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ سب سے پہلی ضرورت اس کے نام کی تبدیلی کی ہے۔

شاید یہ کام کرنا ان کے لئے مشکل ہوگا اس لئے کہ مسلمان ایک جذباتی قوم ہے اور مذہب، مذہبی شعائر، نعرہ تکبیر اور ماضی کے کارناموں کا ذکر کر کے ان کا استحصال کرنا آسان ہوتا ہے۔ تعلیمی اور اقتصادی بہتری کے لیے تعمیری سرگرمیاں ، ملک و ملت کے لئے افراد سازی کی مہم کی باتوں میں ان کے لئے کوئی خاص کشش نہیں ہوتی۔
ہاں زبانی جمع خرچ اور مقابلہ آرائی کی باتیں بہت پسند آتی ہیں اور ان موضوعات پر بحث ومباحثہ میں مسلمان بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو کانگریس پارٹی ہی ایک ایسی پارٹی ہے جو جاتیہ برادری ، علاقائیت اور مذہب کی بنیاد پر امتیاز کرنے سے بہت حد تک بچی ہوئی ہے اور یہی ایک پارٹی ہے جو صحیح معنوں میں کل ہند پارٹی ہے۔
پرفیکٹ تو کوئی پارٹی نہیں ہے۔ کانگریس پارٹی میں بھی بہت ساری خامیاں اور کمیاں ہیں اور کئ ایسے مواقع آئے جب چوٹی کی قیادت فرقہ پرست عناصر کے حصار میں آگئی اور غلطیاں کر بیٹھی۔ لیکن اس کے باوجود اس پارٹی کا سیکولرازم کے تئیں کمٹمنٹ فرقہ پرست عناصر کو ہمیشہ کھٹکتا رہا اور اسی لئے زبردست اسٹریٹجی کے تحت انا ہزارے ٹیم ، کرپشن فری انڈیا اور لوک پال کی تشکیل کے نعروں کے پردے میں کانگریس مکت بھارت کے منصوبے پر عمل شروع ہوا اور بالآخر ٢٠١٤ میں اسے شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا۔
سیکولرازم کو کمزور کرنا دستور کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ اور اقلیتوں کمزوروں اور پسماندہ طبقات کے لئے مساوات کے ساتھ باعزت زندگی کے ضامن یہی دستور اور سیکولرازم ہے۔ جتنی شدت سے کانگریس کو نشانہ بنایا جاتا ہے کیا آپ نے فرقہ پرست عناصر کو علاقائی سیکولر پارٹیوں کے خلاف اتنی شدت سے بولتے ہوئے سنا ہے !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے